سیاستدانوں کو فوج کا شکر گزار ہوناچاہئے۔۔۔ 23-02-2013

kal-ki-baat
ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل عاصم سلیم باجوہ کو یہ وضاحت کیوںکرنی پڑی ہے کہ فوج آزادانہ غیر جانبدارانہ اور بروقت انتخابات چاہتی ہے ؟ انہیںیہ بات کیوںکہنی پڑی ہے کہ انتخابات کے التواءسے فوج کو کچھ حاصل نہیںہوگا ؟ اور” فوج کیوںچاہے گی کہ پانچ برس تک جمہوریت کی بھرپور حمایت کرنے کے بعد اچانک جمہوری تسلسل کے راستے میں رکاوٹ بن جائے ؟“
میں یہ سوالات یہاں اس لئے اٹھارہا ہوں کہ ملک کے مستقبل کے ساتھ اِن کا گہرا تعلق ہے۔
پاکستان کو بار بار ایسے حالات سے گزرنا پڑا ہے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوتے رہے کہ ملک کو جس قدر سنگین بحران کا سامنا آج ہے پہلے کبھی نہیںتھا۔ یہ جملہ اب تو ہماری سیاسی پہچان بن چکا ہے ۔ اورستم ظریفی کی بات یہاں یہ ہے کہ ہمارے ملک کا ہر نیا بحران پچھلے بحران سے زیادہ سنگین تر رہا ہے۔ اگر آج بہت ساری آوازیں یہ کہتی سنائی دے رہی ہیں کہ ہم اپنی تاریخ کے سنگین ترین بحران سے گزررہے ہیں تو یہ کوئی ” اوورسٹیٹمنٹ “ نہیں۔ اگر اس بیان میں صداقت نہ ہوتی تو خود ہمارے آرمی چیف بڑے غیر بہم الفاظ میں یہی بات کچھ عرصہ پہلے کہہ نہ چکے ہوتے۔
ایسے حالات میں اگر اس قسم کا پروپیگنڈہ سیاسی حلقوں سے شروع ہوجائے کہ دراصل فوج ایک بار پھر اپنے اقتدار کے لئے راستہ ہموار کررہی ہے تو کیا فوج اپنی طرف سے ویسی وضاحت جاری نہیں کرے گی جیسی وضاحت میجرجنرل عاصم سلیم باجوہ نے جاری کی ہے؟
میرے خیال میں گزشتہ تین چار برس سے کسی بھی وقت اگر جنرل کیانی ” میرے عزیز ہم وطنو “ کی صدا بلند کردیتے تو یہ قوم یوم نجات منانے اور شکرانے کے نفل ادا کرنے میں ذرا بھی تامل نہ کرتی۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہماری ” جمہوری “ حکومتوں کی کارکردگی اتنی اچھی ہوا کرتی ہے کہ انہیں رخصت کرنے کے لئے فوج کو ” کوئی خاص راستہ “ ہموار کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ اگر جمہوریت کے ثنا خواں اقتدار پر قابض رہناچاہتے ہیں تو انہیں ” حمایت “ کے لئے واشنگٹن کی نہیںعوام کی خوشنودی کو اپنی ” ترجیح “ بناناہوگا۔ ورنہ وہ وقت شاید بہت دور نہیں جب ملک میں ایک منظم عوامی تحریک ان سیاستدانوں سے نجات کے لئے چلے جنہوں نے جمہوریت کے نام پر اس ملک کواپنی شکار گاہ بنا رکھا ہے۔
سیاستدانوں کو فوج کا شکر گزار ہوناچاہئے۔

Scroll To Top