یا د کریں 1970ءکو۔۔۔ 16-02-2013

kal-ki-baat

میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر 1970ءکے اوائل میں محبانِ پاکستان کو اس بات کا گمان بھی ہوتا کہ جن انتخابات کی وہ تیاریاں کررہے ہیں اور جن انتخابات کے ساتھ ملک کا ایک شاندار ” جمہوری “ مستقبل وابستہ کیا جارہا ہے ` وہ انتخابات قائداعظم ؒ کے بنائے ہوئے وفاق کے لئے زہر قاتل ثابت ہوں گے اور ان کے نتیجے میں ملک دولخت ہوجائے گا ` تو شاید ” جمہوریت “ بحال کرانے کا عزمِ صمیم اس قدر اٹل اور راسخ نہ ہوتا جس قدر وہ ہوتا چلا گیا۔
متذکرہ انتخابات کے بارے میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تمام کی تمام رپورٹیں غلط ثابت ہوئیں۔ ان رپورٹوں کے مطابق مشرقی پاکستان میں کم ازکم پچاس نشستوں پر شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کے مخالفوں کا قبضہ یقینی تھا۔ جو نتائج درحقیقت سامنے آئے وہ پاکستان کو دولخت کردینے کا باعث بنے۔
یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے مشرقی پاکستان میں الیکشن آفس ہی قائم نہیں کیا تھا۔ بھٹو مرحوم نے وہاں ایک امیدوار کھڑا کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
جن لوگوں نے بھٹو مرحوم کی 1967ءمیں تحریر کردہ کتاب The Myth Of Independenceپڑھی ہے وہ جان سکتے ہیں کہ انہیں مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کی بین الاقوامی سازش کا پوری طرح علم تھا۔ اس ضمن میں یہ سوال ذہن میں ابھرے بغیر نہیں رہتا کہ اگر بھٹو مرحوم کو مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کی کسی سازش کا علم تھا تو انہوں نے قوم کو خبردار کیوں نہ کیا۔
بہرحال اب یہ باتیں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں ۔ اس موضوع کا انتخاب میں نے آنے والے عام انتخابات کے ممکنہ نتائج کو سامنے رکھ کر کیا ہے۔ ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ جتنی دلچسپی ہمارے دشمنوں کو مشرقی پاکستان الگ کرنے سے تھی اس سے زیادہ دلچسپی انہیں بلوچستان سے ہے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ میاں نوازشریف ہماری تاریخ کے ایک اور ذوالفقار علی بھٹو بن جائیں۔
اس صورت میں شیخ مجیب الرحمان کون ہوگا ` اس کے بارے میں ` میں کچھ نہیں کہہ سکتا!
جو بات میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ پاکستان ایک سے زیادہ ایسی اسمبلیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا جو کسی بھی وقت کوئی بھی قرارداد منظور کرسکتی ہوں !

Scroll To Top