خالصتان تحریک کی مقبولیت ۔ بھارت کےلئے خطرے کی گھنٹی

  • نائلہ فیروز

حال ہی مےں شمالی امریکہ اور ےورپ مےں کام کرنےوالی سکھوں کی مذہبی تنظیموں نے بھارتی سفارت خانوں کے افسران پر سکھ عبادت گاہوں کا دورہ کرنے پر پابندی لگا دی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیںاوراس سے پہلے بھی اےسے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہےں جب بھارتی حکومت کے وفود اور ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریا سواےم سےوک سنگھ (RSS) کے کارکنوں کو سکھ گردواروں مےں داخل ہونے سے روک دیا گےا۔مزید برآں 30 دسمبر2017کوکےنےڈا کے شہر برےمپٹن مےں جوت پرکاش گوردوارا نے بھی جو پندرہ گردواروں کی نمائندگی کرتا ہے ، بھارتی افسران بشمول منتخب نمائندوں کے انکی سرکاری حےثیت سے سکھوں کے مذہبی مقامات پر داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ بھارتی افسران کو سکھوں کی مذہبی عبادت گاہوں مےں داخل ہونے سے روکنے کی یہ تحریک جنگل کی آگ کی طرح کےنےڈا کے دیگر صوبوں کیوبک، برٹش کولمبیا اور البرٹا کے ساتھ ساتھ سرحد پار ممالک امریکہ، برطانیہ اور آسٹرےلیا تک پہنچ پھےل گئی ہے ۔سکھوں کے اس سخت اقدام کامقصد یہ ہے کہ بھارتی سرکاری اہلکاروں ےا نمائندوں کو سکھوں کے معاملات مےں دخل اندازی سے روکا جائے۔ یہ رجحان بڑی تےزی کےساتھ کےنےڈا مےں اےک تحریک کی شکل اختیار کر گےا ہے جسکے اثرات کےنےڈا ، امریکہ اور پورپی ممالک مےں بھی دےکھے جارہے ہےں۔ سکھوں کے معاملات مےں مداخلت بھارت نے اےک حکمتِ عملی کے طور پر بارہا استعمال کی اور 80کی دہائی مےں جب خالصتان تحریک اپنے عروج پر تھی سکھوں کے اتحاد مےں دراڑےں ڈالنے کےلئے اپنی کوششےں تےز کردیں اورپھر جون 1984مےں سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹمپل مےں اپنی فوجےں داخل کردیں۔ یہ وہ وقت تھا جب سکھ زائرین کی اےک بڑی تعداد اپنے مذہبی تہوار کے سلسلے مےں موجود تھی۔ فوج کے اس آپرےشن کو آپرےشن بلیو سٹار کا نام دیا گےا۔ گولڈن ٹمپل کی اس بے حرمتی ہی کے ردعمل مےں اندرا گاندھی کو اسکے سکھ محافظوں نے قتل کردیا۔ اسکے بعد تو باقاعدہ اےک مہم کے تحت کئی دنوں تک ہزاروں سکھوں کا قتل عام کیا گےا جس مےں سکھوں پر حملہ کرنےوالوں کو بھارتی سرکار (کانگرس پارٹی) کی پشت پناہی حاصل تھی۔ آج بھی سکھ برادری اپنے ساتھ ہونےوالے اس ظلم اور نسل کشی کے مجرموں کےخلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی مجرم کو سزا ہی دی گئی ۔ ہزاروں سکھ خاندان آج بھی انصاف کےلئے ترس رہے ہےں اور اپنی جانوں کے خوف سے بھارت سے باہر پناہ لےنے پر مجبور ہو گئے ہےں۔
بھارتی سرکاری اہلکاروں اور سفارت کاروں کےخلاف یہ تحریک جو کےنےڈا سے شروع ہوئی بڑی تےزی سے مقبول ہوتی گئی اورسرحدوں سے باہر نکل کر امریکہ اور برطانیہ مےں پھےل گئی۔اس تحریک کا پس منظر یہ ہے کہ یہ تقریباً اےک سال پہلے کی بات ہے جب بھارتی کونسل جنرل دنےش بھاٹیا نے ٹورنٹو (کےنےڈا) مےں سکھ گردوارے کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران رائل کےنےڈین پولیس کے دو اہلکار بھی انکے ہمراہ تھے۔ اس دورے کے بعد کےنےڈا مےں قائم کئی گردواروں کو بند کر دیا گےا جس پر سکھ برادری مشتعل ہو گئی۔ کےنےڈا کی سکھ برادری کا خیال ہے کہ اس کارروائی مےں بھارتی حکومت کا ہاتھ تھا۔اس سے پہلے بھی چونکہ بھارتی حکومت اپنے سیاسی مقاصد کےلئے سکھوں کے اندرونی معاملات مےں دراندازی کرتی آئی تھی اسلئے سکھوں کی اےک تنظیم سکھ فار جسٹس گروپ نے فروری 2017 مےں کےنےڈا کی خارجہ امور کی وزیر کو اےک پےغام ارسال کیا جس مےں ان سے کہا گےا کہ بھارتی سفارت خانے کے افسران اور اہلکاروں کیجانب سے کےنےڈا مےں مقیم امن پسند سکھ برادری کے معاملات مےں مداخلت اور انکے مابےن پائے جانےوالے بھائی چارے اور ہم آہنگی مےں رخنہ اندازی کی سرگرمیوں کا سختی کےساتھ نوٹس لےا جائے۔ بہر حال تواتر کےساتھ ہونےوالے بھارت مخالف واقعات اےک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہےں کہ بھارت سے باہر سکھ پناہ گزیں بھارت کےخلاف اےک پلےٹ فارم پر متحد ہورہے ہےں اورکھل کر سکھوں کی آزادی کی تحریک اور خالصتان کی حماےت کررہے ہےں جسے ماضی مےں بھارت نے اپنی فوجی طاقت سے دبا دیا تھا۔
مئی 2014مےں ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیا جنتا پارٹی(BJP)کی جوسنگھ پریوار ےاراشٹریا سواےم سےوک سنگھ کی ہندوتوا فلاسفی پرکاربند ہے، عام انتخابات مےں فتح اور نرےندرا مودی کے بطور وزیرِ اعظم مسندِ اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد سکھوں سمےت بھارت کی تمام مذہبی اقلیتےں بھارت مےں ہندو انتہا پسندی کے بڑھتے اثرورسوخ اور انکی متشدد کارروائیوں سے خوفزدہ ہےں ۔ بھارت کی 1.26 ارب کی آبادی مےں80فیصد ہندو جبکہ 14فیصد مسلمان، 2.3 فیصدمسیحی، 1.7فیصد سکھ شامل ہےں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 3کروڑ کی سکھ آبادی مےں سے80لاکھ سے زیادہ سکھ بھارت سے باہر دیگر ممالک مےں رہتے ہےں جسکی سب سے بڑی وجہ سکھوں کےخلاف جاری وہ منظم نسل کش سرگرمیاں ہےں جنہیں بھارتی سرکار کی آشیر باد بھی حاصل ہے۔
بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 25(2)(b)کے تحت سکھوں،جےن مت اور بُدھ مت کو ہندو مذہب مےں شامل کرتے ہوئے انکی الگ شناخت کوختم کردیا۔یہاں یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ سکھوں کی کئی تنظیمےں بھارتی آئین کے آرٹیکل 25(2)(b)کو ختم کرنے، سکھوں کی اےک الگ قوم کی حےےثت سے شناخت حاصل کرنے اور لوک سبھا مےں انکی متناسب نمائندگی حاصل کرنے کی کوششےں کررہی ہےں۔وہ سکھوں کےلئے انصاف کے حصول کےلئے بھی کوشاں ہےں جس سے انہیں کئی دہائیوں سے محروم رکھا گےا ہے۔ سکھ برادری جو اپنی الگ شناخت کی بنیاد پر اپنے علےحدہ وطن “خالصتان” کا مطالبہ کرتی آئی ہے اس کےلئے سکھوں نے بھارت کے آئین کو کبھی قبول نہیں کیا۔ خالصتان کی تحریک کو80کی دہائی مےں فوج کے بے درےغ استعمال کے ذریعے دبا دیا گےا۔ سکھوں کا بے درےغ قتل کیا گےا اور نتیجتاً سکھوں کی اےک بڑی تعداد اپنی جانےں بچانے کےلئے دیگر ممالک مےں پناہ لےنے پر مجبور ہو گئی۔ کےنےڈا، برطانیہ، امریکہ اور آسٹرےلیامےں سکھ برادری کی اےک بڑی تعداد موجود ہے جو اپنے آزاد وطن خالصتان کے حصول کی جدوجہد مےں مصروف ہے۔ کےنےڈا مےں یہ تحریک بڑے زوروں پر تھی لےکن پچھلے چند سالوں کے دوران یہ تحریک امریکہ سمےت کئی ےورپی ممالک مےں پھےل چکی ہے۔
بھارت جہاں پہلے ہی مختلف قومیتوں، ذات پات کے استحصالی نظام اور معاشی طبقات مےں چپقلش جاری ہے وہاں آزادی کی مختلف تحریکےں بھی جاری ہےں ۔بھارت کے جمہوری اور سےکولر ریاست ہونے کے دعو¿وںکے برعکس وہاں نہ صرف مذہبی اقلیتوں کا استحصال ہوتا رہا ہے بلکہ ذات پات کے نظام کے تحت نچلی ذاتوں اور اچھوتوں کےساتھ جو اپنے آپ کو دلت کہلواتے ہےں ظلم و ستم صدیوں سے جاری ہے جس کےخلاف شدید ردعمل بھی سامنے آےا ہے۔ جہاں تک سکھوں کا تعلق ہے تو ان کےساتھ بھارت نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہ صرف ا ن کی الگ شناخت کو ختم کردیا بلکہ ان کے جائز مطالبات ماننے سے بھی انکار کردیا۔ بھارت نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سکھوں کےلئے الگ ریاست “خالصتان ” کے تصور کو نقصان پہنچانے کی غرض سے بھارتی پنجاب اور سکھ اکثریتی علاقوں کے اےسے حصے بخرے کئے جس سے سکھوں کی آبادی تقسیم ہوگئی اور ان علاقوں مےں انکی اکثریتی حےثیت شدید متاثر ہوئی۔ اسکے بعد سے سکھ برادری بھارت سے برسرِ پےکار ہے اور اپنی آزادی کے حصول کےلئے بھارت کے اندر اور دےگر ممالک مےںجن مےں کےنےڈا، برطانیہ ، امریکہ اور آسٹرےلیا شامل ہےں بھارت کےخلاف سرگرم ہے اور متحد ہو کر عالمی برادری کو اپنی موجودگی کا احساس دلا کر توجہ کا مرکز بن رہی ہے جو ےقیناً بھارت کےلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔

Scroll To Top