یہ چٹان ہمیشہ کھڑی رہے گی

aj ni gal new logoیہ خیال غلط ہے کہ پاکستان اپنی بقاءکی جنگ لڑ رہا ہے ۔۔۔ پاکستان منشائے الٰہی سے قائم ہوا تھا اور ہمیشہ قائم رہنے کے لئے قائم ہوا تھا۔۔۔ یہ ” قائم“ کی تکرار میں نے جان بوجھ کر کی ہے ۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ کان بھی اِس تکرار کو سن لیں جنہیں پاکستان کا نام تک ناگوار گزرتا ہے۔۔۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں مجھے برادر ملک تاجکستان کے ایک وفد کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا جس کے سربراہ حکیم عبداللہ رحناموو سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا۔۔۔
” ہم کبھی بھی انڈیا کا حصہ نہیں تھے میرے بھائی ۔۔۔ وہ ہمیشہ ہمیں حملہ آور سمجھتے رہے۔۔۔ ان کے نزدیک ہم ہمیشہ ایک قابض قوت تھے۔۔۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے پاکستان قائم کرکے محض ایک تاریخی حقیقت کا اثبات کیا۔۔۔ انہوں نے صرف یہ بتایا کہ گائے کی پوجا کرنے والے اور گائے کو ذبح کرکے کھانے والے ایک اکائی نہیں ہوسکتے ۔۔۔ آپ لوگ بے شک اپنے آپ کو انڈیا کا دوست یا انڈیا کو اپنا دوست ملک سمجھتے رہیں مگر ان کی نظروں میں آپ اُس خطے کے باسی ہیں جہاں سے محمد غوری آیا تھا۔۔۔ پرتھوی راج کے جانشین محمد غوری کے جانشینوں کو دوست کیسے سمجھ سکتے ہیں ۔۔۔؟ “
ایک اچھے سفارت کار کی حیثیت سے جناب حکیم عبداللہ کو میری رائے سے اتفاق نہیں تھا۔۔۔
” ملکوں کے تعلقات کا تعین مفادات کی بنیاد پر ہوتاہے۔۔۔“ انہوں نے کہا۔۔۔
” درست ۔۔۔“ میں نے جواب دیا۔۔۔ ” مگر مفادات کے بس کی بات نہیں کہ وہ ہماری ولدیت ` ہمارے آباوا جداد اور ہماری پیدائشی پہچان کو تبدیل کرسکیں۔۔۔ “
میری اس بات نے انہیں لاجواب کردیا۔۔۔
” آپ پاکستان کو وسطی ایشیاءکی جنوبی سرحد سمجھیں۔۔۔ سرحد جتنی مضبوط ہوگی آپ بھی اسی قدر مضبوط ہوں گے ۔۔۔ ہمارا امام بخاریؒ اور امام بوحنیفہ ؒ سے بڑا روحانی رشتہ ہے اور وہ آپ کے آباواجداد تھے۔۔۔“
” کوئی شک نہیں۔۔۔ “ وہ بولے۔۔۔ ” علامہ اقبالؒ ہمار ے بھی ہیرو ہیں۔۔۔“
میں نے یہ ساری باتیں اس تیقّن کے اثبات کے لئے لکھی ہیں کہ پاکستان کو نہ تو اس کے بیرونی دشمن اور نہ ہی اس کے اندرونی دشمن اپنا وہ کردار ادا کرنے سے روک سکتے ہیں جس کے لئے منشائے الٰہی نے اسے قائم کیا تھا۔۔۔
یہاں جتنے بھی آصف علی زرداری` میاں نوازشریف` مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی خان وغیرہ وغیرہ پیدا ہوجائیں پاکستان بپھرے ہوئے سمندر میں کھڑی اس عظیم چٹان کی مانند ہے جس سے موجیں پوری شدت کے ٹکرائیں گی ضرور مگر ٹکرا کر دم توڑ دیں گی۔۔۔
یہ چٹان ہمیشہ کھڑی رہے گی۔۔۔

Scroll To Top