مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی بدترین دہشت گردی

zaheer-babar-logo

ahمقبوضہ وادی میں بھارت نے قتل وغارت گری میں اچانک اضافہ کردیا ہے۔ گذشتہ دنوں جنوبی کشمیر کے تین مقامات پر شہادتوں کی تعداد 20 تک جا پہنچی ، ان جھڑپوں میں 100 سے زائد لوگ زخمی بھی ہوئے۔
مبصرین کے مطابق حالیہ دنوں میں کشمیر میں ایک ہی دن میں اتنی زیادہ جانوں کا ضیاع سب سے بڑا واقعہ ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی ہے ۔سپہ سالار کا کہنا تھا کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کو نہیں دبا سکتے جو ان کا بنیادی حق ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ انسانیت سوز مظالم اور ایل او سی پر شہریوں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔ قابض فوج نے حریت رہنماں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد اشرف صحرائی اور محمد یاسین ملک کو بھارت مخالف مظاہروں کی قیادت سے روکنے کے لیے گھروں اور جیلوں میں نظربند کردیا۔ محمد یاسین ملک کو احتجاجی مظاہروں کی قیادت سے روکنے کے لیے سری نگر کے علاقے مائسمہ میں ان کے گھر سے گرفتار کرکے کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن سرینگر میں نظربند کیا گیا۔ حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے بھارت کی ملٹری پالیسی کو علاقے میں کشت وخون کی اصل وجہ قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کشمیری نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کررہا ۔ میر واعظ عمرفاروق کہ کشمیر کے سیاسی اور انسانی مسئلے کے حوالے سے ملٹری پالیسی اپنا کر بھارت کشمیری نوجوانوں کو مسلح جدوجہد کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کررہا ۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت کی پالیسی جبر پر مبنی رہے گی ، اس وقت تک کشمیر میں نہتے شہریوں کا لہو بہتا رہیگا کشمیری نوجوان بندوق اٹھانے پر مجبور ہوتے رہیں گے۔“
یقینا بھارتی حکومت کشمیر کے سیاسی اور انسانی مسئلے کے حل کے لیے جب تک فوجی پالیسی اپنائے رہے گی اس وقت تک مزاحمت کیلئے کشمیری نوجوان مجبور ہوتے رہیں گے۔نئی دہلی کو سمجھ لینا چا ہے کہ کشمیر میں جاری سنگین صورتحال کے جو بھی نتائج برآمد ہوں گے جس کی ذمہ داری یقینا بھارتی حکومت پر عائد ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق شوپیاں میں بھارتی ریاستی دہشت گردی سے کئی عام شہری شہید جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے ، جن میں سے کئی ایک کی آنکھیں پیلٹ لگنے سے چھلنی ہوچکیں ۔ مقبوضہ وادی میں مشترکہ حریت قیادت کی کال پر نوجوانوں کے قتل کے خلاف پورے مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی گئی۔
مقبوضہ کشمیر کے دونوں اضلاع میں موبائل فون اور ریلوے سروسز بھی معطل رہیں۔آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارتی فورسز کے مظالم اور بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لیے وادی میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا۔
اس میں شک نہیںکہ بھارت ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں نہتے لوگوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی افواج کے مظالم اور بربریت کا نوٹس لینا چاہے۔ مبصرین کے مطابق بھارت اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی حاصل نہیں کرپائے گا حقیقت میں بھارتی فوجی اہلکار نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کو بلاوجہ قتل کر کے انھیں دہشت گرد قرار دے رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اپنے کشمیری بھائیوں کی جدوجہد آزادی کی ہمیشہ اخلاقی حمایت کی ہے اور یہ حمایت جاری رکھے گا۔
بھارتی حکومت کے اس تازہ رویہ سے کئی حلقوں کو امید تھی کہ تین سال سے شدت پسندوں کے خلاف جاری فوج کا آپریشن آل آٹ بھی معطل کیا جائے گااور اس موسم گرما میں حالات پرسکون رہیں لیکن باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔ تازہ تصادم آرائیوں اور عوامی ردعمل سے ایسا لگتا ہے کہ لگاتار تیسرے سال بھی کشمیر میں حالات کشیدہ رہیں گے۔ مبقوضہ کشمیر میں امن وامان کی بگڑتی صورت حال پر عالمی برداری کی خاموشی یا لاتعلقی افسوسناک ہونے کے علاوہ قابل مذمت بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب کے طاقتور ملک اپنے معاشی مفادات کے لیے کسی طور پر بھارت کو ناراض کرنے کے حق میں نہیں۔ مگر مغربی ملکوں سے گلہ ہی کیا جائے جب خود مسلمان ممالک کشمیر میں جاری ظلم وستم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں اعصاب شکن جنگ جاری ہے جو ایک طرف حریت پسندون کے جذبہ حریت کو جلا بخش رہی تو وہی قابض فوج کے حوصلے ہر گزرتے دن کے ساتھ ماند پڑ رہے۔
مقبوضہ وادی کے باسیوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بطور قوم ہم اہل کشمیر کا ساتھ تو دے رہے مگر حکومتی سطح پر مثالی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا۔ منتخب حکومت کی تنازعہ کشمیر سے وابستگی کا عالم یہ ہے کہ جمیت علماءاسلام ف کو سربراہ مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ حکمرانون کو سمجھ لینا چاہے کہ مقبوضہ وادی کے باسی تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے جن کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنا ضروری ہے۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ، بانی پاکستان کی کہی ہوئی بات آج اس طرح ثابت ہورہی ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی سے بہنے والے دریاوں کے پانی پر تیزی سے بند بنا رہا۔ ماہرین کے مطابق آنے والے ماہ وسال میں ملک میں پانی کا بحران شدت اختیار کرسکتا ہے جو تنازعہ کشمیر کی اہمیت میں بھی اضافہ کریگا۔

Scroll To Top