چیف جسٹس صاحب۔۔۔ زرہ بکتر پہن لیں جھانسی کی رانی تلوار لہراتی آپ کی طرف آرہی ہے ۔۔۔!

ہر نئی تقریر کے بعد مجھے یہ یقین ہوتا چلا جارہا ہے کہ جاتی عمرہ کی رانی نے مشہور فلم ” جھانسی کی رانی “ دیکھ کر اپنی زندگی او ر اپنی سیاست کی راہیں متعین کرلی ہیں۔۔۔

میں انہیں شہزادی نہیں کہوں گا وہ رانی ہی ہیں۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ کیپٹن صدر انہیں رانی ہی سمجھتے ہیں اور اُن کے انداز بتا رہے ہیں کہ اگر انہیں تخت خالی ملا تو وہ چھلانگ مارکر اس پر بیٹھ جائیں گی اور اپنے ابا حضور سے کہیں گی۔۔۔ ” تھینک یُو ڈیڈی۔۔۔ آپ نے ایک سچے پیار کرنے والے باپ کا حق ادا کردیا ۔۔۔ ورنہ آپ میرے مشوروں پر عمل کرتے کرتے یہاں تک کیوں پہنچتے۔۔۔“
اپنی تازہ ترین تقریر میں جاتی عمرہ کی رانی نے اپنے تصور میں خود کو جھانسی کی رانی کے انداز میں تلوار لہراتے دیکھ کر کہا ہے :
” ہم ایسے فیصلوں کو اپنے قدموں تلے روندتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور جن ججوں نے ہمارے ابا حضور سے تخت و تاج چھینا ہے انہیں نشان ِ عبرت بنادیں گے۔۔۔“
الفاظ شاید مختلف تھے ۔۔۔ مگر کہنا وہ یہی چاہ رہی تھیں۔۔۔ بولتی وہ حفظ کرنے والے” حافظ بچوں“ کے انداز میں سر ہلا ہلا کر ہیں۔۔۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ ذرا بھی نہیں اٹکتیں۔۔۔ لگتا ہے کہ بڑا سچا جذبہ ہے جو اندر سے الفاظ کا طوفان نکال نکال کر باہر پھینک رہا ہے۔۔۔
ان کی آخری تقریر سنتے وقت مجھے یوں لگا کہ جیسے اب وہ کہنے والی ہیں!
اٹھو مری دُنیا کے غریبوں کو جگا دو
کا خ امرا کے در و دیوار ہلا دو
مگر وہ یہ کہتے کہتے رہ گئیں۔۔۔
انہیں یاد آیا کہ کاخ امرا کے درودیوار ہلانے کے لئے لوگ کہیں جاتی عمرہ کی طرف نہ نکل کھڑے ہوں۔۔۔
چنانچہ انہوں نے ججوں کو ہی اپنا ہدف بنائے رکھنا مناسب سمجھا۔۔۔
چیف جسٹس صاحب ۔۔۔ زرہ بکتر پہن لیں ۔۔۔جھانسی کی رانی تلوار لہراتی آپ کی طرف آہی ہے۔۔۔!

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top