اور آسمانوں سے یہ صدا آئے۔۔۔ ” اے بدبخت قوم۔۔۔ تمہارے گناہوں کی سزا یہی ہے۔۔۔“

یہ منشائے الٰہی تھی کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی مملکت کے طور پر قائم ہوا۔ دنیا کی تاریخ میں اس سے پہلے نظریاتی بنیادوں پر صرف ایک مملکت قائم ہوئی تھی جس کا نام ” ریاست مدینہ“ تھا۔ اگر یہ کہا جائے تو نادرست نہیں ہوگا کہ تقریباً 14صدیوں کے وقفے کے بعد پاکستان ریاست ِ مدینہ کے تسلسل کے طور پر قائم ہوا ۔ ایک لحاظ سے یہ ایک معجزہ تھا۔ 1930ءکی دہائی میں جو حالات تھے انہیں دیکھ کر کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ 1940ءکی دہائی میں مستقبل میں عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بننے والی مملکت قائم ہوگی۔ اگرچہ 1930ءکے خطبہ ءالہ باد میں علامہ اقبالؒ نے تصورِ پاکستان ایک جغرافیائی اور سیاسی حقیقت کے طور پر پیش کردیا تھا لیکن وہ خود اس عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اس ضمن میں ان کا ایک جملہ بڑا مشہور ہے۔۔۔
“I lead no party and I follow no leader.”
(میں کسی جماعت کا قائد نہیں اور نہ ہی میں کسی کو اپنا قائد مانتا ہوں)
تب قائداعظم محمد علی جناح ؒ برصغیر کے حالات سے دل برداشت ہو کر لندن جابسے تھے۔ علامہ اقبال ؒ کی مردم شناس نظریں جانتی تھیں کہ اگر کوئی قائد تصورِ پاکستان کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے تو وہ دور بہت دور لندن میں بیٹھا تھا۔ چنانچہ انہوں نے قائداعظم ؒ کو وہ خط لکھا جو انہیں واپس وطن آنے پر آمادہ کرنے کا موجب بنا۔
پھر جو کچھ ہوا وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ وطن واپسی کے بعد قائداعظم ؒ کی پہلی منزل 23مارچ1940ءکی قراردادِ پاکستان تھی اور دوسری منزل 14اگست 1947ءکا تاریخ ساز دن جب ہمارا سبز ہلالی پرچم فضاﺅں میں پہلی مرتبہ لہرایا۔
میرا ایمان ہے اور میری طرح میرے کروڑوں ہم وطنوں کا ایمان ہے کہ یہ منشائے الٰہی تھی کہ تاریخ کے ایک اہم موڑ پر محمد علی جناح جیسی بصیرت اور لیاقت رکھنے والا رہنما موجود ہو جو ایک بھٹکے ہوئے کارواں کا ” میر “ بن سکے۔ یہ منشائے الٰہی تھی کہ پاکستان ایک خواب سے حقیقت کا روپ دھارے۔یہ منشائے الٰہی تھی کہ پاکستان عالم ِ اسلام کا سب سے مضبوط قلعہ بننے کے لئے ایک ایٹمی طاقت بنے۔
اور یہ منشائے الٰہی ہے کہ پاکستان تمام طوفانوں سے صحیح سلامت گزر کر درحقیقت پوری اسلامی دنیا کے لئے روشنی کا منیار بنے۔
اگر یہ منشائے الٰہی نہ ہوتی تو پاناما پیپرز کا دھماکہ نہ ہوتا اور پاکستان پر اس تباہ کن قیادت کا غلبہ طول پکڑتا جس نے اتنے بے پناہ وسائل رکھنے والی مملکت کو دنیا کے مقروض ترین ممالک کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔
جب کوئی بڑی تبدیلی رونما ہونی ہوتی ہے تو قدرت بڑی فراخدلی سے اس کے اسباب پیدا کردیتی ہے۔قدرت کا ہی یہ ” سووموٹو نوٹس “ تھا کہ 03اپریل2016ءکو جب لوگ صبح بیدار ہوئے تو ہرطرف پاناما پیپرز کا شور تھا۔۔۔
یہ بھی قدرت کا ہی ” سوو موٹو نوٹس “ تھا کہ میاں نوازشریف نے فوراً قوم سے خطاب کردیا اور یہ اعلان فرمایا کہ ” میں اپنے آپ کو ہر قسم کی تحقیقات کے لئے پیش کرتا ہوں۔ کوئی بھی شخص اتنا بے وقوف نہیں ہوتا کہ ناجائز پیسوں سے اپنے نام اثاثے بنائے۔۔۔“
میاں نوازشریف کے اثاثے اپنے نام نہیں تھے۔ قدرت اس سے پہلے ایک اور ” سو وموٹو نوٹس “ لے چکی تھی ۔ میاں صاحب کے صاحبزادے حسین نواز اعلان فرما چکے تھے ” لندن کے فلیٹ الحمد وللہ ہمارے ہیں ۔۔۔“
اگر ریاست کو یہ ثابت کرنا پڑتا کہ میاں نوازشریف نے کرپشن کی ہے یا نہیں تو اِس نظام میں ممکن ہی نہیں تھاکہ کوئی سموکنگ گن سامنے لائی جاسکتی اور میاں صاحب کی کرپشن کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش کیاجاسکتا۔ یہ تو قدرت نے ” سووموٹو نوٹس “ لیا کہ ” مال مسروقہ “ میاں صاحب کے خاندان میں برآمد ہوا اور اس بات کاا قرا ر بھی ہوگیا کہ ” ہاں یہ ہمارا ہے۔۔۔“
میں نے یہ ساری لمبی چوڑی تمہید ایک خاص مقصد کے لئے باندھی ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ اگر احتساب عدالت میں چلنے والے مقدمات میں شریف فیملی کے پاک صاف پائے جانے کی ذرا بھی گنجائش ہوتی اور مریم نواز کو اپنا سیاسی سفر آگے بڑھانے کا موقع مل جاتا تو میں نہیں سمجھتا کہ مسلم لیگ (ن)میں کوئی بھی دوسری شخصیت ایسی ہے جو مریم نواز کو چیلنج کرسکے۔۔۔
ذرا سوچیں۔۔۔ اگر پاکستان کو آگے بڑھانا اور اسے تمام مشکلات سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا قدرت کو منظور نہ ہو تو اس کا آسان ترین طریقہ کیا ہے ؟
قدرت پاکستان پر مریم نواز کو مسلط کردے۔
اور آسمانوں سے یہ صدا آئے۔۔۔
” اے بدبخت قوم۔۔۔ تمہارے گناہوں کی سزا یہی ہے۔۔۔“

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top