عدالت عظمٰی کے خلاف سازش کی جارہی ؟

zaheer-babar-logoایک اہم پیش رفت یوں سامنے آئی کہ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کی تقرری کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔ جمعرات کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جج کا تقرر قانون کے مطابق ہوا۔عدالت کا کہنا تھا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
یقینا افسوسناک ہے کہ بعض عناصر جناب جٹس فائز عیسی کی سپریم کورٹ کے جج کی حثیثت سے تعیناتی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہے۔ اس معاملے کو یوں بھی دیکھا جارہا کہ اس کے زریعہ بلوچستان میں احساس محرومی پیدا کرکے ملک دشمن عناصر کے موقف کو تقویت بخشی جارہی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جناب جٹس فائز عیسی کے خلاف درخواست کو مسترد کرکے جو پیغام دیا گیا وہ بڑی حد تک نمایاں ہے۔ درخواست گزار حنیف راہی کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب جناب جٹس قاضی فائز عیسی کو بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا تو اس وقت وہ ہائی کورٹ کے جج بھی نہیں تھے جبکہ چیف جسٹس کے عہدے پر پہنچنے سے پہلے عدالت عالیہ کا جج ہونا ضروری ہے۔
درخواست گزار کے بعقول ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قاضی فائز عیسی کو بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کے لیے تمام قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھا گیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تعینات کیا گیا شخص اس عہدے کا اہل نہیں تھا۔درخواست گزار کے وکیل علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی تعیناتی بلوچستان اسمبلی کے سپیکر نے کی تھی جو اس وقت قائم مقام گورنر تھے۔دلائل میں یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ شخص کی بطور چیف جسٹس تعینات کرنے کے لیے اس وقت صوبے کے وزیر اعلی سے مشاورت کا ریکارڈ ابھی تک سامنے نہیں آیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ مشاورت ایک دوسرے سے ملاقات میں ہو ٹیلی فون پر بھی بامقصد مشاورت ہوسکتی ہے۔عدالت کے بعقول کہ نگراں وزیر اعظم کے پاس بھی وہی اختیارات ہوتے ہیں جو کہ ایک منتخب وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں۔
باخبر حلقوںکے بعقول جسٹس فائز عیسی کے خلاف مہم دراصل عدلیہ کے خلاف مہم ہے ۔ اس کے درپردہ وہی قوتیں ہیں جو عدالت عظمی کی ساکھ پر سوالات اٹھانے کے درپے ہیں۔ ہم باخوبی جانتے ہیں کہ مسلم لیگ ن طے شدہ حکمت عملی کے تحت عدلیہ پر حمہ آور ہے ۔ حکمران جماعت سمجھتی ہے کہ اس کی سیاسی بقا اسی میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح شریف خاندان کے خلاف متوقع فیصلوں کو روک دیا جائے ۔ اگر یہ نہیں تو عدالت کی غیر جانبداری کو پوری قوت سے کے ساتھ متنازعہ بنانے کا سلسلہ جاری وساری رکھا جائے۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کا معاملہ بھی اسی پس منظر میں سامنے لایا گیا۔ یعنی یہ سوال اٹھا یاگیا کہ آخر کیوں انھیں پہلے ہی نوٹیفکیشن میں بلوچستان ہائی کورٹ کا جج اور پھر اسی وقت انھیں بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کردیا گیا۔ حقائق بتا رہے کہ کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی بطور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی قانون کے مطابق ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سپریم کورٹ کے31 جولائی سنہ 2009کے فیصلے کے بعد ان تمام ججز کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیاگیا تھا جنھوں نے پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عبوری آئینی حکم نامے پر حلف اٹھایا تھا۔یعنی بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سمیت تمام ججز نے سابق فوجی صدر کے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد انھیں عہدوں سے ہٹا دیا گیا جس کی وجہ سے بلوچستان ہائی کورٹ میں اک بھی جج نہیں لگا۔
اس غیر معمولی صورت حال میں جسٹس قاضی فائز عیسی کو پہلے نوٹیفکیشن میں بلوچستان ہائی کورٹ کا جج اور پھر اسی وقت انھیں بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کردیا گیا تھا۔
موجودہ صورت حال میں یہ سوال خاصی اہمیت اختیار کرچکا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بعض وکلاءدانستہ یا غیر دانستہ طور پر اس کھیل کا حصہ بن رہے جو سپریم کورٹ کے خلاف کھیلا جارہا۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک تاریخی دور سے گزر رہا ہے آنے والے دنوں میں ایسے فیصلے سامنے آسکتے ہیںجو قومی سیاست کا رخ ہی بدل دیں۔ بلاشبہ پاکستان بہتری کی جانب گامزن ہے۔ موجودہ بحرانی صورت حال زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی ، ان حالات میں محب وطن حلقوں کو اپنے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
سمجھ لینا چاہے کہ چیف جٹس آف پاکستان اپنے ذاتی مفاد کے لیے کچھ نہیں کررہے۔ ان کی تمام تر کوشش کا محور یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے ملک کے عام آدمی کو ریلیف دیا جائے، درحقیقت جمہوریت کے نام ہمارے ہاں ایسی سیاسی قوتیں بھی ہیں جن کا ایجنڈا عملا ملک کو مسائل میں رکھنا ہے، بادی النظر میں وہ اس پر یقین رکھتی ہیں کہ جمہوریت یہی ہے کہ جہاں عام آدمی کو بینادی ضروریات زندگی حتی کہ پینے کا صاف پانی بھی میسر نہ ہو۔ صحت اورتعلیم کی ناگفتہ بہ صورت حال تقاضا کررہی کہ سیاسی جماعتیں عدالتوں پرحملہ آورہونے کی بجائے اپنی آئینی ،قانونی اوراخلاقی زمہ دایاں ادا کریں۔

Scroll To Top