شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال

zaheer-babar-logo
خانہ جنگی سے متاثر شام سے آئے روز انسانیت سوز کاروائیوں کی خبریں سامنے آرہیں۔تازہ پیش رفت میں مشرقی غوطہ میں کیے جانے والے والے مشتبہ کیمیائی حملے میں ایک سو سے زائد افراد کے مارے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا۔ ایک بار پھر اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونے والوں میں بڑی میں تعداد میں بچے بتائے جارہے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد پانچ سو سے زائد ہے۔ اقوام متحدہ سمیت قیام امن کے لیے متحرک عالمی ادارے شام میں کشت وخون کا کھیل بند کرانے کے لیے بظاہر کوشاں تو ہیں مگر یہ کب اور کیسے کامیابیوں سے ہمکنار ہونگی یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس سارے معاملہ میں مسلم اشرافیہ جس بے حسی اور لاتعلقی کی تصویر بنے ہیں وہ بذات خود قابل مذمت ہے ۔ مسلم خون کس قدر ارزاں ہوچکا اس کا مظاہرہ شام میں آئے روز پیش آنے والے واقعات ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ فریقین کسی طور یہ یقین دہانی کروانے کو تیار نہیں کہ نہتے شہریوں کو اب نشانہ نہیں بنایا جائیگا۔ یقینا شام کی خانہ جنگی کا ایدھن بچے بن رہے۔
شام میں کام کرنے والی تنظیم چیئرٹی یونین آف میڈیکل کئیر اینڈ ریلیف آرگنائزیشن کے مطابق مشرقی غوطہ میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے میں ایک سو سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ مذکورہ تنظیم کے ترجمان ایری ڈی سوزا کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی مارے گئے ہیں اور زخمیوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے، پانچ سو سے تو زائد ہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق متاثرہ علاقے سے کلورین کی بو آ رہی ہے امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے والوں کے بعقول ممکنہ طور پر سرین گیس استعمال کی گئی ہے کیوں کہ یہ بھاری ہونے کی وجہ سے نیچے بیٹھتی ہے۔ ان کے مطابق متاثرین میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو اندرون ملک ہی بے گھر ہو چکے ہیں اور تہہ خانوں میں چھپے ہوئے تھے۔ گیس کی کثافت کی وجہ سے یہ ہوا میں اوپر اٹھنے کی بجائے، تہہ خانوں میں داخل ہو گئی ۔
مختلف ممالک کی جانب سے کمیائی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظمیوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے مذید یہ کہ اس کاروائی کے مضر اثرات طویل عرصہ تک رہ سکتے ہیں۔ ادھر امریکا نے کیمیائی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ واشنگٹن کے مطابق اگر ثابت ہو گیا کہ یہ ایک کیمیائی حملہ تھا تو اس کی ذمہ داری روس پر بھی عائد کی جائے گی کیوں کہ وہ صدر بشار الاسد کی غیر مشروط حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔واضح رہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں دوما مشرقی غوطہ کا وہ آخری ٹھکانہ ہے، جو باغیوں کے زیر کنٹرول ہے اور حکومت اسے اپنے زیر اثر لانا چاہتی ہے۔ صدر اسد کی حامی فورسز نے اس علاقے پر قبضہ کرنے کے لئے شدید بمباری کا تازہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
درحقیقت شام میں بڑی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے اس طرح کمربستہ ہیں کہ انھیں انسانی جان کی قدر وقیمت کی کوئی پرواہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے زمہ دار کچھ بھی کہتے رہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی ادارہ اپنے بنیادی فرائض کی ادائیگی میں ناکام ثابت ہورہا ہے۔ شام کی خانہ جنگی کی وجوہات کچھ بھی ہوں مگر حقیقت میں عالمی برداری کو یواین او کے نظام میں پنہاں ان خامیوں کو دور کرنا ہوگا جو سالوں نہیں دہائیوں سے چلی آرہی۔ درحقیقت عالمی ادارے میں پانچ بڑی طاقتوںکو ویٹو کا حق دے کر عملا ایسا نظام نافذ کردیا گیا ہے جو بڑی طاقتوں کے مفاد کو تحفظ فراہم کرے۔
امن کے عالمی اداروں کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ اگر دیرینہ تنازعات کو بات چیت کے زریعہ تادیر حل نہ کیا جاسکا تو جنگ وجدل کے پھیلاو کو روکنا مشکل ہوگا۔ ادھر امریکی وزارت خارجہ نے تازہ کاروائی پر درعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شام سے موصول ہونے والی رپورٹیں درست ہیں تو یہ ہلاکت خیز ہیں اور یہ بین لاقوامی برادری سے فوری رد عمل کا مطالبہ کرتی ہیں۔ “
بلاشبہ شام کے صدر بشر لا اسد حکومت اور اس کی حمایت کرنے والوں کو جواب دہ بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے حملوں کو فوری طور پر روکا جا سکے۔ اب بھی وقت ہے شام کو مسقل طور پر ایسا دوزخ بنے سے بچایا جائے جس کا ایندھن بچے ہیں۔ اسی پس منظر میں مشرقی غوطہ میں طبی امداد فراہم کرنے والی تنظیم سیرئین سول ڈیفنس کے حکام نے دعوی کیا ہے کہ صدر اسد کی حامی فورسز نے بمباری کے دوران کلورین گیس کا استعمال کیا جس کی وجہ سے علاقے میںموجود بچوں کی وسیع پیمانے پر اموات ہوئی ہیں جبکہ متاثرہ افراد کو سانس لینے مین دشواری کا سامنا ہے۔
مغرب سے شکوہ ہی کیا کریں جب او آئی سی خواب خرگوش کے مزے لے رہی۔ بادی النظر میں مسلم اشرافیہ اس سے عملا لاتعلق ہے کہ شام میں سویلین آبادی کو محفوظ رکھا جائے۔ شام کی خانہ جنگی میں مارے جانے والے مسلمان ہو یا غیر مسلم مگر ایک خدا ، ایک رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) اور ایک قرآن کو ماننے والوں کو قیام امن کے لیے آگے بڑھ کر کردار اداکرنا ہوگا۔ امت مسلمہ کا تصور محض باتوں تک محدود نہیں ہونا چاہے بلکہ حقیقی معنوں میں امت کا تصور راسخ کرنے کے لیے عملی اقدمات اٹھانے ہونگے ۔

Scroll To Top