دوبڑے خاندانوں کی داستانِ مفاہمت 14-02-2013

جس جمہوریت کو پٹڑی پر رکھنے کے لئے ملک و قوم کا مستقبل داﺅپر لگایا جارہا ہے ` وہ دراصل دو بڑے خاندانوں کے آپس میں مُک مُکا کی کہانی ہے۔ اگر بات دو بڑی پارٹیوں کی ہوتی تو شاید یہ دلیل دی جاسکتی تھی کہ جمہوری عمل آگے بڑھے گا تو اس میں آہستہ آہستہ فلاح کی صورت بھی پیدا ہوتی رہے گی۔ لیکن اٹھارہویں انیسویں اور بیسویں ترمیم کے ذریعے پاکستان کی جمہوریت کو دو بڑے خاندانوں اور ان کے سربراہوں کے درمیان خفیہ مفاہمت کی ایک ایسی داستان بنا دیا گیا ہے جس میں اس ملک کے بدقسمت عوام کا کوئی کردار نہیں۔ ایک طرف زرداری صاحب کے بعد بلاول بختاور اور آصفہ تیار ہیں۔ اور دوسری طرف شریف برادران کے بعد ان کی اولادیں ملک پر قابض ہونے کے انتظار میں ہیں۔
جو الیکشن کمیشن متذکرہ مُک مُکا کے نتیجے میں قائم ہوا اور جو نگراں سیٹ اپ آنے والے ہفتوں کے دوران قائم ہوگا اس کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے ` اس کا اندازہ لگانا کسی کے لئے بھی مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ بنیادی طور پر یہی دو خاندان ملک پر قابض رہیں گے جو آج بھی اپنا شمار ایشیا کے امیر ترین خاندانوں میں کرا سکتے ہیں۔
یہ وہ جمہوریت ہے جس کی حفاظت کا ذمہ ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ نے اٹھا رکھا ہے۔ چیف جسٹس صاحب کئی بار فرما چکے ہیں کہ انہوں نے مارشل لاءکے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردیئے ہیں۔ یہ دعوے بھٹو مرحوم نے بھی کئے تھے او ر یہ خوش فہمی میاں صاحب کو بھی تھی۔ بپھرے ہوئے طوفانوں کا راستہ کون روک سکتا ہے ؟
مجھے یہاں ایک دلچسپ کہانی یاد آرہی ہے ۔ ایک شخص گاﺅں کے حکیم کے پاس پیٹ کے علاج کے لئے گیا۔حکیم نے پیٹ صاف کرنے کی دوا دے دی۔وہ دوبارہ گیا۔ حکیم نے دوبارہ وہی دوا دے دی۔ اسی طرح وہ تین چار مرتبہ گیا اور ہر مرتبہ حکیم صاحب وہی دوا اسے دیتے رہے۔پھر وہ کافی دنوں تک حکیم صاحب کے پاس نہ آیا تو انہوں نے کسی سے اس کی خیریت دریافت کی۔
” وہ بچارہ تو مر گیا۔ پیٹ صاف کراتے کراتے ۔“ جواب ملا۔
” کوئی بات نہیں۔ “ حکیم صاحب بولے۔ ” پیٹ تو اس کا صاف ہوگیا نا ؟ “
شاید آنے والے وقتوں میں آئین کے محافظ اپنی یادداشتوں میں یہ لکھیں کہ ” ہم نے مارشل لاءتو لگنے نہ دیا ناں ؟“

kal-ki-baat

Scroll To Top