بھارت میں سیاست دان کا گھر نذر آتش، اتر دیش میں تیسرے روز بھی کرفیو نافذ

yگوالیار میں گزشتہ تین روز سے کرفیو نافذ ہے (فوٹو: فائل)

نئی دہلی: بھارت میں مشتعل ہجوم کی جانب سے مقامی سیاستدانوں کے گھروں کو نذر آتش کرنے کے بعد اترپردیش کے کئی اضلاع میں تیسرے روز بھی کرفیو نافذ ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ تین روز سے جاری فسادات میں پہلے کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی ہے اور تیسرے روز ایک شخص کی ہلاکت اور تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے تاہم گزشتہ شب دلت ذات کے چند سیاسی رہنماؤں کے گھروں پر پُر ہجوم اور مشتعل جتھے نے حملہ کر کے گھروں کو آگ لگا دی۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے جس کے بعد کرفیو میں ایک دن کا مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔

پیر سے جاری نسلی فسادات میں اب تک 9 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے دوران 2 ہزار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا اور سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ بھارتی حکومت تاحال متنازع فیصلے کے خلاف ہندوؤں کی نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی دلت کمیونٹی کے غصے پر قابوپانے میں ناکام نظر آئی ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے اس قانون میں نظر ثانی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے 48 گھنٹے کے دوران مکمل تفصیلات کے ساتھ دوبارہ درخواست دائر کرنے کا حکم دیا تھا جس پر حکومت کل یا پرسوں نظر ثانی کی درخواست دوبارہ دائر کرے گی جس کے بعد حالات پر قابو پانے کی امید جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ 20 مارچ کو بھارتی سپریم کورٹ نے کسی بھی شخص کی اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق بل 1989ء کے تحت گرفتاری پر پابندی عائد کردی تھی اور اس قانون سے حاصل دلت کمیونٹی کی سہولیات کو بھی ختم کردیا گیا ہے جس کے بعد سے دلت کمیونٹی کی جانب سے ’بند بھارت‘ کے نام سے احتجاجی مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔

Scroll To Top