مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں کی 2 سال بعد نظر بندی کا مشروط خاتمہ

o-copyقابض بھارتی پولیس نے کشمری رہنماؤں کو گزشتہ دو سال سے نظربند کر رکھا تھا۔ فوٹو : سوشل میڈیا

 سری نگر: قابض بھارتی پولیس نے حریت پسند کشمیری رہنماؤں کو 2 سالہ جبری نظر بندی کے بعد طے شدہ شرائط پر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی۔ 

کشمیری میڈیا کے مطابق قابض بھارتی پولیس نے حریت پسند بزرگ رہنما سید علی گیلانی سمیت میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کی نظر بندی ختم کر دی اور انہیں گھر سے باہر نکلنے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے جس کے تحت حریت رہنماؤں کو سیاسی و سماجی سرگرمیوں کے دوران ریاست مخالف تقاریر پر پابندی کا سامنا ہو گا۔

کشمیری میڈیا سے بات کرتے ہوئے حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ بھارت کو ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے بعد  کشمیر کے زمینی حقائق کا انداز ہوگیا ہے اور کشمیری عوام کے جذبات کے باعث وہ حریت قیادت کی نظر بندی ختم کرنے پر رضامند ہوئی اگر اسی طرح جدوجہد آزادی جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب ہر کشمیری آزاد فضاؤں میں سانس لے گا۔

واضح رہے کہ قابض بھاری فورسز کی جانب سے حریت پسند رہنماؤں کی نظر بندی ختم کرنے کا فیصلہ شدید عوامی ردعمل کے بعد کیا گیا ہے تاکہ کٹھ پتلی کشمیری حکومت کے خلاف کشمیریوں کے بھڑکتے ہوئے جذبات کو قابو میں کیا جا سکے۔ حریت پسند رہنماؤں کی نظر بندی کے بعد سے پورے کشمیر میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔

Scroll To Top