یہ کسی بھی انسان کا پہلا چوائس نہیں ہو گا کہ وہ روبوٹ بن کر ریموٹ کنٹرول کے تابع رہے

چیف جسٹس جناب ثاقب نثار اور وزیر اعظم جناب شاہد خاقان عباسی کے درمیان اچانک ہونے والی ”ون آن ون“ ملاقات کے بعد سوالات اور شکوک و شہبات کا جو طوفان اٹھا اس نے جسٹس ثاقب نثا ر کو کچھ وضاحتیں کرنے پر مجبور کر دیا۔ میںسمجھتا ہوں کہ یہ وضاحتیں مسلم لیگ(ن) کی اعلی قیادت کے لیے سود مند نہیں ہوں گی۔ اگر جناب خاقان عباسی نے چیف جسٹس صاحب سے ملاقات اپنے دل کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے کہنے پر کی تو انہوں نے دانشمندانہ کام نہیں کیا۔ انہوں نے چیف جسٹس کو مجبور کر دیا کہ وہ قوم کو وہ یقین دہانیاں کرائیں جو انہوں نے کرائی ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ جیسے کوئی جوڈیشل مارشل لاءنہیں آئے گا ویسے ہی کسی جوڈیشل این آر او کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔

اس ضمن میں جوڈیشل این آر او کا مطلب کیا ہے؟ کسی بھی سمجھوتے کے نتیجے میں میاں نواز شریف کا سزا سے بچ نکلنا۔
چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ کوئی جوڈیشل این آر او نہیں ہوگا واضح طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ نہ تو کوئی سمجھوتہ ہوگا اور نہ ہی میاں صاحب اور ان کا خاندان مستحق سزا سے بچ پائے گا۔
اب صورتحال یہ بیدا ہوئی ہے کہ عدالتی نظام کے لیے میاں صاحب کے ساتھ کوئی بھی رعایت کرنا ممکن نہیں رہا کیوں کہ اس صورت میں سمجھا جائے گا کہ چیف جسٹس کی یقین دہانی کے برعکس این آر او ہو ا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر درخواست یا خواہش وزیر اعظم کی طرف سے تھی تو چیف جسٹس صاحب کے لیے ملاقات سے گریز ہر گز مناسب نہ ہوتا کیوں کہ وزیر اعظم کا ٹرائل نہیں ہو رہا اور وہ بہرحال وزیر اعظم ہیں ۔ون آن ون ملاقات اس لیے ہوئی کہ وزیر اعظم کوئی سرکاری ایجنڈا لے کر نہیں آئے تھے اور ملاقات واضح طور پر رسمی اور نجی نوعیت کی تھی۔
چیف جسٹس صاحب نے بڑی جرا¿ت سے کام لیا کہ تمام ممکنہ رد عمل کو نظر انداز کر کے انہوں نے ملاقات کی۔
جب وہ وضاحتیں دینے پر مجبور ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ان کا منصب ہی ایسا ہے کہ لوگ فریاد یا مسئلہ لے کر آتے ہیں۔ فریاد یہاںPrayerکا اردو ترجمہ ہے۔ اورPrayerخالص طور پر ایک قانونی اصطلاح ہے۔
میاں نواز شریف نے لفظ فریاد کو فریادی بنا کر اسے وزیراعظم خاقان عباسی کے ساتھ نتھی کر کے جو سیاسی فائدہ اٹھانے (اور چیف جسٹس کی ذات کو متنازعہ بنانے) کی کوشش کی ہے وہ نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے دراصل خاقان عباسی صاحب کو ترغیب دی ہے کہ وہ وضاحت کے پردے میںجواب طلبی کریں۔
چیف جسٹس صاحب کے دفتر سے جو وضاحتی بیان جاری ہوا اس نے میاں صاحب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہوگا۔
ویسے امکانات دونوں موجود ہیں۔
ایک تو یہ کہ خاقان عباسی صاحب واقعی فریادی بن کر گئے تھے مگر انہیں این آر او نہیں ملا۔
اور دوسرا یہ کہ و ہ چیف جسٹس کو یہ بتانے گئے تھے کہ”میںاب سچ مچ کا وزیر اعظم بنوں گا اور اس عدالتی عمل میں جس میں میاں نواز شریف ایک ملزم ہیں، میں قطعاً فریق نہیں بنوں گا۔“
اس دوسرے امکان کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کہ خاقان عباسی بہر حال انسان ہیں اور وہ نہیں پسند کرتے ہوںگے کہ وہ روبوٹ بن کر”ریموٹ کنٹرول“ کے تابع رہیں۔

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top