نظریاتی میاں صاحب کو انگوٹھے لگانے والے عوام بے حد پسند ہیں اور انگلی اٹھانے والے امپائروں کو وہ خونخوار نظروں سے دیکھتے ہیں۔۔۔

جہالت کے لئے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔اور یہ بات بھی لازمی نہیں کہ اگر کوئی شخص باکمال چور ہو تو وہ جاہل نہیں ہوگا۔۔۔ جہالت کی اپنی علامتیں اور اپنی خصوصیات ہیں۔۔۔ اور جاہل کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ خود علم حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ` سنی سنائی باتوں سے استفادہ کرتا رہتاہے۔۔۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں نوازشریف نے اپنے خاندان میں دولت کے انبار لگا ڈالے ہیں جس کے لئے انہوں نے بڑے بڑے کمالات کا مظاہرہ کیا ہوگا مگر بنیادی طور پر وہ ذہانت کی اس سطح سے اوپر نہیں جاسکے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی۔۔۔ یعنی انہو ں نے علم کی دولت کو اپنے آپ سے دور رکھا ہے۔۔۔
اس بات کا ثبوت وہ دوبیانیے ہیں۔۔۔ دو جملے ہیں جو وہ اپنے دفاع میں بڑے فخر کے ساتھ اپنی تقاریر میں شامل کیا کرتے ہیں۔۔۔ ایک بیانیہ تو اس قدر باکمال ہے کہ جو شخص زندگی بھر نہ ہنسا ہو اس کی بھی ہنسی چھوٹ جاتی ہوگی۔۔۔
اور وہ بیانیہ ہے۔۔۔ ” میں اب نظریاتی ہوگیا ہوں۔۔۔“
اس بیانیے کی وضاحت وہ یوں کیا کرتے ہیں ”ویسے نظریاتی تو میں پہلے بھی تھا مگر اب سو فیصد نظریاتی ہوں۔۔۔“
کسی نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ ” نظریہ “ ہوتا کیا ہے۔۔۔ آج کل وہ اپنے آپ کو نظریاتی اس لئے کہتے ہیں کہ محمود اچکزئی اپنے آپ کو نظریاتی کہتے ہیں۔۔۔ نجم سیٹھی اپنے آپ کو نظریاتی کہتے ہیں ` عاصمہ جہانگیر اپنے آپ کو نظریاتی کہا کرتی تھیں ` وہ خفیہ ذہن جس نے ختم نبوت کے قانون میں ترمیم لانے کی کوشش کی وہ بھی اپنے آپ کو نظریاتی کہتا ہوگا۔۔۔اب وہ اس شدت کے ساتھ ” نظریاتی“ ہوئے ہیں کہ اپنی گزشتہ ” اسلامی “ پہچان کا داغ دھونے کے لئے انہوں نے نریندر مودی کو جاتی عمرہ بلایا اور نہ صرف یہ کہ ایک مخصوص شہرت رکھنے والے بھارتی وزیراعظم کے ساتھ اپنی سالگرہ منائی بلکہ اسے اپنی نواسی کی شادی کی خوشیوں میں بھی شریک کیا۔۔۔
میاں نوازشریف کے نظریاتی ہوجانے کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بڑے سے بڑا واقعہ بھی ان کے ہونٹوں پر کلبوش سنگھ یادیو کا نام نہیں لاسکا۔۔۔
یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ پہلے نظریاتی نہیں تھے۔۔۔ وہ تحریک استقلا ل میں نظریاتی ہونے کی بناءپر ہی شامل ہوئے تھے۔۔۔ جب 1980ءمیں ایئر مارشل اصغر خان مرحوم کو نظر بند کیا گیا تو میاں صاحب نے بطور خاص انہیں پھولوںکا گلدستہ اس یقین دہانی کے ساتھ بھجوایا کہ ” میں تاحیات آپ کا ساتھ دوں گا اور آپ کے نقشِ قدم پر چلوں گا۔۔۔“
یہ بات مجھے ایئر مارشل صاحب نے خود بتائی تھی اور تحسین آمیز لہجے میں بتائی تھی۔۔۔
لیکن 1980ءکے آخر میں یا 1981ءکے آغاز میں جنرل جیلانی کی ” شفقت“ نے میاں صاحب کو اور زیادہ ” نظریاتی “ بنادیا اوروہ پنجاب کے ” نظریاتی “ وزیر خزانہ بن کر ابھرے۔۔۔
پھر ” اسلام “ ان کی رگ رگ میں ایسا سرایت ہوا کہ جنرل ضیاءالحق نے انہیں اپنا سیاسی وارث قرار دے دیا۔۔۔ میاں صاحب نے ” نظریاتی تشخص“ کی ایک نئی معراج پالی تھی۔۔۔
آسمان ان کے نظریات سے اس قدرخوش ہوا کہ اس نے ان کے گھرانے پر دولت کی بارش کردی۔۔۔ اور یہ بارش اب تک ہورہی ہے۔۔۔
دوسرا بیانیہ بھی میاں صاحب کا ” باکمال“ ہے۔۔۔
” میں کبھی امپائر کی انگلی کی طرف نہیں دیکھتا۔۔۔“
انہوں نے یہ بات عملی طور پر ثابت کردی ہے۔۔۔ امپائر نہیں ایک عرصے سے ” آﺅٹ“ قرار دے چکے ہیں۔۔۔ ایکشن ری پلے میں بھی وہ آﺅٹ ہی آﺅٹ پائے گئے ہیں لیکن انہوں نے امپائر کی انگلی کی طرف دیکھا تک نہیں اور کریز پر موجود ہیں۔۔۔
جہاں تک صرف انگوٹھوں کی طرف دیکھنے کا معاملہ ہے تو وہ بھی ایک باکمال بیانیہ ہے۔۔۔
آپ ایسے آجروں کے بارے میں جانتے ہوں گے جو اپنے اجیروں یعنی محنت کشوں سے انگوٹھے تو لگوا لیا کرتے ہیں مگر تنخواہ یا معاوضہ نہیں دیا کرتے۔۔۔
نظریاتی میاں صاحب کو انگوٹھے لگانے والے عوام بے حد پسند ہیں اور انگلی اٹھانے والے امپائروں کو وہ خونخوار نظروں سے دیکھتے ہیں۔۔۔

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top