کینسر لاحق کرنے والے جین پر حملہ کرنے والی کامیاب دوا

lنئی دوا ایسے جین کو نشانہ بناتی ہے جو جسم میں کینسر کو پھیلانے کا سبب بنتے ہیں (فوٹو : سوشل میڈیا)

مشی گن: امریکی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی نئی دوا ’Bromo domain  Inhibitor‘  انتہائی کامیاب ثابت ہوئی ہے اور کینسر کا سبب بننے والے جین پر حملہ کر کے جسم میں کینسر کے مالیکیول کو پھیلنے سے روک دیتی ہے۔

مشی گن یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پھیپھڑوں اور پستان کے کینسر کا باعث بننے والے جین کے خلاف ایک دوا نہایت کارگر ثابت ہوئی ہے جس سے پھیپھڑوں، پستان اور موٹاپے کے باعث ہونے والے کینسر کی مختلف اقسام کے علاج میں مدد مل سکے گی۔

سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے پھیپھڑوں اور پستان کے کینسر میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لیے دواؤں کی خصوصی قسم Bromodomain Inhibitor  کو کامیابی سے استعمال کیا ہے یہ کینسر کے مرض میں استعمال ہونے والی ایک نئی دوا ہے جو کینسر کا سبب بننے والے جین پر حملہ آور ہوتی ہے اور کینسر کے پھیلنے کے عمل کو روک دیتی ہے۔

کینسر سے متعلق سائنسی جریدے Cancer Prevention  میں شائع ہونے والے دو الگ الگ مقالوں میں سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ موٹاپے کے باعث ہونے والے پھیپھڑوں اور پستان کے کینسر کے علاج میں BET Inhibitor کافی کارگر ثابت ہوئی ہیں اور 10 ہزار مریضوں کے ڈیٹا سے ثابت ہوا ہے کہ اس دوا سے 35 فیصد سے زیادہ مریضوں میں کینسر کا پھیلاؤ رک گیا۔

پروفیسر جیمی برنارڈ کا کہنا ہے کہ 50 فیصد سے زائد مریضوں میں پائے جانے والے جین c-Myc  پر یہ دوا I-BET-762  اثر انداز ہوئی اور اس جین کو کینسر زدہ ہونے سے محفوظ رکھا۔ c-Myc  جسم میں کینسر کو پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ یہی جین c-Myc  دراصل جسم میں موجود چربی کے خلیات میں پیدا ہوتے ہیں اور اپنی کیمیائی ترکیب اور اثرات کے باعث کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ موٹاپے کے مریضوں میں کینسر ہونے کا سبب یہی جین ہوتے ہیں اس لیے اس جین پر حملہ آور Bromodomain Inhibitor دوا کینسر کے مرض میں کارگر ثابت ہوئی ہے۔

Scroll To Top