بلوچستان عوامی پارٹی

zaheer-babar-logo

رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں توقعات کے عین مطابق نئی سیاسی جماعت سامنے آچکی ۔ مسلم لیگ نواز اور مسلم لیگ ق کے منحرف اراکین نے مل کر بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت ظہور پذیر ہوچکی۔وزیر اعلی بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو اوران کے کابینہ کے افراد کی موجودگی میں نئی جماعت کے قیام کا اعلان وزیر اعلی سیکریٹیریٹ میں ہوا۔کہا گیا ہے کہ یہ پارٹی بلوچستان کی سیاسی ایلیٹ اور عوام کا امتزاج ہے۔
مبصرین کا دعوی ہے کہ جن لوگوں نے یہ سیاسی جماعت بنا ئی وہ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہے ۔دراصل حالیہ مہینوں کے دوران بلوچستان میں بعض رونما ہونے واقعات کے تناظر میں امید کی جارہی تھی کہ کوئی نئی سیاسی پیش رفت سامنے آسکتی ہے ۔ دراصل یہ تاثر اس وقت حقیقت بنتا نظر آیا جب مسلم لیگ ن کی حکومت کا بلوچستان میں خاتمہ ہوگیا۔ سینٹ انتخابات میں بلوچستان کے آزاد اراکین نے جس طرح قومی سطح پر اپنی اہمیت منوائی اس کی مثال بھی ماضی میں ملنی مشکل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کی روایتی سیاسی پارٹیاں اب تک ایسی قابل رشک کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہیں جو بلوچستان کے عوام کو بالخصوص اور ملک کے دوسرے علاقوں میں رہنے والوں کو بالعموم مطمئن کر ڈالے۔
جو بھی بلوچستان کی نئی سیاسی پارٹی شکوک شبہات کو پھیلا رہا وہ جمہوریت کے اس بنیادی اصول کی خلاف وزری کررہا جس میں قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہر کسی کو سیاسی پارٹی بنانے کی آزادی ہے۔ سیاست میں نئی سوچ کے حامی حضرات اس پر خوش ہیں کہ ایک اور جماعت اپنا منشور لے کر بلوچستان کی سیاست میں ابھر کر سامنے آئی۔ ادھر نئی سیاسی جماعت نے نہ صرف آئندہ کا الیکشن لڑنے کا اعلا ن کیا بلکہ ان کے بعقول وہ اسی فورم سے بلوچستان کے آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کریں گے۔
یہ بھی دعوی کیا جارہا ہے کہ پارٹی کے نام کے حوالے سے نوجوانوں کی رائے کو اہمیت دی گئی۔
پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے اور منشور کو جلد پیش کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔یہ بھی بتایا گیا کہ اپریل کے آخر میں یا مئی کے آغاز میں پارٹی کے جنرل کونسل کا اجلاس ہوگا۔ جنرل کونسل کے اجلاس میں پارٹی کی منشور کی منظوری کے علاوہ عہدیداروں کا انتخاب بھی عمل لایا جائے گا۔ اس جنرل کونسل کے بعد الیکشن کمیشن میں پارٹی کو رجسٹر کیا جائے گا۔سینیٹر انوار الحق کاکڑ کو پارٹی کے مرکزی جبکہ سابق صوبائی وزیر میر شعیب نوشیروانی کو صوبائی سطح پر عبوری ترجمان سامنے آئے ہیں۔
پارٹی کے اراکین کے مطابق کو بلوچستان اب نئے دور میں داخل ہورہا اس کی وجہ یہ بتائی گی کہ بلوچستان کی سیاست کے جانے پہچانے نام یوسف عزیزمگسی، میر غوث بخش بزنجو، خان آف قلات اور نواب خیر بخش مری اس جماعت میں موجود ہونگے۔یہ دعوی بھی کیا جارہا کہ نئی جماعت بلوچستان میں وفاق کے لیے ایک حقیقی پارٹنر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گی۔
بلوچستان کا محل وقوع جس اہمیت کا حامل ہے اس صوبے کو اسی قدر نظر انداز کیا گیا۔ بلوچستان کے مسائل میں اضافے کرنے میں جہاں دیگر صوبوں کی سیاسی جماعتوں کا کردار رہا وہی خود صوبے کی سیاسی اشرافیہ بدترین غفلت کی مرتکب ہوئی۔ بلوچستان میں سیاسی شخصیات نے اپنی ذاتی اور گروہی مفادات کی تکمیل کو ہی اہمیت دی۔شائد ہی صوبے میں کبھی ایسا دور آیا جب اس سرزمین کے باسیوں کے مسائل حل کیے جاتے۔
بلوچستان کی سیاسی اشرافیہ کو خوداحتسابی سے کام لینا ہوگا۔ دوسروں پر ناکامیوں کا بوجھ ڈالنے کی بجائے کھلے دل ودماغ سے اپنی کو تاہیوں کا اعتراف کرنا چاہے۔ درحقیقت پاکستان بدل رہا ہے ، سیاست ، سماج اور معیشت میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہورہیں۔ سی پیک کی شکل میں پاکستان اور سب سے بڑھ کر بلوچستان کے باسیوں کو موقعہ ملا کہ وہ اپنی قسمت سنوار لیں۔ ماضی کے تلخ تجربات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ یقین سے کہنا مشکل ہورہا کہ اب بلوچستان کی سیاسی ومذہبی قیادت زمہ داری کا مظاہرہ کریں گی۔ بلوچستان کی مذہبی قوتیں بھی اپنی افادیت سامنے نہیں لاسکیں۔ عام آدمی کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے جہاںقوم پرست جماعتوں نے قابل رشک کارکردگی کا مظاہر ہ نہیں کیا وہی مذہبی قیادت بھی اگر مگر چونکہ چنانچہ سے ہی کام لیتی رہی۔
بلوچستان میں نئی سیاسی جماعت بنے کے نتیجہ میں اب مقابلے کی فضا بہتر ہوگی۔ صوبائی حکومت کے اب زیادہ دن نہیں رہ گے، امید یہی کی جارہی کہ سیاسی طور پر مضبوط ہونے کے باوجود اپوزیشن جماعتیں بلوچستان عوامی پارٹی کو ٹف ٹائم دیں گی۔ بلوچستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کو فوری طور پر بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہی وہ سسٹم ہے جس کی روشنی میں لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونگے ۔ تاحال واضح نہیں کہ نئی سیاسی جماعت کے لوگ لوکل باڈیز سسٹم کے کس قدر حامی ہیں مگر توقع یہی کی جارہی کہ جلد یا بدیر انھیں اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑے گی۔
یقینا اس تاثر کو ختم کرنا ہوگا کہ بلوچستان عوامی پارٹی بنانے میں بعض قومی ادارے کردار ادا کررہے۔ ہم باخوبی جانتے ہیںکہ ایسے شکوک وشبہات پھیلا کر علاقائی اور عالمی سطح پر مخصوص پیغام دیا جاتا ہے جو کسی طور پر ملک وملت کے لیے اچھا نہیں۔ اہل سیاست کو پختہ سوچ کا حامل اسی وقت کہا جاسکتا ہے جب وہ آگے بڑھنے کے لیے الزام تراشیاںکرنے کی بجائے اپنی کارکردگی بڑھانے کی جانب توجہ دیں۔

Scroll To Top