62اور63کا اطلاق پبلک لائف سے تعلق رکھنے والے ہر فرد پر ہونا چاہئے 19-02-2013

kal-ki-baatیہ اطلاعات اصلاحِ احوال کی تمنائیں اور امیدیں رکھنے والوں کے لئے بے حد تشویش ناک ہوں گی کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی اصلاحات کی جو تجاویز حکومت کو بھیجی ہیںانہیں پارلیمنٹ کے ذریعے مسترد کرانے کے لئے دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان غیر رسمی سمجھوتہ طے پا چکا ہے۔ ان میں اہم ترین تجویز یہ ہے کہ چھان بین کا عمل اتنا موثر ہو کہ جعلی ڈگریاں رکھنے والوں` ٹیکس چوروں اور بینکوں سے عوام کا پیسہ حاصل کرکے ہڑپ کرجانے والوں پر پارلیمنٹ کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں۔ اس ضمن میں آئین کی دفعات 62اور63کا دیانتدار اطلاق یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن نے ایک ماہ کی مدت مانگی ہے۔گزشتہ دنوں حکومتی وفد کی جو ملاقات علامہ طاہر القادری سے ہوئی اس میں متذکرہ مدت ایک ماہ سے کم کرکے پندرہ دن کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا۔ ایک بات تو طے ہے کہ حکومت عام انتخابات کے لئے ٹائم شیڈول بڑا تنگ رکھنا چاہتی ہے تاکہ اسے اپنے امیدواروں کو کامیابی سے ہمکنار کرانے میں کسی بڑی دشواری یا بڑے امتحان سے نہ گزرنا پڑے۔
اس جمہوری نظام کو چلانے والوں کی بدنیتی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ وہ بددیانت اور بدعنوان عناصر کی کامیابی کے راستے میں کوئی رکاوٹ دیکھنا نہیں چاہتے۔
میں سمجھتا ہوں کہ جن اصحاب یا اداروں کو جمہوریت سے محبت کا دعویٰ ہے اور جو آئین کی سربلندی کے لئے قوم کے بہترین مفادات کی قربانی دینے کے لئے بھی تیار نظر آتے ہیں وہ کم ازکم اس بات کو تویقینی بنائیںکہ قوم کی نمائندگی پارلیمنٹ میں کرنے کے تمام امیدوار اپنے اپنے اثاثے اور اپنے بارے میں تمام مالی معلومات ویب سائٹ پر ظاہر کریں تاکہ اگر کسی کا جھوٹ پکڑا جائے تو وہ قانون کی زد میں آنے کے ساتھ ساتھ عوامی غیظ و غضب کا بھی سامنا کرے۔
میں تو سمجھتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو منبر سے یا اخبارات کے صفحات سے نیکیوں اور اصلاح کی تلقین کرتا ہے اسے اپنے بارے میں تمام معلومات رائے عامہ کے سامنے لانی چاہئیں۔ ہمارے بہت سارے کالم نگار اور اخباری تجزیہ کار بظاہر کوئی دوسرا ذریعہ ءآمدنی نہیں رکھتے لیکن بڑی بڑی جائیدادوں کے مالک بن چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ پر آسودگی کے دروازے کیسے کھولے۔ ؟ اس سوال کا جواب جاننے سے ان کے لاکھوں مداحوں کو بڑی دلچسپی ہوگی۔
62اور63کا اطلاق پبلک لائف سے تعلق رکھنے والے ہر شخص پر ہونا چاہئے۔

Scroll To Top