بھارت میں اقلیتوں کے مسائل بڑھ چکے

بھارت میں نچلی ذات سمجھی جانے والی دلت کمیونٹی کے دو سیاسی رہنماوں کے گھر جلائے جانے کے بعد راجھستان کے ضلع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔ سیاحت کے لیے مشہور ریاست راجھستان میں دلت ذات سے تعلق رکھنے والے افراد اور ان کے مخالفین کے درمیان شدید تناو کی صورتحال ہے۔ دلتوں کے احتجاج سے ناراض لگ بھگ پانچ ہزار مشتعل افراد نے گذشتہ روز راجھستان کے ضلع کاراولی میں دلت ذات کے دو سیاست دانوں کے گھروں کو جلا ڈالا مگر اس وقت دونوں سیاست دان گھر پر موجود نہ تھے۔
بھارت میں دلتوں ہی نہیں اقلیتوں اور خاص طور سے مسلمانوں کے ساتھ تشدد اور زیادتی کے واقعات معمول بن چکے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ گزشتہ چند برس کے دوران ایسی کاروائیوں میں اضافہ ہوا۔ یوں تو ملک کی سب اقلیتیں انتہا پسند ہندو گروہوں کا نشانہ بنتی ہیں مگر تشدد پسند گروہ خاص طور سے مسلمانوں کو تاک کر ان پر حملے کرتے ہیں ۔ عام طور پر یہ مسلمانوں پر یہ الزام لگا کر ان پر تشدد کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ گائے کا گوشت کھاتے ہیں یا ان کے پاس گائے کا گوشت موجود تھا۔ بھارت کے مختلف علاقوں میں اس مقصد کے لئے متعدد ہندو گروہوں ن رکھشا گروپ بن چکے مگر حکومت ان گروہوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں ناکام ہے۔
نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد مسلمانوں پر حملوں میں کئی گنا اضافہ ہوچکا۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی اور بی جے پی کے رہنما اقلیتوں کے خلاف ہندو گروہوں کی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کرتے ہیں جس سے انتہا پسندوں گروہوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران گ رکھشا گروہوں کے حملوں میں کئی لوگوں کو ہلاک کیا جا چکا۔ نریندر مودی نے اگرچہ ان واقعات کی مذمت کی ہے لیکن ان کی طرف سے مذمتی بیان تاخیر سے اور انتہائی نرم لہجے میں جاری ہوتے ہیں جس کی وجہ سے صورت حال خراب ہو رہی ہے۔
کہنے کو بھارت ایک سیکولر ملک ہے جہاں کا آئین تمام عقائد کو تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن بی جے پی کے موجودہ دور حکومت میں ملک کو ایک انتہا پسند ہندو ریاست میں تبدیل کیا جارہا جس کا خاص طور سے مسلمان نشانہ بن رہے ۔ بھارت میں مسلمانوں کی تعدا د 14 فیصد کے لگ بھگ ہے جبکہ ہندو 80 فیصد کے قریب ہیں۔ دراصل اقلیتوں کے خلاف بڑھتا ہا تشدد دہشت گردی کی صورت اختیار کرچکا ۔ ستم بالاستم یہ کہ حکومت انتہا پسند عسکری گروہوں کے وجود کو برداشت کرنے کے علاوہ ان کو مظالم اور قانون شکنی کی اجازت دے رہی ۔ پرتشدد کاروائیوں کے رونما ہونے اور پھر میڈیا میں خبریں آنے کے بعد لوگوں کو گرفتار تو کیا جاتا ہے لیکن انہیں شاذ و نادر ہی سزا ملتی ہے۔ دراصل اس کے نتیجے میں ان عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ وہ من مانی کرنے میں آزاد ہیں۔
ہندو مذہبی انتہا پسند مسلمانوں کے علاوہ سب سے بڑی اقلیت دلت کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مبصرین کے بعقول اگر بھارت کی حکومت ، نظام اور عدالتیں اس صورت حال کو تبدیل نہ کرسکیں تو اس خطہ میں ہندو مذہبی جنونیت ایک نئے دہشت گرد خطرہ کے طور پر سامنے آسکتی ہے۔ان دنوں بھارت کے مختلف شہروں اور اضلاع میں ہزاروں دلت سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس میں ان کے حقوق سے متعلق قانون کی ایک شق میں تبدیلی کا حکم دیا گیا۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا کہ ان احتجاجی مظاہروں میں لگ بھگ نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بھارت کی 1.25 ارب آبادی میں سے لگ بھگ 200 ملین افراد دلت ذات سے تعلق رکھتے ہیں جسے بھارتی سماج میں سب سے نچلی ذات تصور کیا جاتا ہے۔ اب ہوا یوں کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں حکم دیا کہ دلتوں کو ہراساں یا ان کے ساتھ زیادتی کرنے کے جرم میں فوری گرفتاری کے قانون کو تبدیل کیا جائے گا یعنی اب اس نئے حکم کے بعد دلت کمیونٹی کے کسی فرد کی جانب سے شکایت کیے جانے کے بعد سات روز تک تحقیقات کی جائیں گی جس کے بعد ہی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔بھارتی عدالت کے بعقول اس تبدیلی کی ضرورت یوں پیش آئی تاکہ اس قانون کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔ تاہم دلت رہنماوں کا کہنا ہے کہ اب ان کی کمیونٹی زیادہ کمزور ہو جائے گی۔ دلتوں کی جاری تحریک جس وقت میں شروع ہوئی وہ خاصی اہمیت کا حامل ہے ۔
واضح رہے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک بھارت میں اگلے برس پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہو نے جارہے ہیں لہذا مختلف مذاہب اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک ایک اہم سیاسی معاملہ بنا ہوا ہے۔ادھر بھارت کی حکمران سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں پر ان مظاہروں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اس عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کر دی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کے بارے میں یہ راز کھل چکا کہ بھارت سیکولر سے کہیں بڑھ کر ہندو ریاست ہے جس نے مسلمانوں سمیت سب ہی اقلیتوںں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔

zaheer-babar-logo

Scroll To Top