جمہوریت ۔۔حل یا خطر ہ ؟ 18-2-2013

 

kal-ki-baatصدر آصف علی زرداری سیاست کو نظریات اور روایات کا نہیں ممکنات کا کھیل سمجھتے ہیں۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ جو بات انسان کے تخیل میں ابھر سکتی ہے وہ حقیقت کا روپ بھی دھار سکتی ہے۔ انہوں نے اگلے چند مہینوں کے لئے ایک واضح روڈ میپ ضرور تیار کررکھا ہوگا اور اس روڈ میپ میں ایک دو نہیں بہت سارے ” امکانات “ کو جگہ حاصل ہوگی۔ اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ سب کچھ حقیقتاً اسی انداز میں سامنے آئے گا جس انداز میں ایک طرف تحریک انصاف کے عمران خان اور دوسری طرف مسلم لیگ )ن(کے قائدین سوچ رہے ہیں۔
اور میرے پاس اس خوف یا خدشے کو اپنے ذہن میں جگہ دینے کا کافی جواز موجود ہے کہ اگر اگلے عام انتخابات صرف انتخابی عمل کی سربلندی کے لئے کرائے گئے اور ان میں ملک کے دوررس مفادات اور مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر نہ رکھاگیا تو جس جمہوریت کو پٹڑی پر رکھنے کا بیڑہ تقریباً تمام ہی اکابرین اور اداروں نے اٹھا رکھا ہے ‘ وہ اس ملک کے لئے ایک خوفناک اندھیرے کی نوید بن جائے گی۔
1988ءسے اب تک جنرل پرویز مشرف کے تحت ہونے والے عام انتخابات سمیت 6مرتبہ قوم انتخابی عمل میں جاچکی ہے۔ اگر میاںنوازشریف اور ان کے ساتھی اس خوش فہمی میں ہیں کہ وہ آئندہ بھی ویسے انتخابی نتائج حاصل کرسکیں گے جیسے 1990ءاور 1997ءکے عام انتخابات میں حاصل کئے تھے تو وہ شاید موجودہ زمینی حقائق کو مکمل طور پر نظرانداز کررہے ہیں۔ متذکرہ دونوں مرتبہ دو جماعتوں کے درمیان مقابلہ تھا اور مسلم لیگ )ن(یا آئی جے آئی کو اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت تھی۔ اصغر خان کیس میں یہ بات پوری طرح واضح ہوچکی ہے کہ 1990ءکا الیکشن چرایا گیا تھا۔ جہاں تک1997ءکے عام انتخابات کا تعلق ہے ان میں بھی تب کے صدر لغاری اور آرمی چیف مکمل طور پر مسلم لیگ )ن(کے اتحادی تھے۔
2013ءکے عام انتخابات میںمقابلہ تین طرفہ ہے۔ اگر یہ بات تسلیم بھی کرلی جائے کہ مسلم لیگ )ن(کو برتری حاصل ہے تو بھی کسی بھی ” سہ فریقی “مقابلے کے بارے میں کوئی حتمی پیشگوئی کرنامحض ” خواہش “ پر مبنی ہوگا۔ جو بات میں زور دے کر یہاں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس بات کا امکان بہت ہی کم ہے کہ اسلام آباد میں قائم ہونے والی اگلی حکومت ملک کو مضبوط فیصلے کرنے والی ایسی مضبوط قیادت مہیاکرسکے گی جسے مخالفتوں کے طوفانوں سے گزرنا نہیں پڑے گا۔
اور یہ بات ملک کے کسی ناسمجھ بچے کی فہم سے بھی باہر نہیںکہ ہمیں آج ایک ایسی مضبوط موثر فعال مستعد ’ قابل محب ِ وطن اور غیر متنازعہ حکومت کی ضرورت ہے جو ایک طرف ڈوبتی ہوئی قومی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے ٹھوس اقدامات کرسکے اور دوسری طرف افغانستان سے امریکی انخلاءسے پیدا ہونے والی صورتحال کوپاکستان کے حق میں لا سکے۔
ظاہر ہے کہ ایسی حکومت کرپشن اور نا اہلی کے خوفناک عفریتوں کوقابو میں لائے بغیر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکے گی۔
اگر اگلے عام انتخابات کے نتیجے میں ایسی کوئی حکومت قائم ہوسکتی ہے تو یہ ایک ایسا معجزہ ہوگا جسے میں اس قوم کے لئے اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا انعام قرار دوں گا جس کی وہ مستحق نہیں۔
خواہش سب کی ہی ہوگی کہ وہ عام انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کرکے قوم کی تقدیر تبدیل کر ڈالنے والی قیادت قوم کو مہیا کرے۔ مگر انحصار تو ہر حکومت کو قومی اسمبلی کے 342ارکان کی اہلیت اور ان کے کردار پر کرنا پڑے گا۔
جس نظام کو ہم بڑے جوش و خروش کے ساتھ جمہوری کہتے ہیں وہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی dysfunctionalیعنی غیر موثر اور غیرفعال ہوتا چلا جارہا ہے۔ اگر مضبوط قابل اور نتیجہ آفریں قیادت مہیا کرنا اس نظام کے بس کی بات ہوتی تو سپین اٹلی اور یونان وغیرہ آج نہایت سنگین بحرانوں کا سامنا نہ کررہے ہوتے۔
ہماری صورتحال سپین اٹلی اور یونان وغیرہ سے کہیںزیادہ خوفناک ہے۔ ان میں سے کسی جمہوریت کو لسانی نسلی اور علاقائی بنیادوں پر پنپنے اور پروان چڑھنے والی وباﺅں کا سامنا نہیں۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ یہ ملک جمہوری نظام کی برکات سے حقیقی معنوں میں فیضیاب ہو تو اس کے لئے ہمیں جمہوریت کو خاندانی قبضوں سے آزاد کرانا پڑے گا۔
(ختم شدہ)

Scroll To Top