چینی خلائی تجربہ گاہ زمین کے مدار میں داخل ہوتے ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی

eپاکستانی وقت کے مطابق صبح چار بجے سے دوپہر تک چینی خلائی تجربہ گاہ تیانگونگ اول زمین پر آگرے گی۔ فوٹو: بشکریہ چینی خلائی ایجنسی

بیجنگ: چینی اور یورپی خلائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ کئی ماہ قبل بے قابو ہونے والی چینی خلائی تجربہ گاہ اگلے 24 گھنٹے میں اپنے مدار سے باہر نکل کر زمین کا رخ کرسکتی ہےتاہم اس کے زمین سے ٹکرانے کا امکان بہت کم ہے کیونکہ زمینی فضا میں داخل ہوتے ہی یہ جل کر راکھ ہوجائے گی۔

تیان گونگ اول اس چینی خلائی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت انسان بردار خلائی اسٹیشن کو 2022ء تک مدار میں داخل کیا جائے گا۔ اس تجربہ گاہ کو 2011ء میں مدار میں بھیجا گیا تھا اور 2013ء تک اس نے اپنا مشن مکمل کرلیا تھا جس کے بعد اس کی زمین پر واپسی کی پیش گوئی کردی گئی تھی۔

دنیا بھر کے خلائی ماہرین اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور دو اپریل کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 25 منٹ سے لے کر دوپہر کے درمیان تک زمین کا رخ کرے گی اور اسٹیشن کا کچھ حصہ راکھ اور ملبے کی صورت میں زمین پر گرسکتا ہے۔ چینی ماہرین نے کہا ہے کہ تیانگونگ تجربہ گاہ اس طرح زمین پر نہیں گرے گی جیسا کہ فلموں میں دکھایا جاتا ہے بلکہ یہ شہابِ ثاقب کی مانند دکھائی دے گی۔

سال 2016ء میں خلائی تجربہ گاہ کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا تھا اور یوں وہ قابو سے باہر ہوچکی تھی۔ ماہرین نے اپنے حساب سے بتایا ہے کہ 43 درجے شمال سے لے کر 43 درجے جنوب تک وسیع کسی جگہ یہ زمین میں داخل ہوگی اور شاید نیوزی لینڈ سے لے کر امریکا کے وسط تک کہیں گرے گی۔

زمین سے 100 کلومیٹر کی بلندی پر خلائی تجربہ گاہ شدید گرم ہوجائے گی اور اس کی رفتار 26 ہزار کلومیٹر تک جا پہنچے گی۔ اس کے بعد ساڑھے 8 ٹن وزنی یہ خلائی اسٹیشن یا خلائی تجربہ گا ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور شاید کچھ حصے زمین پر بھی گریں گے تاہم چینی ماہرین کے مطابق اس سے انسانوں کے متاثر ہونے کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔

Scroll To Top