عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے فول پروف سسٹم متعارف کرادیا، پرویز خٹک

  • لوٹ مار ، فراڈاور دھوکے کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے ،جب تک چور اور ڈاکو پھانسی نہیں چڑھیں گے ملکی حالات سنور نہیں سکتے
  • لیڈر چو ر ہوگا تو نیچے سب چوری کریں گے ،کالے دھن والوں کو جیل میں ڈالنا ہوگا، وزیر اعلیٰ کے پی کے میڈیا سے گفتگو
 برمنگھم: وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا دورہ برطانیہ کے موقع پر مقامی پارٹی رہنماﺅں کے ہمراہ گروپ فوٹو

برمنگھم: وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا دورہ برطانیہ کے موقع پر مقامی پارٹی رہنماﺅں کے ہمراہ گروپ فوٹو

پشاور(الاخبار نیوز)وزیراعلیٰ خیبر پختونخواپرویز خٹک نے کہا ہے کہ ڈرائنگ روم کی سیاست کرنے والوں کو علم ہی نہیں کہ غریب کے مسائل کیا ہیں۔ہم نے خیبرپختونخو امیں عام آدمی کو درپیش مسائل کے حل کیلئے فول پروف سسٹم دیا ہے۔ہمارے زیادہ وسائل ماضی کے تباہ حال سٹرکچر اور سسٹم کو ٹھیک کرنے میں خرچ ہوئے ہیں۔ڈرائنگ روم کی سیاست کرنے والے سو سال بھی حکومت کریں تو ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ ہم لوٹ مار ، فراڈاور دھوکے کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے ۔ملک کا مستقبل شفاف نظام سے وابستہ ہے ۔خالی کہانیوں سے کچھ نہیں بنتا جب تک چور اور ڈاکو پھانسی نہیں چڑھیں گے ہمارا ملک ٹھیک نہیں ہو گا۔ اگر اوپر کی سطح پر لیڈر چو ر ہوگا تو نیچے سب چوری کریں گے ۔ کالے دھن کو سفید کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔کالے دھن والوں کو جیل میں ڈالنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے اپنے دورہ برطانیہ کے دوران برمنگھم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے تحریک انصاف کے منشور اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کے اقدامات اور اصلاحات کا ماضی کی حکومتوں سے موازانہ کیا جا نا چاہیے تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ پانچ سالوں میںہم نے کیا اقدامات کئے ہیں۔کونسی اصلاحات اور تبدیلیاں لائے ہیں ۔لوگوں کومعلوم ہونا چاہیئے کہ تحریک انصاف نے کیا کیا آئندہ انتخابات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پانچ سال کے اقدامات سے عوام کی طرف سے اچھا ریسپانس آرہاہے۔اور اُمید ہے کہ تحریک انصاف بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی ۔ہمارے مخالفین سو سال بھی حکومت کریں تو ہمارا مقابلہ اُن کے بس کی بات نہیں ۔ بڑے بڑے سیاستدان جو سونے کی پلیٹ میں کھانا کھاتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں کرتے ہیںاُنہیں معلوم ہی نہیں کہ عام آدمی کے مسائل کیا ہیں ۔عام آدمی کے تعلیم کے کیا مسائل ہیںہسپتالوں میں کیا مشکلات ہیںپولیس میں کتنی مصیبتیں ہیں عدالتوں میں انصاف کیوں نہیں ملتا۔ یہ وہ بنیادی مسائل ہیں جن پر تحریک انصاف کے علاوہ کبھی کسی نے توجہ نہیں دی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا ملک کرپشن سے بھراہوا ہے، میرٹ کا کوئی نظام نہیں۔ہم نے صوبے میںسیاست زدہ اور کرپٹ نظام کو تبدیل کرکے دکھا دیا ہے ۔ نظام کو بہتر کیا، سکولوں کا نظام بہتر کیا، پولیس کوٹھیک کیا، میرٹ کا نظام لے آئے جس کی وجہ سے ہمارے صوبے کے لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ بنیادی مسئلے ہیں۔ضرورت بھی اسی امر کی ہے کہ ملک میں یہ بنیادی مسائل حل کئے جائیں اُس کے بعدبڑے بڑے کام بھی ہوتے رہیں گے اور وہ بھی ضروری ہیں۔ کاش ہمارے سیاسی لوگوں کویہ سمجھ آجائے توملک میں خوشحالی بھی ہوگی اورغریب کو انصاف بھی ملے گا۔ نیب کی کاروائی کے حوالے سے ایک سوال پر پرویز خٹک نے کہاکہ جب تک سزا نہیں ہو گی تو حالات نہیں بدلیں گے ۔سزا ہوگی تو میں کچھ کہوں گا۔ یہ تو ابھی قصے ہیں۔جب یہ ڈاکو ، چور پھانسی نہیں چڑھیں گے تب تک ہمارا ملک ٹھیک نہیں ہو گا۔خالی کہانیوں سے کچھ نہیں بنتا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی نظر میں کالے دھن کو سفید کرنا بہت بڑا جرم ہے ۔ کالا دھن ،کالا دھن ہوتا ہے ۔یہ فراڈ ہے۔کہاں کا انصاف ہے کہ آپ کالادھن سفید کریں ۔یہ کونسا طریقہ ہے کہ چوری کریں اور پھر کہیں کہ 5 فیصد لے لواور باقی چھوڑ دو ۔کالے دھن والے کو تو جیل میں ڈالنا چاہیئے۔آئندہ انتخابات میں اتحاد کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ہمارا کسی کے ساتھ کوئی الائنس نہیں بنے گا ۔ ہم اکیلے الیکشن لڑیں گے ۔ جب آپ کا منشور الگ ہو ، سوچ الگ ہو اور پروگرام الگ ہو اور صرف ووٹ اور عوام کو دھوکے کی خاطر جو الائنسز کرتے ہیں یہ ملک کے ساتھ فراڈ ہے۔جو بھی الائنس کرے گا اُس کا کوئی منشور نہیں۔اُس کا کوئی فیوچر پروگرام نہیں۔وہ جھوٹ کی سیاست کرنا چاہتا ہے ، دغا دینا چاہتا ہے۔ میں اس کے خلاف ہوں۔ عمران خان ہمارا لیڈ ہے ۔ پارٹی ایک منشور کے ساتھ چلتی ہے جس کے تحت میں نے صوبے میں شفاف نظام دیا ہے جب عمران خان آئیں گے تو ملک میں بھی ایک فول پروف سسٹم بنے گا ۔خیبرپختونخوا میں شعبہ تعلیم سے متعلق ایک سوال پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ جو لوگ ڈرائنگ روم سے نہیں نکلتے اُ نہیں حقیقت کا علم نہیں ہوتا ۔ سنی سنائی باتیں کرتے ہیں ۔ہمارے پاس 28 ہزار سکول ہیں جن کا معیار بلند کرنے کیلئے 35 ارب روپے خرچ کئے ہیں اور یہ تباہ حال سکول پچھلی حکومتوں کے بنے ہوئے ہیںجن میں سے 80 فیصد سکول ٹھیک کردیئے گئے ہیں۔ابھی بھی 20 فیصد سکول بقایا ہیں ابھی جو ہمارے نئے سکول بنے ہیں اُن کو جاکر دیکھیں اُن کا سٹینڈرڈاور کوالٹی چیک کریں۔ فرق نظر آئے گا۔ ہم نے پرائمری کی سطح پر دو کمرے کے سکولوں کی جگہ چھ کمروں کے سکول بنائے ہیں۔ہمارے دور میں جو سکول بنے اُن میں ٹیچرز کی کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ چیلنج کرتا ہوں کہ پہلے سکولوں میں ٹیچر نہیں ہوتے تھے اب سو فیصد موجود ہیں۔ہسپتالوں میں ڈاکٹرز موجود نہیں ہوتے تھے اب سو فیصد ڈاکٹر موجود ہیں۔ہمارے ان اقدامات کا سابقہ حکومتوں سے موازنہ کریں ۔دستیاب وسائل کے مطابق کافی حد تک ٹھیک کردیا ہے ۔
<><><><><><><><><><><>

Scroll To Top