یہ کھیل بھی پوری ٹیم نے ہی کھیلا ہوگا ! 12-02-2013

kal-ki-baat

بعض خبریں قوم کے اجتماعی ضمیر میں نشتر بن کر چبھتی ہیں۔ اور اگر ایسی خبروں کو ملا کر پڑھا جائے تو یہ سوال ذہن میں اٹھے بغیر نہیں رہتا کہ ” کیا اس ملک کا قائم رہنا اور چلتے رہنا ایک عظیم معجزہ نہیں۔؟“
مثال کے طور پر کچھ ہفتے قبل ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنے کے ذمہ دار ادارے نیب کے چیئرمین ایڈمرل فصیح بخاری نے فرمایا تھاکہ ملک میں روزانہ سات سے آٹھ ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے ` اور مختلف مدوں میں قومی خزانے کو روزانہ دس سے بارہ ارب روپے کی خطیر رقم سے محروم کیا جارہا ہے۔
یہ بات تو ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کرپشن کے میدان میں بڑی برق رفتاری سے آگے بڑھتا چلا جارہاہے لیکن جو اعداد و شمار ایڈمرل فصیح بخاری نے بیان فرمائے وہ اس قدر ہوشربا تھے کہ بہت سارے تجزیہ کاروں کو یقین نہ آیا۔ چنانچہ ایڈمرل صاحب کو ایک پریس کانفرنس میں اپنے سابقہ بیان کا دفاع کرنا پڑا۔
اگر متذکرہ اعداد و شمار کو درست تسلیم کرلیاجائے تو ایک سنسنی خیز حقیقت سامنے آتی ہے اور وہ یہ کہ جتنی رقم لاہور کے میٹرو بس سروس کے منصوبے پر خرچ ہوئی ہے وہ ملک میں ہونے والی ” چھ سات روزہ کرپشن “ کے لگ بھگ ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر نیب کے چیئرمین صرف ایک ماہ کی کرپشن روکنے میں کامیاب ہوجائیں تو ” لاہور میٹرو منصوبے “ جیسے چار پانچ منصوبے ملک میں پایہ ءتکمیل تک پہنچائے جاسکتے ہیں۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ نیب کے چیئرمین کو کرپشن روکنے کے کام سے کوئی دلچسپی نہیں ہوگی لیکن توقیر صادق کے کیس میں انہوں نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے قوم کی نظروں میں ان کا وقار بلند ہرگز نہیں ہوا۔
توقیر صادق پر اوگرا کیس میں چالیس ارب سے لے کر اسی ارب تک کی رقم خرد برد کرنے کے الزامات ہیں۔ گویا وہ اکیلے لاہور میٹرو بس سروس جیسا ایک منصوبہ تو ہڑپ کر ہی چکے ہیں۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ اگر انہوں نے ” اکیلے “ اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہوتا تو انہیں نہ تو ملک سے فرار ہونے کا موقع ملتا اور نہ ہی گرفتاری کے بعد بھی ان کی ” وطن واپسی “ ہمارے قانون کے بس سے باہر ہوتی۔یہ کھیل بھی پوری ٹیم نے ہی کھیلا ہوگا۔

Scroll To Top