جنوبی پنجاب صوبہ محاذ

zaheer-babar-logoمسلم لیگ ن کے منحرف اراکین نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے قیام کا اعلان کردیا، ان میں قومی اسمبلی کے 6اور صوبائی اسمبلی کے2 اراکین شامل ہیں۔ حکمران جماعت کے مستعفی ہونے والے لیگی اراکین میں خسروبختیار، رانا قاسم نون، طاہراقبال، طاہر بشیر چیمہ، سردار دریشک، مخدوم باسط بخاری اور سلیم اللہ چودھری کے نام نمایاں ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر مملکت خسرو بختیار نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ بیٹھے تمام اراکین قومی اسمبلی اپنے نشستیں چھوڑنے کا اعلان کرتے ہیں، ان کے بعقول اب ون پوائنٹ ایجنڈا جنوبی پنجاب میں نئے صوبے کا قیام ہے۔“
تاریخی طور پر رقبے کے لحاظ سے پنجاب کا بڑا حصہ پاکستان اور چھوٹا حصہ ہندوستان کے حصہ میں آیا مگر بھارت نے صوبائی تعصب ختم کرنے کیلئے مشرقی پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔جن میں ایک صوبہ پنجاب دوسرا صوبہ ہریانہ جبکہ تیسرا صوبہ ہماچل پردیش کہلاتا ہے۔مبصرین کے خیال میں اگر ہم بھی اپنے صوبہ پنجاب کو تین صوبوں یعنی شمالی،جنوبی،اور وسطی پنجاب میں تقسیم کردیتے تو انتظامی لحاظ سے ہر صوبہ اپنے وسائل اپنے علاقے کے وسائل استعمال کر کے ترقی کرسکتا تھا۔یاد رہے کہ پنجاب ملک کی کل آبادی کا تقریبا 62%آبادی پر محیط ہے۔جبکہ دیگر چھوٹے صوبوں کی آبادی تقریبا 38%ہے یہی وجہ ہے کہ عملی طور پر پارلیمنٹ میں چھوٹے صوبوں کی آواز نہ سنی جانے کی دہائی دی جاتی ہے۔ درحقیقت جنوبی پنجاب مسائل کسی سے مخفی نہیں، سالوں سے جنوبی پنجاب کے مسائل کی دہائی تو دی جاتی رہی مگر عملا خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوسکی۔ چنانچہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کرنے والوں کے بعقول دارالحکومت قریب تر ہونے سے تمام صوبائی ،سرکاری محکمہ جات سے متعلق مسائل احسن طریقے سے حل ہونگے اور عام شہریوں کو دور دراز کے سفر سے نجات مل جائیگی ۔ مذید یہ کہ جنوبی پنجاب کے قابل اور ذہین طلبہ و طالبات کو اعلی سرکاری نوکری کی سہولت میسر آجائےگی جس سے بیروزگاری میں خاتمہ میں مدد ملے گی۔
تاریخی سچ یہ بھی ہے کہ تونسہ بیراج کی تعمیر کے وقت جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کیلئے نہری پانی کیلئے جو حصہ مختص کیا گیا تھا جو آج تک فراہم نہیںکیا گیا اسی طرح تونسہ بیراج سے کچھی کنال کو نکالا جا رہا ہے جو ڈیرہ غازی خان اور راجن پور سے گزر کر سندھ اور بلوچستان کو پانی فراہم کرنے کیلئے ہے ، یعنی اس میں سے اگر پانی کا کچھ حصہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے اضلاع کو دیا جائے تو نہ صرف راجن پور کی تمام اراضی کشمور سندھ تک آباد کرنے سے کسان خوشحال ہونگے بلکہ حکومتی ریونیو میں بھی اضافہ ہو گا۔اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کے باوجود جنوبی پنجاب میں ترقی نہیں ہو رہی، وہاں غربت کی شرح 51 فیصد ہے جبکہ پچھلے 30 برس سے جنوبی پنجاب کے عوام غربت اور جہالت کا شکار رہے ہیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے ن لیگ سے باغی ہونے جنوبی پنجاب کے سیاست دان دراصل اپنے حقلے میں بے پناہ اثررسوخ رکھتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت اپنے قوت بازو کی بنیاد پر ہر انتخاب میں جیتی چلی آرہی، اب بھی قوی امکان ہے کہ وہ صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کے نام پر ہی سہی منتخب ہوکر اسمبلیوں میںبراجمان ہوجائیں۔وجہ کچھ بھی ہوں موجود ہ حالات میں مسلم لیگ ن سے راہیں جدا کرنا حکمران جماعت کے مسائل میں اضافہ کرسکتا ہے ۔دراصل یہ اس بات کا بھی پتہ دے رہا کہ روایتی سیاسی خاندان جان چکے کہ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن وفاقی یا صوبائی سطح پر حکومت بنانے میں مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جنوبی پنجاب سے محض قومی اسمبلی کی 44 نشستیں ہیں۔ امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں صوبہ جنوبی پنجاب محاذ میں کئی اور اراکین قومی وصوبائی اسمبلی بھی شامل ہوجائیں۔ ابتدائی ردعمل میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی نے ن لیگ چھوڈنے والوں کے فیصلہ کو درست کہا ہے، سیاسی پنڈتوں کے نزدیک یہ ناممکنات میں سے نہیں کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی اور پی پی پی دونوں اس نئی جماعت کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں اتحاد قائم کرلیں۔
سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود کو ناگزیر سمجھتے ہیں اس کے برعکس زوالفقارعلی بھٹو کے الفاظ میں قبرستان ناگزیر لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔ زمینی حقائق کا ادراک ہی کسی سیاسی رہنما کی بڑی خوبی ہوا کرتی ہے۔ مسلم لیگ ن کے قائد کو سمجھ لینا چاہے کہ پنجاب میں کم وبیش 35سال سے وہ متحرک ہیں مگر حالات یہ ہیں کہ پانچ دریاوں کی سرزمین کا شائد ہی کوئی ایسا شہر ہو جہاں ہر خاص وعام کے لیے پینے کا صاف پانی میسر ہو۔ تعلیم اور صحت کے شعبے بھی پنجاب میں کسی طورپر مثالی نہیں۔ سب سے بڑھ کر میاں نوازشریف مقامی حکومتوںکا نظام فعال نہیں کرپائے ، لوکل باڈیز سسٹم کسی بھی جمہوری نظام میں ریڑھ کی ہڈی حثیثت رکھتا ہے۔
اقبال نے کہا تھا کہ ثبات ایک تغیر کو زمانے میں “ ہوسکتا ہے کہ سچ یہی ہو کہ شریف خاندان کا عروج اب ماضی کا حصہ بن چکا۔ قدرت نے انھیں طویل موقعہ فراہم کیا مگر وہ اہل پنجاب کی بالخصوص اور پاکستان کی بالعموم خاطر خواہ خدمت نہ کرسکے ، چند میگا پروجیکٹ کے علاوہ ان کا دور کسی طور پر درخشاں نہیں کہا جاسکتا۔

Scroll To Top