خیروشراورحدود وقیود 10-02-2013

یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ کیادنیا سیاہ و سفید میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔ دنیا سے یہاں مرادروئے زمین پر انسانی زندگی اور اس کے ساتھ منسلک لوازمات ہیں۔ کچھ دانشور شاید اس سوال کا جواب نفی میں دینا چاہیں اور ایسے جواب کے لئے ان کے پاس شاید کچھ دلائل بھی ہوں لیکن خالقِ کا ئنات نے اس دنیا کو بنایا ہی اس طرح ہے کہ یہ خود بخود سیاہ و سفید ’ رات اور دن ’ نیکی اور بدی ’ گناہ اور ثواب خیر و شر اور سزا و جزا میں تقسیم ہوگئی ہے۔ اگر خالقِ کائنات اور قادرِ مطلق کو کچھ اور مقصود ہوتا تو یوم ِ حساب یا بعد ازقیامت کی زندگی کا ایک مسکن جنت اور دوسرا مسکن جہنم نہ ہوتا۔ یہ درست ہے کہ جنت کے بھی درجات ہوںگے اور جہنم بھی سارا ایک جیسی دل دوز چیخوں سے نہیں گونجے گا۔ اسی طرح نیکی اور بدی بھی ایک سطح کی نہیں ہوگی۔ کچھ نیکیاں یا کچھ کی نیکیاں دوسری نیکیوں یا دوسروں کی نیکیوں پر بھاری ہوں گی۔ اسی طرح بدی بدی میں بھی فرق ہوگا۔
لیکن بنیادی حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور زندگی کو سیاہ و سفید میں ہی تقسیم کیا ہے۔ جو لوگ بدی کرتے ہیں ان کے سامنے دوزخ کا نقشہ کھینچا گیا ہے ¾ اور جو نیکی کرتے ہیں انہیں جنت کا راستہ دکھایا گیا ہے۔ اگر خدا کو یہ مقصود ہوتا کہ وہ اشرف المخلوقات یعنی انسان کی زندگی صرف ایک رنگ یعنی نیکی میں ڈھالے تو ابلیس کی بغاوت کی کہانی جنم نہ لیتی اور آدم ؑ اور حوا ؑ کے خمیر میں وہ عنصر شامل نہ کیا جاتا جو ان کے بہکنے اور جنت بدر ہونے کا باعث بنا۔
اور یہ بات بھی ربِ کائنات نے انسانی تہذیب کے آغاز پر ہی رجسٹرکرا دی کہ جرم کرنا بھی انسان کی گھٹی میں پڑا ہے۔ دنیا کا پہلا جرم آدم ؑ کے ایک بیٹے قابیل نے آدم ؑ کے ہی دوسرے بیٹے ہابیل کو حالتِ حسد و اشتعال میں قتل کرکے کیا۔
یہ انسان پر ابلیس کا دوسرا کامیاب حملہ تھا۔ پہلا کامیاب حملہ اس نے آدم ؑ اور حوا ؑ کوجنت سے نکلوا کر کیا تھا۔
میں نے اپنی آج کی تحریر کے لئے اس موضوع کا انتخاب اس لئے کیاہے کہ آدم ؑ اورحوا ؑ کی جنت بدری کے ہزار ہا سال بعد انسان اپنی تہذیب کی حیران کن ترقی کے باوجود بنیادی طور پر آج بھی اپنی فطرت میں رچے بسے ان ہی تقاضوں کے تابع زندگی بسر کررہا ہے جو ایک طرف اس کی جنت بدری اور دوسری طرف قابیل کے ہاتھوں ہابیل کی ہلاکت کا باعث بنے تھے۔
تہذیب نے انسان کی فطرت تبدیل نہیں کی۔ انسان آج بھی اپنی ان ہی جبلّتوں کے تابع زندگی بسر کرتاہے جن پر قابو پانے کی طاقت اسے عطا کرنے کے لئے خدا نے ہزار ہا برس تک انسانی آبادیوں میں پیغمبر اور ہادی بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
حضرت موسیٰ ؑ Ten Commandments لے کر آئے جنہیں آلِ یعقوب ؑنے اپنی سابقہ روایات برقرار رکھتے ہوئے ٹھکرا دیا۔ پھر انجیل کے ذریعے انسان کو Seven Comandmentsملیں جو کتابوں میں دفن ہو کر رہ گئیں۔
اس کے بعد خدائے بزرگ و برتر نے اپنے آخری نبی کی وساطت سے اپنا آخری اور حتمی پیغام اس رزم گاہِ خیر و شر میں ابلیسی حملوں کے خلاف انسان کی ڈھال اور قوت بننے کے لئے بھیجا۔
یہ پیغام امت ِ رسول کا وہ سرمایہ ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خالقِ حقیقی نے اٹھا رکھی ہے۔
میری مراد کلامِ الٰہی یعنی قرآن پاک سے ہے۔جو بھی شخص مسلمان کہلاتا ہے اس کا قرآن حکیم کے حتمی چشمہءہدایت ہونے پر ایمان رکھنا لازمی ہے۔
اور جس شخص نے بھی قرآن حکیم کو سمجھ کر پڑھا ہے یا پڑھ کر سمجھا ہے وہ یقینی طور پر جانتا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں نیکی کیا اور بدی کیا ہے اور اپنے فرماں بردار بندوں کے لئے اس نے کس منزل اور کس راستے کا انتخاب کیا ہے۔ ایسا شخص یہ بھی جانتا ہوگا کہ خیر و شر ¾ سزا و جزا اور سیاہ و سفید کے اس پورے عمل میں اللہ تعالیٰ نے کن چیزوں یا کن باتوں کی ممانعت کی ہے ‘ اور کن چیزوں یا باتوں کو قبولیت کے دائرے میں رکھا ہے۔
جس طرح اللہ تعالیٰ نے چیزوں کو حلال و حرام میں تقسیم کیا ہے ¾ اسی طرح اعمال بھی اس تقسیم کے دائرے میں آگئے ہیں۔
یہ تقسیم بنیادی طور پر چار شعبوں کے اردگرد گھومتی ہے ۔ اور اِن چارشعبوں کا تعلق انسانی کیمسٹری کے اجزائے ترکیب سے ہے۔
ایک تو پیٹ کی بھوک ہے۔ اس کے ساتھ نفس کی بھوک ہے۔ ساتھ ہی زر کی بھوک ہے۔ اور ان کے ساتھ جڑی ہوئی اقتدار کی بھوک ہے۔
۔۔۔جاری ہے۔۔۔

kal-ki-baat

Scroll To Top