اگر جمہوریت کا ثمر یہی ہے ۔۔۔؟ 13-02-2013

ترقی اور خوشحالی اس قوم کا مقدر بن ہی نہیں سکتی جو تعلیم کے شعبے کے ساتھ ویسا سلوک کرے جیسا سلوک وطنِ عزیز میں ہورہا ہے۔ بات صرف سندھ کی نہیں یا صرف بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی بھی نہیں ` بات گڈ گورننس کے دعویدار صوبے پنجاب کی بھی ہے جہاں ہزاروں سکولوں کومویشیوں کے باڑوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔یہ ممکن ہی نہیں کہ اس ہولناک صورتحال کا علم خادم ِ اعلیٰ کو نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن نہیں کہ متذکرہ سکولوں پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کے ساتھ نمٹنا میاں شہبازشریف کے اختیار سے باہر ہو۔ میاں شہبازشریف کا اختیار کس مجنونانہ ” قوت ارادی “ کے ساتھ استعمال ہوسکتا ہے اس کا اندازہ اس وحشیانہ سلوک سے لگایا جاسکتا ہے جو 10فروری2013ءکو لاہور پولیس نے قوم کا ”جوہرِ قابل “ شمار ہونے والے نوجوان ڈاکٹروں اور ” ڈاکٹرنیوں “ کے ساتھ کیا۔
پولیس والے یوں لپک لپک کر ینگ ڈاکٹرز پر حملہ آور ہورہے تھے جیسے بھیڑئے اپنے شکار پر جھپٹتے ہیں۔ کسی بھی باشعور شہری کے لئے یہ منظر ناقابلِ برداشت تھا۔
جس صوبے کا وزیراعلیٰ اپنے اختیارات کے استعمال میں اس قدر” بے لچک “ ہو اس صوبے میں بچوں کے سکولوں پر ” دیہہ خداﺅں “ کا قابض ہوجانا اور انہیں مویشیوں کے باڑوں میں تبدیل کردینا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ وزیراعلیٰ صاحب تعلیم کو ترقی کے سفر میں ایک غیر ضروری عیاشی تصور کرتے ہوں۔
جہاں تک سندھ کا تعلق ہے وہاں کی صورتحال تو اس قدر شرمناک ہے کہ تصور کرکے بھی پسینہ آجاتا ہے۔
اگر جمہوریت کا ثمر یہی ہے ` اگر ایسے Ghostسکول قائم کرکے ملک و قوم کی دولت اسی انداز میں لٹیروں اور ڈاکوﺅں کی جیبوں میں جانی ہے تو پھر یا تو قہرالٰہی کو دعوت دینی ہوگی ` یا پھر عوام کو خود احتساب کا طوفان بن کر اٹھنا ہوگا۔
یہ جو سلطانی ءجمہورکے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں یہ دراصل وہ نقوشِ کہن ہیں جنہیں مٹائے بغیر اقتدار حقیقی معنوں میں عوام کے ہاتھوں میں نہیں آئے گا۔

kal-ki-baat

Scroll To Top