دعا ۔۔۔ سازش کی کامیابی کی 08-02-2013

جو حکمران ٹولہ گزشتہ ایک تہائی صدی سے ملک کی تقدیر کا بلا شرکتِ غیر مالک بنا ہوا ہے اسے ڈر ہے کہ کہیںکچھ ایسا نہ ہوجائے کہ تخت و تاج ان سے چھن جائیں۔ چنانچہ اس حکمران ٹولے نے واویلا مچایا ہوا ہے کہ عام انتخابات کو ملتوی کرانے اور طویل المدتی نگراں حکومت قائم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔اپنے طے شدہ مشترکہ منصوبے کے مطابق اپنے مقرر کردہ الیکشن کمیشن کے تحت انتخابات کرا کر دوبارہ اقتدار پر قابض ہونے کی اس حکمران ٹولے کے مختلف دھڑوں کو اتنی جلدی ہے کہ انہیں مشرق و مغرب اور شمال و جنوب سے آنے والے ہوا کے ہر تیز جھونکے سے سازش کی بُو آرہی ہے۔
گزشتہ روز تحریک انصاف کا ایک وفد علامہ طاہر القادری سے ملنے گیا اور بعد میں مشترکہ پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن کی موجودہ ہیئت پر عدم اطمینان کا ا ظہار کیا گیا تو مسلم لیگ (ن)کے ایک توپچی احسن اقبال نے فوراً گولہ باری شروع کردی۔ موصوف نے فرمایا ہے کہ نادیدہ قوتوں کے اشارے پر انتخابات ملتوی کرانے کے متمنی عناصر اکٹھے ہورہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)کے لیڈر اور ترجمان ` نادیدہ قوتوں کی نشاندہی اس انداز میں کرتے ہیں کہ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہ رہے کہ ان کا اشارہ فوج کی طرف ہے۔ کم ازکم بیش یہی حکمت عملی اقتدار پر قابض دوسرے ٹولے یعنی مفاہمتی اتحاد نے اختیار کررکھی ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ پی پی پی کی قیادت جمہوریت کی راہ میں دی جانے والی شہادتوں کا راگ الاپنا نہیں بھولتی۔ عین ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں تو قیر صادق اور موسیٰ گیلانی کی شہادتیں بھی اس فہرست میں شامل ہوجائیں۔
عوام پریشان اس بات پر ہیں کہ ایک تہائی صدی سے حکومت پر قابض یہ تمام سیاسی دھڑے کس تبدیلی کی بات کررہے ہیں۔ 1980ءکی دہائی سے لے کر اب تک کوئی بھی سیاسی چہرہ ایسا نہیں جو موجودہ حکمران دھڑوں میں دکھائی نہیں دے رہا۔ مسلم لیگ (ن)نے تو جنم ہی ” دور ِضیاء“ کی کوکھ سے لیا تھا۔ مسلم لیگ (ق)” دور ِمشرف“ کی پیداوار ہے۔ اور پی پی پی بھی اب یہ نہیں کہہ سکتی کہ جنرل اس پر مہربان نہیں رہے۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ سے لے کر جنرل کیانی تک پی پی پی کے اقتدار کا تحفظ جنرلز نے ہی کیا ہے۔
اب کیا ہوگا ؟
کیایہ حکمران ٹولہ پھر اقتدار پر اپنا قبضہ جمالے گا۔؟
یا پھر عوام کی صفوں سے بلند ہونے والی یہ دعا عرش تک پہنچ کر شرفِ قبولیت پالے گی کہ ” اے رب ِ رحیم و کریم ۔۔۔ ہمارے گناہ معاف کر۔۔۔ اگر کہیں کوئی سازش اس حکمران ٹولے سے جا ن چھڑانے کی ہورہی ہے تو اسے کامیابی سے ہمکنار کر۔۔۔!“

kal-ki-baat

Scroll To Top