مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے ؟

zaheer-babar-logo

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے ملک کی ماضی کی پوزیشن میں واضح تبدیلی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلیوں کو اپنے وطن کا حق حاصل ہے۔ سعودی ولی عہد کی جانب سے امریکی جریدے دی الٹلانٹک کو دیئے گئے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان رسمی طور پر کوئی سفارتی تعلقات نہیں لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ تعلقات میں بہتری دیکھی گئی۔ تاحال بیشتر اسلامی ممالک میں اسرائیل کو سفارتی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا مگر اب سعودی ولی عہد کی جانب سے اس طرح کے خیالات کا اظہار اسرائیل کو سفارتی طور پر تسلیم کرنے کا اشارہ بھی ہوسکتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کا فلسطین کے ساتھ تنازع، مفاہمت کی راہ میں ایک طویل رکاوٹ ثابت ہوا تاہم ریاض کی جانب سے اب بھی ان کی خودمختاری کی حمایت نظر آرہی۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے منتازع زمین کے دعوے پر برابری کے حصے کو ظاہر کرنا کسی طور کم اہمیت کا حامل نہیں۔یاد رہے کہ 2002 سے سعودی عرب، اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے لیے دو ریاستی حل کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے اور آج تک کسی سعودی حکام نے اس چیز کو تسلیم نہیں کیا کہ اسرائیل کو کسی زمین کا حق حاصل ہے۔اپنے انٹرویو کے دوران سعودی ولی عہد نے برملا کہا کہ اسرائیلیوں کے فلسطینیوں کے ساتھ رہنے پر کوئی مذہبی اعتراض نہیں لیکن بیت المقدس میں مسلمانوں کی مقدس جگہ مسجد اقصی کے کمپانڈ کی حفاظت ضروری ہے۔ان کے بعقول ہمیں یروشلم میں اس مقدس مسجد اور فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے مذہبی تحفظات ہیں لیکن ہمیں کسی اور شخص پر کوئی اعتراض نہیں۔“
تاریخی طور پر 1948 سے قبل فلسطین پر برطانیہ کا راج تھا مگر اس کی نوعیت بہت مختلف تھی۔ جنگ عظیم دوئم ہو چکی تھی اور یہ جنگ عظیم جن مقاصد کے تحت لڑی گئی تھی ، اس میں سے ایک مقصد ریاست اسرائیل کا قیام بھی تھا۔ 1948 میں تاج برطانیہ نے جزیرہ عرب سے نکلنے کا فیصلہ کیا مگر اس سے قبل ہی فلسطین میں مسائل پیدا ہو نا شروع ہو گے وجہ یہ کہ یہودیوں نے جو زمینیں فلسطینیوں سے خریدی تھی، انہوں نے وہاں پر نہ صرف رہائشیں اختیار کرنا شروع کیں بلکہ پوری دنیا سے یہودیوں کو وہاں لا بسانا شروع کر دیا۔ جب تک یہ سازش عربوں پر واضح ہوئی تو اس وقت تک پلوں سے اتنا پانی گزر گیا تھا کہ یہودی اب اپنی منوانے کی پوزیشن پر تھے۔ ریکارڈ پر ہے کہ تاج برطانیہ کے ساتھ ساتھ ان کی پشت پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا ہاتھ بھی تھا۔ برصغیر میں1947 میں نظریے کی بنیاد پر ایک ریاست قائد اعظم محمد علی جناح کی سربراہی میں پاکستان کے نام سے وجود میں آ چکی اور سب ہی جانتے تھے کہ نظریے ہی کے نام پر عرب میں ایک اور ریاست وجود میں آنے والی ہے۔ 1947 میں اقوام متحدہ نے مسئلہ فلسطین کیلئے تین ریاستی حل تجویزکیا۔یعنی ایک حصہ مسلمانوں کیلئے، ایک حصہ پر یہودی اور ایک حصہ عیسائیوں کیلئے مختص کرنا اس دستاویزات کا حصہ تھا مگر عربوں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا ۔ ماضی میں مسلمانوں کی بیت المقدس کو لے کر اس قوم کے ساتھ جنگیں اور فتوحات بھی تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ آج بھی مسلمان اپنے بچوں کے نام صلاح الدین ایوبی رکھتے ہیں مگر یہودی اس سارے عرصے میں یہ منصوبہ بندی کرتے رہے کہ کیسے اِنہوں نے اس کرہ عرض میں واپس جانا ہے۔بلاشبہ اہل توحید کیلئے اس مقام کی اہمیت قبلہ اول، انبیا علیہ السلام کے مزارات اور مقامات مقدسہ کی وجہ سے ہے۔ اس خطے کے حوالے سے احادیث بھی موجود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ہی دنیا کے مسلمان مسئلہ فلسطین کو امت مسلمہ کا مسئلہ کہتے ہیں۔ 1948 میں جب تاج برطانیہ رخصت ہوا تو اسرائیل نے بزور طاقت اپنی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اسرائیل چند ہی سالوں میں اتنا طاقتوراس لئے ہوا کہ یہودی اس ریاست کے حصول کیلئے تقریبا300سال قبل اپنا گیم پلان مرتب کر چکا تھا ۔ 1967 کی مشہور زمانہ جنگ میں عربوں کی شکست کے بعد پورے یروشلم پر یہودیوں نے قبضہ کر کے اس کو اپنا دارلحکومت بنا ڈالا مگر عالمی قوانین کی روشنی میں آج بھی یہ علاقہ مقبوضہ علاقہ تسلیم کیا جاتا ہے اور اس علاقے پر عالمی قوانین ہی لاگو ہوتے ہیں۔
اقبال نے کہا تھا ”ہے جرم ضیفی کی سزا مرگ مفاجات “۔ مسلمان چونکہ کمزور ہیں لہذا اگر مگر چونکہ چنانچہ کے باوجود وہ اسرائیل کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ۔ اب کچھ باخبر حلقے یہ بھی دعوی کررہے کہ سعودی ولی عہد جو حکمت عملی اختیار کررہے شائد اہل اسلام کے پاس اس پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ یقینا اصول ازل سے یہی ہے کہ غالب ہی مغلوب سے اپنی شرائط پر معاہدے کرتا ہے اور بہت معاملات میں غالب کو معاہدوں کی ضرورت بھی نہیں ہوتی ہے۔مسلمان دنیا ایک طرف علم وعمل سے دور ہیں تو وہی ان کی باہم نا اتفاقیاں ان کی مشکلات میں گوں نا گوں اضافے کا باعث بن رہیں۔ صورت حال پر نگاہ رکھنے والے بعض حلقوں کے مطابق آنے والے دنوں میں مسلم اشرافیہ اسرائیل کے حوالے سے ایسے مذید اقدمات بھی اٹھا سکتی ہے جن کا ماضی میں تصور تک نہیں کیا جاسکتا تھا۔

Scroll To Top