میرا یہ موکل کس قدر بھولا اور خود فریب ہے کہ مجھ سے توقع رکھ رہا ہے کہ میں اسے آگ کے الاﺅ سے صحیح سلامت باہر نکال لاﺅ ں گا!!!

aaj-ki-baat-new” جو شخص جھوٹ بولتا ہے اس کے لئے دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب لکھا گیا ہے ۔۔۔“
حضرت علی ؓ کا یہ قول مجھے آج صبح صبح سننے کا اتفاق ہوا ہے اور میرے ذہن میں فوراً اُن حالات کا نقشہ گھوم گیا ہے جس کا سامنا میاں نوازشریف کو ہے۔۔۔
اس کے ساتھ ہی مجھے یہ خبرسننے کو ملی ہے کہ محمود خان اچکزئی کے اس بیان پر علماءمیں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے کہ ” پیغمبر“ بھی عوامی طاقت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔۔۔“
میاںنوازشریف کو اپنے نظریات کے سانچے میں ڈھالنے والے اچکزئی کا اشارہ (نعوذ باللہ)نجانے کس پیغمبر کی طرف ہے کیوں کہ تاریخ میں تین ہی پیغمبر ایسے گزرے ہیں جن کا براہ راست تعلق ان معنوں میں ” عوامی طاقت “ سے تھا جن معنوں میں اچکزئی نے یہ ترکیب استعمال کی ہے۔۔۔ سب سے پہلے تو حضرت موسی ؑ نے بنی اسرائیل کو یکجا کرکے اپنی رہنمائی فراہم کی۔۔۔ اس کے بعد حضرت داﺅد ؑ بنی اسرائیل کے حاکم بنے۔۔۔ اور آخر میں پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کے پیغامِ ابدی کے پرچم تلے ” عوامی طاقت “ جمع ہوئی۔۔۔
اچکزئی کا شارہ یقینی طور پر ہمارے رسول ﷺ کی طرف ہے۔۔۔ اس بدبخت کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ جس ” عوامی طاقت “ کا ذکر اس نے کیا ہے وہ ہمارے پیغمبر ﷺ نے پیدا کی تھی ` ہمارے پیغمبر کواس عوامی طاقت نے پیدا نہیں کیا تھا ۔۔۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو پیغمبر (نعوذ باللہ)عوامی طاقت نے پیدا کئے وہ بہ زندانِ لعنت گرفتار ہوئے ` جس طرح ابلیس بہ زندانِ لعنت گرفتار ہوا۔۔۔ میں اس ضمن میں دورِ جدید کے ایک ” پیغمبر “ کا ذکرکروں گا جس نے ’ ’ عوامی طاقت “ کے بل بوتے پر دنیا کو ایک ایسی جنگ کی آگ میں جھونکا جو کروڑوں جانوں کو نگل گئی۔۔۔ اس پیغمبر کا نام ” ہٹلر “ تھا۔۔۔ میں لفظ پیغمبر یہاں ” پیغام بر “ کے معنوں میں استعمال کررہاہوں۔۔۔ جس طرح ہٹلر”جرمن قوم کی عظمت“ کا پیغام بر تھا۔۔۔ جس طرح محمود اچکزئی علاقائی اور نسلی عصبیت کے پیغام بر ہیں اور جس طرح میاں نوازشریف جھوٹ کی پیغام بر ی کررہے ہیں۔۔۔
محمود اچکزئی صاحب۔۔۔ تاریخ گواہ ہے کہ سچ کے علمبردار ہمیشہ اقلیت میں ہونے کے باوجود باطل کی عددی اکثریت پر غالب آئے۔۔۔ میدانِ بدر اس عظیم صداقت کا گواہ ہے۔۔۔
صرف خدا حق ہے۔۔۔ بدبخت انسان۔۔۔! صرف وہ ” عوامی طاقت“ حق ہوتی ہے جس نے ” حاکمیتِ خداوندی“ کا پرچم اٹھایا ہوا ہو۔۔۔
اور جناب میاں نوازشریف ۔۔۔
آپ کا وکیل واجد ضیاءسے وہ سوال پوچھتا رہا جن کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ ان سوالوں کا جواب تو آپ نے خود اپنی اپریل 2016ءوالی نشری تقریر میں دے دیا تھا۔۔۔ یہ کہہ کر کہ ۔۔۔ ” کوئی بے وقوف آدمی ہی ناجائز آمدنی سے اپنے نام پر اثاثے بنائے گا۔۔۔“
آپ یقینا بے وقوف نہیں تھے۔۔۔ آپ نے اثاثے اپنی اولاد کے نام پر بنائے۔۔۔ آپ کہتے چلے آرہے ہیں کہ آپ پر ایک پیسے کی کرپشن کا نہ تو براہ راست الزام ہے اور نہ ہی کوئی ثبوت ۔۔۔
تو میاں صاحب۔۔۔ یہ جو لندن والے اربوں کی مالیت کے فلیٹ ہیں ` کیا یہ آپ کی کرپشن کا چیختا چنگھاڑتا ثبوت نہیں؟
یہ فلیٹ اوپر سے من وسلویٰ کی طرح آپ کی اولاد پر نہیں اترے تھے۔۔۔ یہ خریدے گئے تھے اور خریدنے کے لئے پیسے چاہئیں۔۔۔ آپ کے دونوں صاحبزادے ماشاءاللہ لڑکپن میں ” بلِ گیٹس “ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔۔۔اور آپ کی ہونہار ” سچی “ صاحبزادی مریم تو ببانگ دہلِ اعلان کرچکی ہے کہ ” یہ آپ صحافی لوگ۔۔۔۔ میری یا میرے خاندان کی بیرونی املاک کہاں سے نکال لاتے ہیں ؟ میری بیرونِ ملک تو دُور کی بات ہے ` اپنے ملک میں بھی کوئی املاک نہیں ۔۔۔ میں تو رہتی بھی اپنے ابا جان کے گھر میں ہوں۔۔۔“
تو میاں صاحب ۔۔۔ مقدر آپ کے ساتھ ہاتھ کر چکا ہے۔۔۔ آپ کا ہر جرم خود بخود فاش ہوا ہے۔۔۔ آپ کا وکیل آپ کے جھوٹ کو سچ میں نہیں بدل سکتا۔۔۔ وہ فیس تو یقینا آپ سے کروڑوں میں لے رہا ہوگا۔۔۔ مگر دل ہی دل میں ہنس رہا ہوگا۔۔۔ یہ سوچ کر کہ میرا یہ موکل کس قدر بھولا اور خودفریب ہے کہ مجھ سے توقع رکھ رہا ہے کہ میں اسے آگ کے الاﺅ سے صحیح سلامت باہر نکال لاﺅں گا!!!

Scroll To Top