پاک بھارت مذاکرت پھر ہونے جارہے ؟

پاکستان میں بھارت کے ہائی کمشنر اجے بساریا نے دونوں ممالک کو ماضی کی تلخیاں بھلا کر آگے بڑھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ہمسائیوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھنے کی ضرورت ہے۔بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا نے لاہور چیمبر آف کامرس کے دورے کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ 70 سال سے اپنائی گئی پالیسی سے کسی کو فائدہ نہیں، اب نوجوانوں کے بھارت اور پاکستان کو آگے بڑھنا ہے۔اجے بساریا کے بعقول دونوں ممالک میں باہمی تجارت بڑھانے کی گنجائش موجود ہے، تمام مشکلات کے باوجود تجارت بڑھانے پر بات کرنے کی ضرورت ہے یعنی دونوں ممالک کو ٹرانزٹ اور روابط کو بہتر کرنا چاہیے۔“
دراصل تقسیم ہند سے لے کر اب تک پاکستان کے برعکس بھارت نے دشمنی کو کوئی بھی موقعہ نہیں گنوایا۔ بھارتیہ جتنا پارٹی کا حکومت میں آنا تو کل کی بات ہے مگر حقیقت میں ہندو انتہاپسندی کی بھارت میں تقسیم ہند سے بھی پہلے موجود تھی ۔تاریخ گواہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح سمیت برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کو کوئی بھی رہنما ہندوستان کو دوحصوں میںکرنے کے حق میں نہ تھا مگر انتہاپسند ہندووں رہنماوں نے تحریک پاکستان کے قائدین کے پاس اس کے کوئی آپشن نہ چھوڈا کہ وہ الگ ملک کا مطالبہ کرڈالیں۔
اب تو خود بھارت کے غیر جانبدار مورخین اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ موہن داس کرم چندگاندھی کو قتل کرنے والا بھی ہندو انتہاپسند ہی تھا۔ کہنے کو بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے مگر حقائق اس کے برعکس ہیں،پڑوسی ملک میں اکثریت اس انداز میں اقلتیوںکے حقوق پامال کررہی کہ عملا ان پر زمین تنگ ہوچکی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں ایک ہی درجنوں آزادی کی تحریکیں جاری وساری ہیں جن کو طاقت کے زریعہ دبانے کے لیے بھارتی سیکورٹی فورسز آئے روز قتل عام کررہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے تنازعہ کشمیر کو پرامن انداز میں حل کرنا ضروری ہے۔ پاکستان اب تک ہر عالمی پلیٹ فارم پر یہ دہائی دے چکا کہ دو ہمسایہ ایٹمی قوتوں میںدیرپا امن کے لیے اس دیرینہ مسلہ کو حل کرنا ہوگا۔
مسلہ کشمیر کو لے کر پاکستان اور بھارت میں چار باضابطہ جنگیں اور ہزاروں مرتبہ لائن آف کنڑول اور ورکنگ باونڈری پر جھڑپیں ہوچکیں مگر نئی دہلی اس مسلہ کو سنجیدگی سے لینے کے حق میں ہی نہیں۔
پاک بھارت تعلقات میں اتار چڑھاو دونوں ملکوں کی تاریخ کا حصہ ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی دونوں ممالک کے شہریوں اور تاجروں سمیت بشیتر شعبہ ہائے کے افراد کو ویزا کے حوالے سے کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ یہ کھلا راز ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آجائے تو خطے کے بشتیر مسائل حل ہونے میں ہرگز تاخیر نہ ہو۔ مثلا ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان اور بھارت میں باہمی تجارت 30 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے جبکہ آج تیسرے ملک کے ذریعے تجارت کا حجم زیادہ ہے جبکہ براہ راست پاک-بھارت تجارت 2 اعشاریہ 2 ارب ڈالر ہے۔پاکستان اور بھارت دونوں میں ہی ایک ایسا طبقہ ہے جو نقطہ نظر رکھتا ہے کہ مسائل اور تنازعات کے باوجود دونوں ملکوں کو باہمی تجارت کا حجم بڑھانا چاہے۔ اس ضمن میں نمایاں مثال برطانیہ اور فرانس کی دی جاتی ہے جو کم وبیش سو سال تک ایک دوسرے سے نبرد آزما رہے مگر اب دونوں ملکوں میں تجارتی حجم تیزی سے بڑھ رہا۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں بھارت کے سفیر کا دونوں ملکوں میں تعلقات کی بہتری کی وکالت کرنا بلاوجہ نہیں ۔ حال ہی میں یہ پیش رفت بھی سامنے آئی کہ یوم پاکستان کے موقعہ پر نئی دہلی میںہونے والی تقریب میں بھارتی سفارتکار بھی شریک ہوئے۔
پاکستان اور بھارت میں بہتر تعلقات کے لیے میڈیا کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے برعکس بھارتی میڈیا کا قابل زکر حصہ پاکستان، اسلام اور مسلمانوں کا نمایاں دشمن بن کر ابھرا ہے۔ بھارتی سیاست میں پاکستان دشمنی بھی کسی سے مخفی نہیںچنانچہ بھارت میں امن پسند حلقوں کے لیے لازم ہے کہ وہ میڈیا کو آگ لگانے کا کردار ادا کرنے سے روکے۔ یقینا جب حقیقت سے ہٹ کر صحافت کی جائے گی تو اس کے نتیجے میں مسائل بڑھیں گے۔ پاکستان اور بھارت میں ایک تنازعہ پانی کا بھی ہے چنانچہ لازم ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے مابین اعلی ترین سطح پر بات چیت ہو ۔
یہ بات بہت حد تک درست ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے کے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہوگا۔ کھیلوں میں کرکٹ دونوں ملکوں کے عوام چاہتے ہیں۔ یقینا حالات ساز گار ہوتے ہی کرکٹ بھی بحال ہو جانے کی امید ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستانی سفارت کاروں کو بھارت میں ہراساں کرنے کے پہ درپہ واقعات سامنے آئے ہیں جو ہر لحاظ سے قابل مذمت ہیں ۔ بھارت میں اگر کہیں نہ کہیں یہ سو چ فروغ پذیر ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہے تو لازم ہے کہ نئی دہلی میں سفارتی عملے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
جنوبی ایشیاءکا کوئی بھی باشعور شہری اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ پاکستان اور بھارت کے پاس ایٹمی قوت بن جانے کے بعد سوائے امن کے کوئی آپشن نہیں رہ گیا چنانچہ لاکھوں نہیںکروڈوں انسانوں کا روشن اور محفوظ مسقبل اسی صورت ممکن ہے جب امن اور صرف امن کو موقعہ دیا جائے۔ دونوں ملکوں میں نوجوانوں کی دو تہائی تعداد35 سال سے کم عمر کی ہے لہذا ہونا یہ چاہے کہ غربت، پسماندگی اور ناخواندگی کو مشترکہ دشمن ہے قرار دیتے ہوئے پرامن مستقبل کے لیے مل کام کیا جائے۔

zaheer-babar-logo

Scroll To Top