آج کا قیصر آج کا کسریٰ 09-02-2013

kal-ki-baatرائے ونڈ محل کے پہلو بہ پہلو زرداری محل تعمیر ہوچکا ہے۔ اس محل کی تعمیر پر اخراجات کتنے آئے ہیں اورکس نے کئے ہیں ` یہ بے مقصد سوالات ہیں۔ بادشاہ کبھی اپنے اخراجات کا حساب نہیں دیا کرتے۔ کیا رائے ونڈ محل کے شاہی مکینوں نے کبھی یہ بتانے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ اس کی تعمیر کیسے ہوئی اور اس کی تعمیر کا مالی بوجھ کس نے برداشت کیا ۔؟
بادشاہتوں اور شاہی خاندانوں کی اپنی ایک الگ ڈائنامکس(dynamics)ہوا کرتی ہے۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ جب ظہورِ اسلام ہوا تھا ` اور حجاز کے ریگستانوں سے انقلاب کی آندھی اٹھی تھی ` تب بھی دنیا دو عظیم بادشاہتوں میں بٹی ہوئی تھی۔ نسیم حجازی مرحوم نے ان بادشاہتوں پر ” قیصر و کسری ٰ “ کے زیر عنوان ایک داستان بھی لکھی۔ اس داستان کے بعد ان کی تحریر کردہ ایک اور داستان ” قافلہ ءحجاز “ بھی سامنے آئی۔
رائے ونڈ محل اور زرداری محل کے ذکر سے میرا ذہن قیصر و کسریٰ کی طرف کیو ں گیا ہے؟
میں نہیںجانتا کہ اُس دور میں ملک ریاض حسین جیسا کوئی افسانوی کردار تھا یا نہیں۔ ۔۔لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ پاکستان کے اس ذہین و فطین معمار نے صرف آبادیاں شہر اور بستیاں ہی آباد نہیں کیں ` بادشاہ گری کے فن میں بھی قابلِ رشک نام کمایا ہے۔ قیصر و کسریٰ کے زمانے میں بادشاہ گری کا کام بادشاہ خود اپنی تلوار سے کیا کرتے تھے۔ لیکن یہ Adam Smithکے سرمایہ دارانہ نظام کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں تلواریں لوہے سے نہیں سرمائے سے ڈھلتی ہیں۔
جو سوال یہاں میرے ذہن میں اٹھے بغیر نہیں رہ رہا وہ یہ ہے کہ کیا آج کے زمانے میں بھی ویساطوفان اٹھ سکتا ہے جیسا حجاز سے اٹھا تھا اور جو قیصر و کسریٰ کو خس و خاشاک کی طرح بہالے گیا تھا ؟

Scroll To Top