کوئی نہیں جانتا کہ کس کو کس وقت اللہ تعالیٰ رہزن سے رہبر بنا دے۔۔۔۔

میں صبح واک کرتے وقت قرآن حکیم کی آیات ترجمے کے ساتھ ضرور سنتا ہوں۔ یہ عادت برسوں پرانی ہے اور اس عادت کی وجہ سے احکامات الٰہی کے بارے میں میری آگہی کافی معقول ہے اور میں اپنے بعض ” اہل دانش “ کی طرح یہ فرض نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہوگا اور یہ نہیں کیا ہوگا۔۔۔
آج صبح میں نے جن آیات کو ترجمے کے ساتھ سنا ان کا تعلق غزوہ احد کے بعد کے دور سے ہے ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ اس غزوہ میں مسلمانوں کو جس ہزیمت اور جتنی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اس کا سبب احکامات رسول ﷺ سے چشم پوشی اور ارادی یا غیر ارادی طور پر انکار تھا۔ اس چشم پوشی سے کچھ لوگوں کے کمزور ایمان نے اپنے آپ کو عیاں کیا اور کچھ کی منافقت کھل کرسامنے آئی ۔۔۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ غزوہ احد اللہ تعالیٰ کی طرف سے کمزور اور مضبوط ایمان والوں کا امتحان ہونے کے ساتھ ساتھ منافقین اور مرتد ین کو بے نقاب کرنے کا وسیلہ بھی تھا۔ اس جنگ نے آنحضرت ﷺ پر پوری طرح یہ بات آشکار کردی کہ کون کہاں کھڑا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت بھی دی کہ جو اپنے کمزور ایمان یا اپنی عہد شکنی پر نادم تھے یا نادم ہوئے انہیں اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا۔۔۔
” کیوں کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اور معاف کرنے والا ہے ۔“
اگردیکھا جائے تو احد میں کفار کی جماعت میں چند بڑے نام ایسے تھے جو مسلمانوں کی ” شکست “ کی وجہ اگر نہیں بنے تو کم ازکم انہوں نے اس ” نیم شکست“ میں کلیدی کردار ضرور ادا کیا۔ ان میں دو نام فوری طور پر میرے ذہن میں آتے ہیں۔۔۔
ابو سفیان اور خالد بن ولید۔۔۔
ابو سفیان نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا او ر کفر و اسلام کے ایک کلیدی معرکے ” حنین“ میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ جہاں تک حضرت خالد بن ولید ؓ کا تعلق ہے انہوں نے صلح حدیبیہ کے کچھ ہی عرصہ بعد اسلام قبول کیا اور مکہ کی طرف پیش قدمی کرنے والے اسلامی لشکر کی سالاری کا پرچم ان کے ہاتھ میں تھا۔انہیں ہی آنحضرت ﷺ نے سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کے لقب سے نوازا اور یہ ایک ایسا امتیا ز ہے جس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔۔۔
میں نے یہ ساری تمہید اس لئے باندھی ہے کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ ” میاں نوازشریف جناب آصف علی زرداری اور ان کے حواریوں جیسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کی سنگین نافرمانی اور بدعہدی کے مرتکب ہوئے ہیں انہیں خدائے بزرگ و برتر اور رحمان و کریم معاف کردے او ر راہ راست پر لے آئے ۔۔۔؟“
مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ میں اور عمران خان جمعہ کے روز پشاور جارہے تھے ۔۔۔ جمعہ کی نماز کے وقت ہم ایک مڈوے آرام گاہ پر رکے مسجد میں سب سے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور آکر گاڑی میں بیٹھ گئے حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے عمران خان کی طرف توجہ نہ دی۔ کسی کے شاید وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اتنی سادگی سے عام آدمیوں میں گھس کر نماز پڑھنے والا شخص عمران خان ہوسکتا ہے۔۔۔
جب ہم واپس گاڑی میں بیٹھے تھے تو عمران خان نے کہا ۔ ” بڑا مزہ آیا۔ مستقل لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہنا بھی ایک طرح کی قید ہے۔۔۔“
پھر ہمارے درمیان سیاست اور دین کے مختلف پہلوﺅں پر بحث چھڑ گئی ۔۔۔
ایک موقع پر انہوں نے کہا۔ ” سیاست کے اپنے تقاضے ہیں۔ چند روز میں مجھے ایک ایسے شخص کو اپنی پارٹی میں خوش آمدید کہنا ہے جس سے میں ہاتھ ملانا تک پسند نہیں کرتا تھا۔“
باتوں ہی باتوں میں ` میں نے کپتان سے کہا۔۔۔
” کبھی آپ نے سوچا کہ جن لوگوں کے بارے میں آپ اس قدر سخت زبان استعمال کرتے ہیں وہ کسی روز آپ کے ساتھی بن سکتے ہیں ` آپ کے پہلو میں کھڑے ہوسکتے ہیں اور آپ کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ؟“ میری اس بات پر عمران خان سو چ میں پڑ گئے پھر کہنے لگے۔۔۔
” میں سمجھ گیا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ یہ میری فطرت کا حصہ ہے کہ میں زندگی کودو رنگوں میں دیکھتا ہوں۔ ایک رنگ کالا۔ اوردوسرا سفید ہے۔ میں سفید کو سفید اور کالے کو کالا کہے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔“
” مگر آپ یہ بھی تو کہتے ہیں کہ آپ کے اصل لیڈر آنحضرت ﷺ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے کبھی ابوجہل کو بھی برا بھلا نہیں کہا تھا۔ ان کی یہ دعا مشہور ہے کہ یا رب ان دو عمروں (حضرت عمر بن خطاب ؓ اور عمرو بن ہشام المعروف ابوجہل)میں سے کم ازکم ایک کو ہدایت دے دے۔ یہ دُعا قبول ہوئی اور حضرت عمر ؓ اسلام کے ایک عظیم جرنیل بنے۔ لیکن یہ دُعا ایک لحاظ سے ابوجہل کو خراج تحسین بھی تھی۔۔۔“
مجھے آج یہ گفتگو اس لئے یاد آئی ہے کہ میں عمران خان کو آنحضرت ﷺ کے ایک سچے پیروکار کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔
ہماری تمام تر نفرتیں اور محبتیں اللہ کی راہ میں ہونی چاہئیں۔ اور جس قدر بھی ممکن ہو ہماری اپنی عداوتیں ہمارے رویوں کا باعث نہ بن پائیں۔۔۔

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top