طبلِ جنگ بج چکا ہے 15-02-2013

kal-ki-baatمیری مذہبی سوچ علامہ طاہر القادری کی اس سوچ سے تقریباً متصادم ہے جس کا پرچار وہ ایک عرصے سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ میں اپنے آپ کو ایک انتہائی بے لچک توحید پرست سمجھتا ہوں۔ وہ ذات جس سے مانگا جاتا ہے اور جس کے سامنے جھکا جاتا ہے وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس ضمن میں اس سے زیادہ کچھ کہنا میں مناسب نہیں سمجھتا۔ البتہ علامہ اقبال ؒ کا یہ شعر یہاںدرج کردینا نامناسب نہیںہوگا۔
کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیران ِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو !
میں یہاں علامہ طاہر القادری کی نیت کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہوں گا۔ نیتوں کے حال خدا جانتا ہے۔ خدا کے علاوہ کون جان سکتا ہے کہ ہمارے جج صاحبان کون سا فیصلہ کس نیت کے ساتھ کرتے ہیں اور کون سا فیصلہ کرتے وقت وہ کس کے اخلاقی یا سیاسی دباﺅ میں ہوتے ہیں۔ اگر ہم ایک دوسرے کی نیتوں کا حال جاننے کی اہلیت رکھتے تو اس دنیا کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا !
کہنا میں یہاں یہ چاہ رہا ہوں کہ اپنی پاکستان آمد کے بعد علامہ طاہر القادری نے جو کچھ بھی کہا وہ قوم کی ایک غالب اکثریت کے دل کی آواز تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو علامہ طاہر القادری کو اتنی توجہ حاصل نہ ہوتی اور نہ ہی اتنی پذیرائی ملتی۔
اگر آج بھی ریفرنڈم کرایا جائے اور عوام سے پوچھا جائے کہ وہ سیاست کو بچانا چاہیں گے یا ریاست کو تو صرف ایک ہزار خاندانوں اور ان خاندانوں کی عنایات سے فیضیاب ہونے والے چند لاکھ افراد کے علاوہ کروڑوں عوام یک آواز ہو کر کہیں گے کہ ” جان کی بازی لگا کر بھی ریاست کو ہی بچایا جائے۔“
میںجن ایک ہزار خاندانوں اور ان خاندانوں کی عنایات سے فیضیاب ہونے والے چند لاکھ اشخاص کی بات کررہا ہوں وہ درحقیقت 1%(ایک فیصد)ڈاکٹرائن کا حصہ ہیں۔یہ ایک فیصد یا اس سے بھی کم آبادی جمہوریت کے نام پر اس ملک کے وسائل پر قابض ہے اور اس نے باقی 99% آبادی کو اپنا یرغمال بنا رکھا ہے۔
یہ فیصلہ آنے والا وقت کرے گا کہ سازش اقتدار پر قابض طبقے کے حقِ اقتدار پر مہر تصدیق ثبت کرنے والے انتخابی عمل کے خلاف ہوئی ہے۔ یا پاکستان کے کروڑوں عوام کی ان تیزی سے جاگتی ہوئی امنگوں کے خلاف جو اپنی حقیقی حاکمیت قائم کرنے کا خواب دیکھنے لگے ہیں۔
لیکن ایک بات طے ہے کہ ” سٹیٹس کو “ فورسز کے خلاف طبل جنگ بج چکا ہے !

Scroll To Top