جمہوریت ۔۔حل یا خطر ہ ؟ 17-02-2013

اگر پاکستان معمول کا ایک روایتی جمہوری ملک ہوتا تو اب تک اس کے عوام پورے تیقّن اور جوش و خروش کے ساتھ عام انتخابات کی تیاریاں کررہے ہوتے ۔ عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کبھی کا ہوچکا ہوتا۔ لوگ یہ بھی جان چکے ہوتے کہ نگراں سیٹ اپ میں کون کون لوگ ہوں گے۔ بلکہ نگران سیٹ اپ اب تک اپنی ذمہ داریاں سنبھال بھی چکاہوتا۔ ملک کا ہر سمجھدار اور باشعور شہری جانتا ہے کہ عام انتخابات کے لئے مارچ اور اپریل سے بہتر مہینے نہیں ہوسکتے۔ موسم کا انتخابی مہم کے لئے موافق ہونا صرف سیاسی جماعتوں کے ہی فائدے کی بات نہیں` ملک کے کروڑوں ووٹروں کے لئے بے حد باعثِ اطمینان ہوتا۔لیکن یہ سب کچھ تب ہوتا اگر یہاں روایتی انداز کی جمہوریت ہوتی۔
جمہوریت کے پرُجوش ثنا خواں بھی اس حقیقت سے انکار کرنا مشکل پائیں گے کہ ہمارے ملک میں جمہوری نظام جس انداز میں سامنے آتا ہے اس میں ” اقتدار کی منتقلی “ کو ایک ڈراﺅنا تصور سمجھا جاتا ہے۔ اور تمام سیاسی جماعتوں کی ساری حکمت عملی کا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ یا تو اقتدار پر قبضہ برقرار رکھاجائے ` یا پھر ایسے تمام حربے اختیار اور استعمال کئے جائیں جو اقتدار پر قابض ہونے کے ہدف کو یقینی بنائیں۔
اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھاجائے تو پاکستان میں جمہوریت بنیادی طور پر دو بڑے خاندانوں کے درمیان اقتدار کی جنگ ہے۔اگرچہ نام بظاہر پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سامنے آتے ہیں ` لیکن یہ جماعتیں عملی طور پر اُن خوابوں کی توسیع ہیںجو بلاول ہاﺅس اور رائے ونڈ محل میں دیکھے جاتے ہیں۔ جہاں تک دوسری سیاسی جماعتوںکا تعلق ہے ان کی تعریف بھی مختلف انداز میں نہیں کی جاسکتی۔ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن ` اے این پی خان اسفند یار ولی خان ` ایم کیو ایم جناب الطاف حسین اور مسلم لیگ (ق)چوہدری برادران کے دم سے ملک کے سیاسی منظر نامے پر متحرک اور رواں دواں نظرآتی ہے۔ تحریک انصاف گزشتہ دو برسوں کے دوران ایک بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ضرور ہے لیکن اس کی قوت کا سرچشمہ بھی عمران خان کی ذات ہے۔ اگرچہ بیشتر مبصر اسے تیسرے آپشن یا تیسرے نمبر کی سیاسی طاقت کا درجہ دے چکے ہیں پر ہنوز اسے عام انتخابات کی آزمائش سے نکل کر اپنی حیثیت منوانی ہے۔
اس امکان کو مستردتو نہیں کیا جاسکتا کہ اگلے عام انتخابات کے نتائج تجزیہ کاروں کے تمام اندازوںکو غلط ثابت کردیںاور کوئی ایسی تصویر سامنے آئے جس کے بارے میں سیاست کے بیشتر طالب علم اور ماہرین ابھی سوچنے کے لئے آمادہ نہیں ` مگر فی الحال ہمیں جو کچھ نظر آرہا ہے اس کو بنیاد بنا کر ہی نتائج اخذ کرنے چاہئیں۔
نظریہ آرہا ہے کہ صدرزرداری ہر قیمت پر اپنے اقتدار کو اس کیلینڈرسال سے آگے لے جاناچاہتے ہیں۔ ان کے حکمران اتحادکے لئے اقتدار کا آخری دن 15مارچ2013ءہوگا۔ 16مارچ کو قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔ اگر صدر زرداری کے بس میں ہوتا تو وہ اسمبلیوں کی مدت کم از کم چھ ماہ تک بڑھوانے کی کوشش ضرور کرتے کیوںکہ اس طرح اگلے صدر کا انتخاب بھی یہی اسمبلیاں کرسکتیں ` اور جس انداز کی ”مفاہمانہ “ سیاست کے ذریعے وہ اب تک اقتدار پر قابض رہے ہیںاس کے پیشِ نظر اگلی مدت کے لئے بھی اُن کا صدر بننا خارج از امکان نہ ہوتا۔ ہمارا ایک قومی المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں جوڑ توڑ کے ذریعے اقتدار پر قابض رہنے کی سیاست کو قومی مفاہمت کا نام دیا گیا ہے۔ اس ’ ’ قومی مفاہمت “ کا آغاز جنرل پرویز مشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان ” شراکتِ اقتدار “ کے فارمولے سے ہوا تھا۔
دوسری طرف میاں نوازشریف اس امر کو یقینی بناناچاہتے ہیں کہ قومی سیاست کے دھارے میںاچانک غیرمتوقع طور پر ایسے عوامل داخل نہ ہو جائیںجو انہیںاقتدار سے مزید کچھ عرصہ دور رکھنے کا باعث بنیں۔
میاںنوازشریف کواپنے اقتدار کے راستے میں صدر زرداری کوئی بڑی رکاوٹ نظر نہیںآرہے لیکن میرے خیال میں انہوں نے صرف پنجاب میں اپنی برتری کو مدنظر رکھا ہو ا ہے۔ مجھے کوئی ایسی صورت نظر نہیں آرہی کہ صوبہ سندھ میں اگلی حکومت بھی پی پی پی اور ایم کیو ایم کے اتحاد کا نتیجہ نہ ہو۔ قومی اسمبلی میں بھی سندھ کی نشستوں کو کافی اہمیت حاصل ہوگی۔ خیرپختونخواہ اور بلوچستان کے بارے میں بھی یہ ہر گز نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں کے نتائج میاں صاحب کی منزل کو آسان بنا دیں گے۔ دوسرے الفاظ میں تمام سیاسی جماعتوں کے تمام بلند بانگ دعوﺅں کے باوجود کسی بھی ایک سیاسی جماعت کا فیصلہ کن انداز میں ابھرنا مجھے ممکنات میں نظر نہیں آرہا۔ حکومت ہر حال میںمخلوط ہی بنیں گی۔ اور مخلوط حکومت بنانے میں جس شخصیت کو اعجاز اور کمال حاصل ہے اس کا تعارف کرانا ضروری نہیں۔جناب آصف علی زرداری اور میاںنوازشریف تو 2008ءکے آغاز میں ہی بغل گیر ہوگئے تھے اور چند ہفتوں کے لئے مسلم لیگ (ن)سید یوسف رضا گیلانی کی حکومت کا حصہ بھی رہی ` لیکن یہ بات کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتی تھی کہ یہ آسمان چوہدری ظہور الٰہی کے فرزند اور زیڈ اے بھٹو کے داماد کو شیر و شکر ہوتا دیکھے گا!
۔۔۔جاری ۔۔۔

kal-ki-baat

Scroll To Top