آخر کون ؟

aaj-ki-baat-newوقت آگیا ہے کہ پوری دنیا کو بعض ناقابل تردید زمینی حقائق کا سامنا کرناچاہئے۔ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے۔ اس کا نام ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اس کے آئین کے دیباچے میں واضح طور پر بیان کردیا گیا ہے کہ یہاں کے تمام قوانین قرآن و سنت کی روشنی میں بنائے جائیں گے ۔
مسلمانانِ عالم کی بدقستمی ہے کہ اسلام اپنی تاریخ کے اوائلی دور میں ہی دو فرقوں میں تقسیم ہوگیا۔ اور یہ تقسیم صدیوں سے نہر کے دو کناروں کی طرح شاہراہ ِ تاریخ پر چلی آرہی ہے۔ اگر دنیا بھر میں مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ ارب تسلیم کرلی جائے تو اس میں سوا ارب سے زیادہ سنّی مسلمان ہوں گے جن کے درمیان بھی ” فقہی “ اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اس میں سنّی آبادی کا تناسب اسی فیصد سے زیادہ ہے۔ لیکن ہمارے شیعہ بھائی بھی بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ تکنیکی طور پر ہم انہیں اقلیت ہرگز نہیں کہیں گے کیوں کہ اقلیت کا لفظ میری رائے میں صرف غیر مسلمانوں کے لئے استعمال ہونا چاہئے۔ شیعہ اور سنّی کے فرق کو ” فقہی فرق“ ہی سمجھا جاناچاہئے لیکن چونکہ پاکستان میں غالب اکثریت سنّی مسلمانوں کی ہے ` اس لئے اسے اُن ہی معنوں میں سنّی ملک سمجھا جاسکتا ہے جن معنوں میں ایران ایک شیعہ ملک ہے۔
یہاں جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ ” قوتیں “ جنہیں پاکستان کی ” اسلامیت “ روز اول سے ہی کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے وہ یہاں شیعہ اور سنّی مسلمانوں کے درمیان دشمنی کی فضا قائم کرکے خود ” اسلام “ کو ”وجہ ءفساد “ قرار دلوانے کی سازشوں کو پروان چڑھا رہی ہیں ۔ اگر میں یہ کہوں تو بعیداز حقیقت بات نہیں ہوگی کہ آج کے پاکستان کو ” فرقہ وارانہ بنیادوں “ پر میدانِ جنگ بنانے کی سازشوں میں غیر ملکی ہاتھ بڑا فعال کردار ادا کررہا ہے۔
کوئٹہ کی ہزارہ آبادی کو جس انداز میں وحشت و بربریت کا نشانہ بننا پڑا ہے وہ پوری قوم کے لئے باعث ندامت ہے۔ لیکن زیادہ دن نہیں ہوئے جمعہ کے روز سوات میں جن نمازیوں کو ایسی ہی وحشت و بربریت کا نشانہ بنایا گیا وہ شیعہ نہیں تھے۔
یہ جو نام بار بار میڈیا میں پیش ہوتے ہیں ` تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی وغیرہ وغیرہ یہ مغربی پروپیگنڈے کے پیدا کردہ ہیں۔ مغرب اور اس کے پاکستانی گماشتے ہر قیمت پر اسلام کو وحشت و بربریت کے ساتھ ” نتھی “ کرناچاہتے ہیں۔ ملک کا ایک بڑا میڈیا ہاﺅس اس سازش میں بڑا اہم کردارادا کررہا ہے۔
سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خوفناک کھیل کو Enough is enoughکون کہے گا آخر کون ؟
(یہ کالم اس سے پہلے 20-02-2013کو بھی شائع ہوا تھا۔۔۔۔
پاکستان کافی حد تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت چکا ہے۔۔۔۔)

Scroll To Top