ٹرمپ نے اپنے وکیل کے دفتر پر ایف بی آئی کے چھاپے کو امریکا پر حملہ قرار دے دیا

zامریکی صدر نے پورن اسٹار سے تعلقات کی تردید اور رقم کی ادائیگی سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ فوٹو: فائل

 واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے وکیل مائیکل کوہن کے دفتر پر ایف بی آئی کے چھاپے کو ملک پر حملے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شرمناک صورتِ حال ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے اپنے ذاتی وکیل مائیکل کوہن کے دفتر پر چھاپے اور اہم دستاویز تحویل میں لینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چھاپے کو نئی غیر منصفانہ سطح قرار دے دیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی، یہ ایک شرمناک حرکت ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کے وکیل مائیکل کوہن کے اٹارنی اسٹیفن رائن نے چھاپے کو مکمل طور پر نامناسب اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے میڈیا کو بتایا ہے کہ وفاقی استغاثہ نے دفتر کی تلاشی کے وارنٹ حاصل کرلیے ہیں، جس کی اجازت اسپیشل کونسل رابرٹ مولر نے دی تھی جو صدارتی انتخاب میں روس کی مداخلت اور ٹرمپ انتخانی مہم کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

قبل ازیں ایف بی آئی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل مائیکل کوہن کے دفتر پر چھاپہ مار کر اہم دستاویزات تحویل میں لے لیں جن میں خاتون ماڈل ’ اسٹورمی  ڈینیلز‘  اور ٹرمپ کے ناجائز تعلقات کے معاملے پر خاموش رہنے کے لیے ماڈل کو رقم کی ادائیگی سے متعلق دستاویز بھی شامل ہے۔ امریکی صدر نے ماڈل سے کسی قسم کے تعلق اور رقم کی ادائیگی کی تردید کی تھی۔

Scroll To Top