شورمچانے کی ذمہ داری اب میاں صاحب نے اپنے من پسند مصاجین سے لے کر اپنے من پسند میڈیا کو دے دی ہے

میاں نوازشریف اور ان کی فیملی کا معاملہ بڑا آسان سیدھا سادہ اور زیادہ سوجھ بوجھ نہ رکھنے والے شخص کے لئے بھی قابل فہم ہے۔۔۔

آپ ذرا ایک ایسے ڈاکو کے بارے میں سوچیں جو ایک بڑی واردات کرنے کے بعد کافی بڑے مالِ مسروقہ کے ساتھ نکلے اور ایک لمبے سفر کے بعد اسے موٹر وے پر ایک مڈوے ریستوران نظر آئے تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں چائے وغیرہ کے لئے رک جائے۔۔۔ اچانک وہاں سے ایک گشتی پولیس پارٹی کا گزر ہو جسے شبہ ہوجائے کہ یہ لوگ گڑ بڑ ہیں ۔۔۔ تلاشی پر ان کے قبضے سے چوری کا مال برآمد ہو تو پوچھ گچھ پر ڈاکو یہ موقف اختیار کرے کہ ثابت کرو کہ میں نے کوئی ڈاکہ ڈالا ہے۔۔۔ پولیس اس سے کہے کہ یہ بتا دو کہ تمہارے پاس یہ مال کیسے اور کہاں سے آیا ہے تو ہم چھوڑ دیںگے۔۔۔ پھر یہ بحث مہینوں تک چلتی رہے۔۔۔ اور ڈاکو اِس امید پر اپنے بیانیے پر اڑا رہے کہ چونکہ اس پر ڈاکہ زنی ثابت نہیں ہوسکی اس لئے وہ چھوٹ جائے گا۔۔۔ اور عدالت اس کے قبضے سے برآمد ہونے والے مال کے بارے میں قابلِ قبول وضاحت کے کئی مواقع دینے کے بعد اسے سزا دینے پر مجبور ہوجائے `تو وہ شور مچا دے کہ ” دیکھو لوگو مجھ پر ایک پائی کی بھی چوری ثابت نہیں ہوسکی۔۔۔ پھر بھی یہ ظالم اور سازشی لوگ مجھے سزا دے رہے ہیں۔۔۔ اٹھو ایسی عدالت کو آگ لگا دو ۔۔۔“
دو روز قبل میاں نوازشریف نے ایک جلسہ عام میں تقریباً یہی کچھ کہا۔۔۔ انہوں نے حاضرین سے یہ وعدہ بھی لیا کہ ” میں جہاں بھی ہوں۔۔۔ جیل میں ۔۔۔ یا کسی غار میں۔۔۔ میرا حکم تم تک پہنچے تو اس پر حرف بحرف عمل کرو گے۔۔۔“
جہاں تک شور مچانے کا تعلق ہے ` میاں صاحب کے اپنے رفقاءکا شور آج کل ذرا تھم چکا ہے۔۔۔ اب ان کی مدد کے لئے شور مچا نے کی ذمہ داری میڈیا کے اس حصے نے قبول کرلی ہے جو میاں صاحب کے مال مسروقہ سے خاصے بڑے پیمانے پر فیضیاب ہورہا ہے۔۔۔
یہ وہ میڈیا ہے جو قرآن حکیم کی پوری آیت نہیں پڑھتا صرف اتنا حصہ پڑھتا ہے کہ ” مت جا نماز کے قریب ۔۔۔“
گزشتہ شب ایک عرصے کے بعد مجھے کامران خان کاشو دیکھنے اور سننے کا اتفاق ہوا۔۔۔ ابتداءمیں ان کے لب ولہجے سے یوں لگا کہ جیسے وہ میاں صاحب کو ” امدادِ غیبی“ دینے کے فریضے سے کنارہ کش ہوچکے ہیں لیکن فوراً ہی بعد میری یہ خوش فہمی دور ہوگئی جب موصوف نے ارشاد فرمایا۔۔۔” کافی دنوں سے تحریک انصاف کے سربراہ جس معاملے میں بڑی بری طرح پھنسے ہوئے تھے اس سے وہ مکمل طور پر صحیح سلامت نکل آئے ہیں۔۔۔ چیف جسٹس نے فیصلہ دیا ہے کہ بنی گالہ کی تمام غیر قانونی تعمیرات کو قانون کے دائرے میں لاکر منظوری دے دی جائے اور آئندہ اگر کوئی غیر قانونی تعمیر ہو تو ملزم کو سخت سزا دی جائے۔۔۔“
یہ عدلیہ کا ایک عمومی فیصلہ تھا جسے عمران خان کے ساتھ جوڑ کر کامران خان نے اپنی روزی حلال کی۔۔۔
میاں صاحب کو ” امداد “ فراہم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ان کے مخالفوں کے کردار کو مشکوک بنا کر پیش کیا جائے۔۔۔
اور میاں صاحب اپنے مخالفین میں عمران خان فوج اور ججوں کوسر فہرست سمجھتے ہیں۔۔۔

aj ni gal new logo

Scroll To Top