بھگوان تیری جے۔۔۔ تیری وجے۔۔۔!

میرے ایک قاری نے میری توجہ ا±ن خیالات کی طرف دلائی ہے جن کا اظہار جناب نجم سیٹھی نے ” امن کی آشا“ رکھنے والے ٹی وی چینل پر 23مارچ کے بارے میں 23مارچ کو کیا۔۔۔ امن کی آشا رکھنا بر±ی بات نہیں۔۔۔ مگرجس قسم کے امن کی تلاش میں پاکستان کی ایک مخصوص لابی ہے `اسے قائم کرنے کے لئے ا±س لکیر کو مٹانا ہوگا جو بقول ہمارے وزیراعظم کے `واحد چیز ہے جو برصغیر میں بسنے والے تقریباً ڈیڑھ ارب لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔۔۔آپ کو یاد ہوگا کہ اس سوچ کا اظہارکچھ برس قبل وزیراعظم صاحب نے سیفما کی ایک تقریب میں کیا تھا۔۔۔ اور حال ہی میں انہوں نے ہولی کے تہوار پر دہرایا ہے۔۔۔ پہلے انہوں نے کہا تھا کہ ” ہم میں فرق کیا ہے ؟ لکیر سے ا±س طرف بھی لوگ آلو گوشت کھاتے ہیں اور لکیر سے اِس طرف بھی لوگ آلو گوشت کھاتے ہیں۔۔۔“ اپنے حالیہ ارشاد میں انہوں نے فرمایا ہے کہ ” کچھ لوگ خدا کو بھگوان کہتے ہیں اور کچھ اللہ۔۔۔ بات تو ایک ہی ہے نا۔۔۔؟“
بات ایک ہی ہوتی تو میاں صاحب۔۔۔اللہ تعالیٰ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم)کو اپنا آخری پیغام بنا کر کیوں بھیجتا؟ قرآن کیوں نازل ہوتا ؟ جنگ بدر کیوں لڑی جاتی ؟ اس سے پہلے ہجرت کیوں ہوتی ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی حالتِ جنگ میں کیوں گزرتی۔۔۔؟ ہمارا ایمان کہتا ہے کہ کوئی نہیں معبودسوائے اللہ کے۔۔۔ اللہ جو واحد ہے اور لاشریک ہے۔۔۔ اللہ صرف ایک سوچ کا نام نہیں۔۔۔ ایک وجود کا نام ہے۔۔۔ ہم مسلمان صرف اِس لئے مسلمان ہیں کہ اِس ” وجود “ پر ایمان رکھتے ہیں۔۔۔میاں نوازشریف نے جو بات کہی ہے وہ کچھ ایسی ہے کہ چونکہ نوازشریف بھی انسان ہیں اور آصف علی زرداری بھی انسان ہیں اس لئے دونوں دراصل ایک ہیں ` نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ یہ تو پھر بھی ایک ہوسکتے ہیں ۔`اللہ اور بھگوان ایک نہیں ہوسکتے۔۔۔ صرف اللہ اللہ ہے۔۔۔
میاں صاحب آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ صرف حضرت ابراہیم علیہ اسلام کوجدّ ِامجد ماننے والے لوگ اہل کتاب ہیں۔۔۔ حضرت موسی علیہ اسلام ، حضرت عیسیٰ علیہ اسلام اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا معبود ایک ہی ہے۔۔۔
ہمارادین اسی پیغام کا تسلسل ہے جو آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے آنے والے پیغمبر لائے تھے۔۔۔ اس لحاظ سے مسلمان عیسائی اور یہودی بنیادی طور پر ایک ہی پیغام کو ماننے والے ہیں۔۔۔ اگر عیسائی اور یہودی آنحضرت کی رسالت کو مان لیتے تو سب کے لئے قرآن ہی کلامِ الٰہی ہوتا۔۔۔ لیکن بت پرستوں ` مشرکوں اور کافروں کو اِس صف میں کھڑا کرنا جہالت کی انتہا ہے۔۔۔ دینِ ابراہیم علیہ اسلام کی بنیاد ہی یہ ہے کہ بت خدا نہیں ہوتے ` ہمارے ہاتھوں سے بنے ہوئے بے جان تراشتے ہوتے ہیں۔۔۔
بات بہت دور چلی گئی۔۔۔ بات میں نجم سیٹھی کی کرنا چاہتا تھا ` جو ہمارے وزیراعظم کے منظورِ نظر اور ا±س امن کے سفیر ہیں جو صرف اس صورت میں قائم ہوسکتا ہے کہ ہمارا اللہ ( نعوذ بااللہ)کسی مندر کی زینت بنا دیا جائے۔۔۔
نجم سیٹھی نے 23مارچ کو کہا کہ یومِ پاکستان نام کی کوئی چیز نہیں۔۔۔ اور ہم جس غم و غصے کے ساتھ ا±س قتل و غارت کا ذکر کرتے ہیں جو تقسیم ِ ہند کے وقت سکھوں اور ہندووں نے خطِ تقسیم کے ا±س پار کی ` ا±سی غم وغصہ کے ساتھ خطِ تقسیم کے ا±س پار رہنے والے لوگ ا±س قتل و غارت کا ذکر کرتے ہیں جو ہم نے خطِ تقسیم کے اِس پار کی۔۔۔ نجم سیٹھی صاحب نے بڑے میٹھے لہجے میں یہ بھی فرما دیا کہ جِس نظریہ کے ساتھ تحریک ِ پاکستان کو منسوب کیا جاتا ہے وہ قائداعظم (رحمتہ اللہ علیہ) کے ذہن میں ہر گز نہیں ہوگا۔۔۔ تحریکِ پاکستان ایک حادثاتی عمل تھا۔۔۔
میں نجم سیٹھی کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا۔۔۔ وہ ا±سی سوچ کا پرچار کرتے ہیں جس سوچ کے وہ آدمی ہیں۔۔۔ میں نریندر مودی سے کبھی یہ توقع نہیں کروں گا کہ وہ اچانک اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر سجدے میں گر پڑے۔۔۔ نجم سیٹھی بھی ایسا کوئی نعرہ لگانے والے آدمی نہیں۔۔۔
میرے نزدیک قابلِ مذمت وہ سوچ ہے جس کے تحت میاں نوازشریف نے ” امن کے ان سفیروں “ کو نواز رکھا ہے۔۔۔
ڈر مجھے ا±س وقت سے لگ رہا ہے جب میاں صاحب ” ح±بِ امن “ کی شدت سے مغلوب ہو کر نعرہ لگائیں گے۔۔۔” بھگوان تیری جے۔۔۔ تیری وجے۔۔۔“
بعد میں وضاحت یقینا وہ یہی کریں گے کہ” میں تو اللہ کو پکار رہا تھا جو عظمت والا اور نصرت والا ہے!“۔
(یہ کالم اس سے پہلے 29-03-2017 کو شائع ہو چکا ہے۔)

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top