افغانستان میں مدرسے پر بمباری؛ اقوام متحدہ نے تحقیقات شروع کردیں

tمدرسے پر بمباری میں 70 سے زائد افراد جاں بحق اور 150 زخمی ہوچکے ہیں جن میں 50 عام شہری ہیں (فوٹو: فائل)

قندوز: اقوام متحدہ نے افغان صوبے قندوز میں مدرسے پر فضائی بمباری میں عام شہریوں کی اموات کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیمیں فضائی بمباری سے متاثرہ علاقے میں پہنچ گئی ہیں جو مدرسے پر بمباری کے نتیجے میں ہونے والی عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تفصیلات حاصل کررہی ہیں۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں (یواین اے ایم اے ) نے بتایا کہ  انسانی حقوق کی ایک ٹیم ضلع دشت ارچی میں بمباری کا نشانہ بننے والے مدرسے کے مقام پر موجود ہے ، یہ ٹیم بمباری میں عام شہریوں کی اموات سے متعلق خبروں کی حقیقت جاننے اور جانی نقصان کے حوالے سے سنجیدگی سے تمام تر پہلوؤں کا جائزہ  لے رہی ہے۔

مشن نے تمام جماعتوں اور فریقین کو مسلح تصادم میں عام شہریوں کے جانی و مالی نقصان سے محفوظ رکھنے کی یاد دہانی بھی کرائی ہے۔

دوسری جانب اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ  افغان فورسز کی مدرسے پر فضائی بمبار میں 50 سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں جب کہ 150 سے زائد زخمی ہیں۔

سرکاری حکام نے بمباری میں عام شہریوں کی اموات کی  تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی میں 20 طالبان جنگجو مارے گئے ہیں، یہ کارروائی طالبان کی اعلیٰ قیادت کی مدرسے میں موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔

واضح رہے کہ پیر کے روز مدرسے پر افغان فضائیہ کی ہیلی کاپٹرز سے بمباری کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 70 تک پہنچ چکی ہے جس میں کم سن بچے بھی شامل ہیں۔

Scroll To Top