مسلمان بھارت میں اجنبی

  • سعدیہ نواز

سعید نقوی بھارت کے مشہور صحافی ہےں اوراس سےکولر، لبرل اور جمہوری سوچ کے نمائندہ سمجھے جاتے ہےں جودو قومی نظرےے ، بھارت کی تقسیم اور قیامِ پاکستان کا سخت مخالف اور متحدہ بھارت اور ہندو مسلم اتحاد کا حامی ہے۔ گذشتہ دنوں انکی اےک کتاب “Being the Other: Muslims in India” منظرِ عام پر آئی۔ اس کتاب مےں انہوںنے بتاےا ہے کہ پچھلی سات دہائیوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بھارت کی آزادی کے بعد مسلمان آزاد ہونے کی بجائے انگرےز راج سے نکل کر ہندو راج مےں آگئے ہےں۔ مزید برآں انہوں نے بھارت مےںبتدریج سےکولر و لبرل طبقے کی شکست اور انہیں دیوار سے لگانے اور ہندو انتہا پسند نظرےے (ہندوتوا فلاسفی)کے فروغ، ہندو انتہا پسند تنظیموں کے بھارت کی سیاست پر پڑنے والے گہرے اثرات اور اسکے نتیجے مےں مسلمانوں کےساتھ ہونےوالے سلوک کی داستان بیان کی ہے جسکی وجہ سے مسلمان بھارت مےں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہ گئے ہےں۔ بھارت مےں ستّر سالوں سے جاری انہی پالیسیوں اور سوچ کی بدولت بھارت کی سیاست اور زندگی کے تمام شعبوں مےں مسلمانوں کی نمائندگی برائے نام رہ گئی ہے ۔لوک سبھاسے لےکر تعلیمی اداروں تک، سول سروس سے لےکر فوج، پولیس اور دیگر اہم اداروں تک مسلمان کسی بھی شعبے مےں نظر نہیں آتے۔ مسلمانوں کےخلاف ظلم و زیادتی اوراسی امتیازی سلوک کی وجہ سے مصنّف اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ مسلمانوں کےخلاف اس جرم مےں صرف ہندو انتہا پسند اکےلے ہی مجرم نہیں ، کانگرس بھی اس جرم مےں برابر کی شریک رہی ہے جو ہمےشہ جمہوریت، آزاد خیالی اور سب سے بڑھ کر مسلمانوں کی نمائندگی کی علمبرداری کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔
کانگرس نے بھارت کے جمہوری ریاست ہونے کا دعویٰ تو کیا لےکن کشمیر کے معاملے مےں اس نے کشمیریوں کو ان کا پےدائشی حق دےنے سے انکار کردیا۔1947مےں جموںکے مسلمانوںکےساتھ ہونےوالے ظلم اور نسل کشی کا حوالہ دےتے ہوئے مصنّف نے بتاےا کہ جموں سے باہر سے آنےوالے ہندو انتہا پسندوں اور سکھوں نے مل کر محض چند دنوں کے دوران لاکھوں مسلمانوں کا اس بے دردی سے خون بہاےا کہ سرکاری طور پر ان اعداد و شمار کا رےکارڈ مرتّب کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ مسلمانوں کے خون سے کھےلی جانےوالی یہ ہولی اس وقت تک جاری رہی جب تک ےاتو تمام مسلمان قتل کردیئے گئے ےا وہ اپنی جانےں بچاکر پاکستان ہجرت کرگئے۔ ہندو انتہا پسند تنظیم RSSمسلمانوں کے خون بہانے مےں سب سے آگے تھی لےکن کانگرس نے ان تمام واقعات پر خاموشی سادھ لی اور ان بے گناہ مسلمانوں کے قتل پر نہ تو اےک لفظ احتجاج کیا اور نہ ہی ان واقعات کی روک تھام کےلئے کوئی اقدامات کئے۔ حتّٰی کہ کسی مجرم کےخلاف کوئی کارراوئی تک نہیں کی۔
اسی طرح سعید نقوی بھارت کے مسلمانوں کا المیہ بتاتے ہوئے لکھتے ہےں کہ انتہا پسند ہندو جماعتوں اور تنظیموں کا اےجنڈا مسلمان مخالفت پر مبنی تھا اسلئے انکی تمام سرگرمیاں مسلمان دشمنی پر مبنی تھےں لےکن کانگرس جو اپنے آپ کو لبرل، سےکولراور جمہوری کہلوانے اور مسلمانوں کی نمائندگی کرنے پر مُصر رہی ہے، بھی مسلمانوں کےساتھ امتیازی سلوک کرنے مےں پیچھے نہیں رہی۔ نہرونے بھی جو بھارت مےں لبرل ازم اور سےکولرازم کے سرخےل تھے اس الزام سے بری نہیں کیونکہ انہوں نے بھی1947کے بعد بھارت مےں ہونےوالے مسلم کش فسادات مےں جن کی ذرائع ابلاغ مےں تشہیر نہیں کی گئی مسلمانوں کےساتھ ہونےوالی زیادتی سے صرفِ نظربرتا ۔ انکی خاموشی نے ہندو انتہا پسندوں کو شہہ دی۔ مصنف یہ بھی لکھتا ہے کہ کانگرس کی تمام قیادت مےں کوئی اےک اےسا رہنما موجود نہیں تھا اور یہ ہی آج موجود ہے کہ جسے بھارت مےں رہ جانےوالے ان مسلمانوں کےساتھ کوئی ہمدردی ہو جنہوںنے پاکستان ہجرت کرنے کی بجائے بھارت مےں رہنے کو ترجیح دی۔ یہی وہ حالات تھے جنہوںنے مسلمانوں کو بھارت کے سیاسی دھارے کا حصہ بننے اور دیگر شعبہ ہائے زندگی مےں آگے آنے کے تمام راستے مسدود کر دئےے۔
1992سے پہلے بھی بھارت مےں کئی مسلم کش فسادات ہوئے جو گجرات کے فسادات سے زیادہ خونرےز اور متشدّد تھے لےکن ان سے متعلق خبروں کو بھارتی ذرائع ابلاغ مےں مناسب جگہ نہیں دی گئی۔ مصنف 1992مےں ہندو انتہا پسندوںکے ہاتھوں اےودھیا کی بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کو اےک اہم موڑ قرار دےتے ہوئے لکھتا ہے کہ پولیس، قانون نافذ کرنےوالے ادارے اور سیاسی و انتظامی قوتےں اس واقعے کو خاموش تماشائی بن کر دےکھتی رہیں، یہاں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس وقت کانگرس برسرِ اقتدار تھی۔ اس واقعہ سے بھارت کے لبرل ازم اور سےکولر ازم کے نظرےے کو شدید نقصان پہنچا اور ہندو انتہا پسندی کو قبولیت عام ملی اور بھارت کے لبرل اور سےکولر طبقے کو دیوار کےساتھ لگا دیا گےا اور تحمل و برداشت کی اقداراور بھارت مےں مسلمانوں اور ہندوو¿ں کے مل جل کر امن کےساتھ رہنے کا خواب بھی دھندلا گےا اور ہندوتوا طاقتےں سیاسی اعتبار سے مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئیں ۔ ہندو انتہا پسندوںنے عوام مےں اپنے اےجنڈے کو مقبول بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جس مےں وہ کامیاب ہوتی نظر آرہی ہےں۔ گائے کے ذبیحہ کا معاملہ بذاتِ خود ہندوو¿ں مےں بھی متنازع رہاہے لےکن اسے مذہبی عقیدے کے طور پر پےش کیا گےا اورآج کے بھارت مےں گائے کے ذبیحہ پر پابندی ہے ، اسکے علاوہ مسلمان نوجوانوں کو گائے کا پیشاب پینے اور اس کا گوبر کھانے پر مجبور کیا جارہا ہے، گائے ذبح کرنے کے شک کی بنیاد پر مسلمان نوجوانوں کو قتل کیا جارہا ہے، مسلمانوں کو بھارت مےں رہنے کےلئے اپنی وفاداری ثابت کرنے کےلئے تمام حدےں پارکرنا پڑتی ہےں ، اوریہ بات زیادہ خطرناک ہے کہ حالات مزید خرابی کیجانب گامزن ہےں۔
پاکستان دو قومی نظرےے کی بنیاد پرقائم ہوا لےکن اسکے پس منظر مےں بھارت کی ہزار سالہ تاریخ ہے جس مےں مسلمانوں نے اس خطے پر حکومت کی لےکن ہندو¿وں کی مذہبی رواےات کا ہمےشہ احترام کیا۔ لےکن برصغیر مےں انگرےز راج کا قیام اور پھر 1857کی جنگِ آزادی کا زمزنہ بھی مسلمانوں اور ہندوو¿ں کے مابےن تفریق کا واضح کیا۔ بعدازاں انگرےزوں سے آزادی کی جدوجہد بھی حصولِ پاکستان کی جدوجہد مےں اسلئے تبدیل ہوگئی کہ ہندوو¿ںنے اپنی اکثریتی آبادی کے بل پر مسلمانوں کی علیحدہ شناخت کو ختم کرنے اور انہیں یہ باور کرانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اگر وہ بھارت مےں رہنا چاہتے ہےںتو انہیں ہندو ہونا پڑے گا بصورتِ دیگر انہیں بھارت مےں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ کانگرس اپنے قیام کے پہلے روز ہی سے ہندوو¿ں کے مفادات کے تحفظ کےلئے کوشاں رہی، زبانی جمع خرچ کےلئے تو وہ مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی رہی لےکن عملی طور پراسکا اےجنڈا انگرےزوں سے آزادی اور ہندو اکثریت کی حکومت کا قیام تھا۔ ہندی اردو تنازع، تقسیمِ بنگال، تحریکِ خلافت، سائمن کمیشن، تجاویزِدہلی، نہرو رپورٹ ، کانگرسی وزارتےںبرصغیر کی آزادی کی تاریخ کا وہ کون سا موڑ ہے جہاں مسلمانوں کو تنہا نہیں کیا گےا ےا مسلمانوں کو یہ احساس نہیں دلاےا گےا کہ انہیں اپنے حقوق کے تحفظ کےلئے اپنی شناخت کی قربانی دےنا ہو گی۔ ہندوو¿ں کے اسی روےّے کے باعث ہندو مسلم اتحاد کے سفیر قائدِ اعظم محمد علی جناح بھی اسی کانگرسی ہندو ذہنیت سے تنگ آکر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ہندو اور مسلمان اےک قوم نہیں اور وہ اےک ملک مےں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ یہی دو قومی نظریہ تھا کہ مسلمان اور ہندو دو مختلف قومےں ہےںجن کا مذہب، تاریخی ورثہ ، تہذیب و ثقافت، زبان، رہن سہن کے طریقے اےک دوسرے سے مختلف بلکہ متضاد ہےں۔ آج کا بھارت اس بات کا کافی ثبوت پےش کرتا نظر آتا ہے کہ مسلمانوں کی تہذیبی بقا اور مسلمانوں کی بحےثیت قوم اپنی شناخت برقرار رکھنے کےلئے دو قومی نظرےے کی بنیاد پر پاکستان کا قیام ناگزیر تھا۔

Scroll To Top