قوم کے بہترین مفاد میں کچھ لو اور کچھ دو ۔۔۔!

aaj-ki-baat-newکاش کہ ہم جانتے کہ ہمارے حکمرانوں نے قوم کے ساتھ ایک سنگین مذاق کا سلسلہ کیوں قائم رکھا ہوا ہے۔ اگر ایسا نہیں اور ہمارے حکمران جان بوجھ کر قوم کو بے وقوف نہیں بنا رہے تو پھر جو کچھ ہورہا ہے اس سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیاجاسکتاہے کہ قدرت اس قوم کو اس کی کوتاہ نظریوں ` خود فریبیوں ` ناعاقبت اندیشیوں ` بدمعاملگیوں اور احکامات خداوندی سے دانستہ چشم پوشیوں کی سزا ایسے حکمرانوں کے ” اقتدارِ مسلسل “ کی صورت میں دے رہی ہے جو اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کو عقل و شعور سے محروم سمجھتے ہیں۔
سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد یہ ” مژدہ “ سنانے کے لئے کراچی پہنچ گئے ہیں کہ انہوں نے حالات کی سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے قوم کے بہترین مفاد میں وہ استعفیٰ واپس لے لیا ہے جسے صدر زرداری کوچند ہی روز قبل بھیجتے وقت بھی ان کے سامنے قوم کا بہترین مفاد ہی تھا۔
پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان جب بھی سنگین تناﺅ پیدا ہوتا ہے تو قوم کے بہترین مفاد میں پیدا ہوتا ہے اور جب بھی وہ تلخیاں اورکدورتیں فراموش کرکے ایکدم اچانک بغلگیر ہوتی ہیں تو اس کے پیچھے بھی قوم کا بہترین مفادہوتاہے۔
آج کل جو لفظی جنگ پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی کے درمیان چل رہی ہے وہ بھی قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔ اور عنقریب جب یہ دونوں قومی جماعتیں اچانک کمال ذمہ داری کے ساتھ نگران سیٹ اپ کے قیام اور انتخابی عمل کے معاملات پر سمجھوتہ کریں گی تو وہ بھی قوم کے بہترین مفاد میں ہوگا۔
موجودہ حکومتی نظام کا چلتے رہنا بھی قوم کے بہترین مفاد میں ہے اور حکمران جماعتوں کابظاہر ایک دوسرے پر کیچڑاچھالنا اور اندر سے ایک دوسرے کو ” کچھ لو اور کچھ دو “ کی بنیاد پر تعاون فراہم کرنا بھی قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔
قوم مفادات کے اس شکنجے سے کب آزادہوگی ؟
(یہ کالم 01-03-2013 کو بھی شائع ہوا تھا ہم آج پھر وہی کھڑے ہیں)

Scroll To Top