نئے دور کی نئی ایجاد گورنمنٹ وِد پاناما ٹچ

aaj-ki-baat-newپاناما اب ایک چھوٹے سے ملک کا نام نہیں رہا۔۔۔ ایک استعارہ۔۔۔ ایک علامت۔۔۔ ایک داستان بن چکا ہے۔۔۔ ہماری تاریخ میں جب بھی پاناما کا ذکر آئے گا تو فوراً دو لفظ ذہن کی سکرین پر نمودار ہوں گے۔۔۔ ایک میاں نوازشریف اور دوسرا کرپشن۔۔۔ کہاجاتا ہے کہ ” تاثر“ حقیقت سے زیادہ خوفناک چیز ہوتی ہے۔۔۔ حقیقت کا علم صرف خدا کو ہوتا ہے مگر تاثر کا تعلق لوگوں سے ہے۔۔۔اگر آپ کے پڑوس میں کوئی سرکاری ملازم رہتا ہو اور معلوم ہو کہ اس کی تنخواہ اسی ہزار یا ایک لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ ماہانہ ہے۔۔۔ اور وہ اچانک ایک متّمول آبادی میں ایک شاندار کوٹھی تعمیر کرانی شروع کردے ۔` جس میں تعیش کا تمام سامان پہنچ جائے۔ جس کے باتھ روم نہایت قیمتی فٹنگز سے مزّین ہوں اور جس کے کچن کی مالیت لاکھوں میں ہو۔۔۔ تو آپ یہ تاثر قائم کئے بغیر نہیں رہیں گے کہ اس سرکاری ملازم نے بڑے پیمانے پر رشوت لینی یا کرپشن کرنی شروع کردی ہے۔۔۔ اس بات کا امکان موجود رہے گا کہ آپ کا تاثر غلط ہو اور اس شخص کا نانا یا دادا مرتے وقت اپنی جائیداد کا بڑا حصہ اس کے نام کرگیا ہو۔۔۔ یا پھرکسی ارب پتی غیر ملکی سے اس کی دوستی ہوگئی ہو جس نے اسے قیمتی تحائف سے نوازنا شرو ع کردیا ہو۔۔۔ مگر جو امکان ” بعید ازفہم“ ہو اس پر کوئی آدمی یقین نہیں کرتا۔۔۔

میاں نوازشریف کے معاملے میں غیر معمولی بات یہ ہوئی ہے کہ ان کی اولاد نے ماشاءاللہ لڑکپن میں ہی کاروباری کمال حاصل کرلیا اور اپنا نام لندن کے ارب پتیوں میں لکھوالیا۔۔۔یہ کوئی انہونی بات نہیں۔۔۔ آخر زکر برگ اور بل گیٹس وغیرہ جیسے لوگ بھی تو دنیا میں ہیں ` جنہوں نے نو عمری میں ہی راک فیلر اور پال گیٹی جیسے افسانوی کرداروں کا مقابلہ شرو ع کردیا۔۔۔ ماشاءاللہ حسن نواز ، حسین نواز اور مریم نواز کے تو طور طریقے ہی ایسے ہیں کہ جائیدادیں خود آکر ا±ن کی جھولی میں آگرجاتی ہیں۔۔۔
بات پاناما کی ہورہی تھی۔۔۔ تو یہ لفظ اب کسی ملک کا نام نہیں رہے گا۔۔۔ جیسے میڈاس کو لوگ کسی جزیرے یا ملک کے طور پر نہیں جانتے اس کہانی کے حوالے سے جانتے ہیں جس میں بادشاہ کسی بھی چیز کو ہاتھ لگاتا تھا تو وہ سونا بن جاتی تھی ۔ حتیٰ کہ اس کی اپنی بیٹی سونا بن گئی۔۔۔ میڈاس ٹچ اسی کو کہتے ہیں۔۔۔ اب لوگ ” پاناما ٹچ “ کو جاننا اور پہچاننا شروع کردیں گے۔۔۔
میں نے اپنی کمپنی کا نام میڈاس یونانی داستان سے متاثر ہو کر رکھا تھا۔۔۔ میری کمپنی کی پنچ لائن تھی ” ایڈورٹائزنگ وِد میڈاس ٹچ“۔۔۔۔ یعنی ایسی ایڈورٹائزنگ جس کے چھونے سے چیز سو نا بن جائے۔۔۔
آنے والے وقتوں میں شاید مندرجہ ذیل پنچ لائن رائج العام ہوجائے۔۔۔
” گورنمنٹ وِد پاناما ٹچ۔۔۔۔“
یعنی ایسی حکمرانی جس میں دولت ساون بھادوں کی طرح آپ پر برسنے لگے۔۔۔
یہ کالم اس سے پہلے 8-04-2018 شائع ہو چکا ہے۔

Scroll To Top