اقتدار کا خاتمہ یا انتخابات کاوقفہ ؟ 21-02-2013

kal-ki-baatشاید یہ محض میرا وہم ہو مگر لگ مجھے کچھ ایسا ہی رہا ہے کہ جیسے موجودہ حکومت اپنی مدتِ اقتدار کے آخری دنوں میں نہ ہو بلکہ اسے ابھی ابھی تازہ تازہ مینڈیٹ ملا ہو اور وہ اگلی مدت کے لئے ضروری تیاریوں میں مصروف ہو۔ زمینی حقیقت تو کچھ ایسی ہے کہ حکومت کی رِٹ کہیں بھی نظر نہیں آرہی اور غیر ریاستی قوتوں نے مملکت کو یرغمال بنا رکھا ہے لیکن اس افسوسناک تاثر سے قطع نظر حکومت کے کسی بھی چھوٹے بڑے اہلکار کے رویے سے ایسا پیغام نہیں مل رہا کہ اِس حکومت کی مدت اقتدار کو صرف 25دن رہ گئے ہیں۔ موجودہ سیاسی دور کی تاریخ کا سب سے ” لطیف “ لطیفہ وزیراعظم صاحب کے اِس بیان کو قرار دیا جاسکتاہے کہ موجودہ حکمران اپنی پانچ سالہ کارکردگی کے زور پر اگلی مدت کے لئے بھی اپنا حکومتی تسلسل برقرار رکھیں گے۔متذکرہ شاندار کارکردگی کا جشن شایانِ شان بنانے کے لئے ہی وزیراعظم گزشتہ دنوں اپنے اہل و عیال کے ہمراہ ” سرکاری “ دورے پر برطانیہ گئے تھے۔ انہیں وہاں ” سرکاری “ طور پر شاپنگ کرنے کاموقع بھی دل کھول کر ملا۔
ملک کی ساٹھ فیصد آبادی پر مشتمل صوبے پنجاب کے حکمران بھی اپنی پانچ سالہ کارکردگی کی بناءپر اپنے آپ کو نہ صرف پنجاب پر مزید پانچ سال تک حکومت کرنے کا حقدار قرار دے چکے ہیں بلکہ انہیں یقین ہے کہ باقی ملک (بشمول اسلام آباد)بھی ان کی جھولی میں گرنے والا ہے۔
دنیا کے تمام تر مستند پیمانوں کے مطابق گڈگورننس کا تعین صرف معاشرے میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کو دیکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ اور لا اینڈآرڈر سے مراد یہاں یہ ہر گز نہیں کہ شہریوں کو اپنی جان و مال کے لئے خطرہ لٹیروں اور ڈاکوﺅں سے زیادہ پولیس سے محسوس ہو۔
اگر ملک کے مستقبل کا فیصلہ کسی ” مُک مُکا “ کے ذریعے نہیں کیا جاچکا تو 16مارچ 2013ءکے بعدشاید کوئی ایسی گہما گہمی نظر آنی شروع ہوجائے جو انتخابی عمل کے ذریعے تبدیلی لانے کے خواہشمند ملک میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر آنے والے مہینوں میں بھی ہمارے یہی حکمران اِسی انداز میں دندناتے نظر آتے رہے تو پھر جو لوگ جمہوریت کو ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت سمجھتے ہیں انہیں اپنی رائے ڈرامائی طور پر تبدیل کرنی پڑے گی۔

Scroll To Top