افغانستان صرف اور صرف اپنا مفاد دیکھے

zaheer-babar-logo
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور افغان صدر اشرف غنی نے خطے کی سکیورٹی کے حوالے سے مشترکہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا ہے۔جمعہ کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کابل پہنچے جہاں دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی۔افغان صدارتی محل کے ترجمان شاہ حسین مرتضائی کے مطابق دونوں ممالک نے عدم اعتماد کی فضا کو ختم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا خیر مقدم کیا “
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں اتارچڑھاو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا مگر مشکلات کے باوجود دونوں ملک حالات بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پڑوسوں ملکوں میں بداعتمادی کی فضا پیدا کرنے میں جس ملک نے کلیدی کردار اد اکیا وہ بجا طورپر بھارت ہے۔ نئی دہلی سمجھتا ہے کہ افغانستان پر جس قدر و اثر رسوخ حاصل کریگا اتنیا ہی وہ پاکستان کو خطے میں تنہا کرسکتا ہے، بدقمستی سے خود افغان قیادت بھی اس چال کو سمجھنے میں کامیاب نہیں ہورہی کہ بھارت کے ہاتھوں میںکھیلنا خود اس کے لیے مسقبل قریب میں مسائل پید اکرسکتا ہے۔
نائن الیون کے بعد پیش آنے والے واقعات میں جہاں پاکستان کو امریکہ سے نہ لڑنے کا مشورہ دیا تھا وہی یہ باور کروانے کی کوشش ہے کہ جنگ اس مسلہ کا حل نہیں۔ امریکی حملے کے نتیجہ میں طالبان حکومت ختم ہونے کے بعد اشرف غنی سے بھی پاکستان نے پورا تعاون کیا۔پاک افغان تعلقات میں خرابی اسی وقت بڑھی جب نئی دہلی اور کابل ایک دوسرے کے قریب آئے یہاں یہ بتانا لازم ہے کہ پاکستان کسی طور پرافغان امور میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا۔ ماضی کی پالیساں ایک طرف مگر اب پاکستان کی دیرینہ خواہش ہے کہ کابل میں ایسی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے جسے سب ہی فریقوں کی حمایت حاصل ہو۔
دنیا بدل چکی ، جو کوئی بھی پاکستان پر یہ الزام لگا رہا کہ پاکستان افغانستان میں مداخلت کا مرتکب ہورہا وہ عملا بدگمانیوں کو بڑھانے کا مرتکب ہورہا۔
نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو قربانیاں دیں اس کی حالیہ تاریخ میںمثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ہزاروں قیمتی جانیں قربان کرنے اور اربوں روپے کی املاک تباہ ہوئیں مگر امریکہ کی آشیرباد کے نتیجے میں افغانستان اور بھارت یہی دہائی دے رہے کہ دراصل پاکستان ہی مسلہ کی جڑ ہے یعنی پاکستان ان گروہوں کی سرپرستی کا فریضہ سرانجام دے رہا جو افغانستان میں اتحادی افواج کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔
یاد رکھنا چاہے کہ امریکہ گذشتہ کئی سالوں سے اسی بنیاد پر پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔بظاہر سچ یہی ہے کہ امریکہ اور اس کی اتحادیوں کو افغان سرزمین پر مشکل صورت حال کا سامنا ہے، یعنی مسقبل قریب میں بھی انھیں یہ جنگ اپنے حق میں ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی،یہی وہ حقیقت ہے جس کے پیش نظر وہ مسلسل پاکستان پر ناکامیوں کا تمام تر ملبہ ڈال رہے۔ شاہد خاقان عباسی کا حالیہ دور تو ایک طرف اس سے قبل بھی پاکستان افغانستان سے تعلقات بہتر بنانے کی کئی مرتبہ کوشش کرچکا یہی وجہ ہے کہ بعض حلقوں کے خیال میں پاکستان افغانستان مذاکرات کی فلاپ فلم ہی ہونی ہے۔ گذشتہ سال سے پاکستان نے الزام تراشیوں کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے پاک اففان بارڈر کو محفوظ بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ افغان حکومت نے اس بڑے منصوبے میں تعاون کرنے کی بجائے اسے متنازعہ بنانے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ پاکستان کے اخلاص کا بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحد کی مشترکہ نگرانی پر رضامند ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ وفود کی سطح پر ہونے والی اس ملاقات کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ، افغان مہاجرین کی متفقہ ٹائم فریم کی بنیادوں پر واپسی، قیدیوں کی واپسی کے لیے کاغذی کارروائی شروع کرنے اور سرحد پار سے مداخلت کے بارے میں بات کی
۔ اب دونوں ممالک کے سربراہان نے علاقوں کو آپس میں ملانے کے لیے کوئٹہ، قندھار اور ہرات ریلوے اور پشاور، جلال آباد ریلوے سمیت پشاور، کابل موٹروے کے حوالے سے بھی بات چیت کررہے ہیں۔
اب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی افعان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی دعوت پر کابل گے ہیں مگران کا دورہ کس حد تک سودمند ثابت ہوگا اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے فوجی اور سیاسی رہنما باقاعدگی سے کابل کے دورے کر رہے ہیں۔ مبصرین کے خیال میں برف پگھلنے کا بظاہر آغاز پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس سال فروری میں دورے سے ہوا۔یقینا کافی تلخیوں اور تاخیر کے بعد ہونے والے اس دورے میں جنرل باجوہ نے افغانستان اور امریکہ دونوں کو علاقائی سکیورٹی معملات پر ‘مشترکہ اور تسلسل کے ساتھ’ کوششوں کی پیشکش کی تھی۔
پاکستان سے زیادہ امن کی قیمت سے کوئی آگاہ نہیں ۔پاکستان نے جاری جنگ میں جس وسیع پیمانے کر نقصان اٹھایا ہے وہ ہرگز مخفی نہیں۔ افغانستان اور بھارت کو سمجھ لینا چاہے کہ ان کا جس دشمن سے واسطہ ہے کہ وہ باہم الزام تراشیوںکے ماحول میں طاقتور ہورہا۔ مسلہ حل کرنے کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ باہمی اعتماد کے رشتوں کو بحال کیا جائے۔ افغانستان صرف اور صرف اپنا قومی مفاد مد نظر رکھے، بھارت کے ساتھ افغانستان کے تعلقات پر اعتراض نہیں کیا جارہا تنازعہ اس پر ہے جب افغان سرزمین کر بھارت اپنے مذموم مقاصد کے لیے استمال کرےِ۔اگر مگر کے باوجود یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کب اور کیسے خوشگوار ہونگے۔

Scroll To Top