اللہ میں بھی الف ہے اور ابلیس میں بھی الف ہے ۔۔۔ پاکی میں بھی پ ہے اور پلیدی میں بھی پ ہے ۔۔۔ اس لئے نعوذ باللہ سب ایک ہیں

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دو بڑی ہائی پروفائل اور” متبّرک“ شخصیات کے دورے ہوئے۔۔۔ حکومت نے دونوں کو ایک جیسا اور بڑا زبردست پروٹوکول دیا۔۔۔ ایک دورہ امام کعبہ کا تھا۔۔۔
اور دوسرا ملالہ یوسفزئی کا۔۔۔
آج جس وقت میں یہ الفاظ قلمبند کررہا ہوں ` ملالہ یوسف زئی اپنے میزبانوں کو حالتِ ملال میں چھوڑ کر واپس برطانیہ جانے کے لئے جہاز میں سوارہوچکی ہیں۔۔۔
محترمہ کا ٹِکراتنی مرتبہ ٹی وی چینلز پرچلا ہے کہ میرا ذہن 58برس قبل کے ایک واقعے کی طرف جائے بغیر نہیں رہ سکا۔۔۔
میں تب سندھ یونیورسٹی میں انگریزی ادب کا طالب علم تھا۔۔۔ میرے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر جمیل واسطی تھے جو پنجاب سے ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر حیدر آباد آئے تھے۔۔۔ اُس زمانے میں دو شخصیات کی ایمان افروز خصوصیات نے مجھ پر بڑے گہرے اثرات مرتب کئے۔۔۔ ایک میرے دوست طارق خان کے والد ابو سعید ملیح آبادی تھے جو وکیل تھے اور مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کے چھوٹے بھائی اور جوش ملیح آبادی کے نواسے تھے۔۔۔ اور دوسرے جناب جمیل واسطی مرحوم۔۔۔
میں اکثر چھٹی کے روز ان کی رہائش گاہ پر جایا کرتا تھا جہاں وہ اپنے صاحبزادے سلمان واسطی کے ہمراہ رہتے تھے۔۔۔ اداکارہ ماریہ واسطی ` سلمان واسطی کی ہی صاحبزادی ہے۔۔۔ ان کے بڑے بھائی رضوان واسطی انگریزی کے نیوز کاسٹر تھے میں چھٹی کے روز واسطی صاحب مرحوم کے کام میں ہاتھ بٹایا کرتا تھا۔۔۔ وہ بڑے شفیق استاد تھے اور میری صلاحیتوں کے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مداح تھے۔۔۔
جس اتوار کی بات میں کررہاہوں میں کمپس میں ہی واقع ان کے گھر پہنچا تو وہ ساری کوٹھی کو دھلوار ہے تھے۔۔۔ میں نے یہ ماجرا دیکھا تو پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔۔۔
” یہ کیوں سر ؟ “
” وہ نجّس لوگ کل رات چلے گئے۔۔۔ پورے گھر کی صفائی مجھ پر لازم ہوگئی ہے۔۔۔ “ واسطی صاحب نے جواب دیا ۔۔۔
” کون لوگ سر۔۔۔؟“
” ولایت سے کچھ مہمان آئے تھے۔۔۔ جان پہچان کے لوگ تھے۔۔۔ میرے پاس ہی ٹھہرئے ۔۔۔ “انہوں نے جواب میں کہا۔۔۔
” اس کا گھر کی صفائی سے کیا تعلق سر ؟“ میں نے پوچھا۔۔۔
” مہمان نوازی اپنی جگہ ۔۔۔ اور پلیدی دور کرنے کے لئے صفائی کرنا اپنی جگہ ۔۔۔ “ وہ بولے ” پلیدی ۔۔۔؟“ میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔۔۔
” جو لوگ میرے نبی ﷺ کو نعوذ باللہ برا بھلا کہتے ہیں انہیں میں پلید ہی سمجھتا ہوں۔۔۔ “ انہوں نے جواب دیا۔۔۔
ان کا یہ جواب میرے تحت الشعور میں سرایت کرگیا۔۔۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ بڑے تنگ نظر اور متعصب آدمی تھے۔۔۔
وہ ادب کے استاد تھے۔۔۔ اورانگریزی ادب پر انہیں عبور حاصل تھا۔۔۔
مگر ان کی سوچ مولانا اشرف علی تھانوی کے اس قول کے اردگرد گھومتی تھی۔۔۔
” نفرت کافر سے نہیں کفر سے کرو۔۔۔ مگر کافر کے قریب رہنے سے کفر کے خلاف نفرت کم ہوجاتی ہے۔۔۔“
جس دن میں نے ملالہ یوسف زئی کو سلمان رشدی ملعون اور اُس بنگلہ دیشی ملعونہ تسلیمہ نسرین کے ہمراہ ایک ہی پلیٹ فارم پر ایک ہی سوچ کا پرچار کرتے دیکھا تھا اس دن سے ملالہ کے حال پر میرا ملال بڑھ گیا ہے۔۔۔ وہ ایک معصوم بچی تھی جسے اس کے گمراہ باپ نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا۔۔۔ اس نے اس بچاری کو اس سوچ کی راہ پر ڈالا کہ اللہ اور ابلیس میں نعوذ باللہ کوئی فرق نہیں۔۔۔ اس سوچ کی ہمنوائی نے ملالہ کو نوبل پرائز تو دلوا دیا لیکن مجھ جیسے لوگ پاکی اور پلیدی کا فرق ملحوظ رکھنے پر مجبور ہیں۔۔۔

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top