اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 8 فلسطینی شہید، 700 سے زائد زخمی

iغزہ کی سرحد پر ہزاروں فلسطینی مظاہرین موجود ہیں جو آزاد ریاست کے حق میں نعرے بازی کررہے ہیں (فوٹو: رائٹر)

مقبوضہ بیت القدس: اسرائیلی فوج کی غزہ کی سرحد پر احتجاج کرنے والے فلسطینی باشندوں پر وحشیانہ فائرنگ اور شیلنگ سے 8 فلسطینی شہید اور 780 زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینیوں کی احتجاجی تحریک کے دوسرے جمعے کو بھی غزہ کی سرحد پر ہزاروں فلسطینیوں نے احتجاج کیا جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ مظاہرین نے سرحد پر ٹائر جلائے اور آزاد فلسطینی ریاست کے حق میں نعرے بازی کی۔

palestine

نہتے مظاہرین کے خلاف اسرائیل فوج نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے فائرنگ کرکے مزید 8 نوجواں کو شہید کردیا جس کے بعد 30 مارچ ’یوم الارض‘ سے اب تک شہدا کی تعداد 27 ہوگئی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 2000 سے زائد ہوگئی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ماجدی نامی نوجوان کو مشرقی غزہ میں فائرنگ کرکے شہید اور 250 کے قریب افراد کو  زخمی کیا جبکہ خان یونس میں گولیاں لگنے سے 38 سالہ اسامہ نامی شخص شہید ہوگیا۔ اس علاقے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 150 کے قریب ہے۔

palestine-3

وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق سر اور جسم کے اوپری حصے میں گولیاں لگنے والے 5 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

palestine-2

مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں میں مہاجرین، ڈاکٹرز، وکلاء، یونیورسٹی طلباء، درس و تدریس سے وابستہ افراد، سول سوسائٹی اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں۔

یہ احتجاجی مہم 30 مارچ سے 15 مئی تک جاری رہے گی جو کہ 70 سال قبل 1948ء میں اپنے گھروں سے نکالے گئے ساڑھے 7 لاکھ فلسطینیوں کی یاد میں ہرسال چلائی جاتی ہے۔

Scroll To Top