فوج کا این آرا وسے کوئی لینا دینا نہیں

zaheer-babar-logo

بظاہر مسلم لیگ ن پوری منصوبہ بندی کے ساتھ یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہے کہ بعض اہم ملکی اداروں کی مرضی ومنشاءکے تحت کوئی نیا این آر او ہونے جارہا۔اس ضمن میں گذشتہ روز وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی درخواست پر چیف جٹس جناب ثاقب نثار سے ہونے ملاقات کو بھی پیش کیا جارہا ۔ حالیہ دنوں میں حکمران جماعت اور میڈیا میں ان کے ہم خیال حضرات بھی اس ایشو پرتبصرے اور تجزیہ پیش کررہے کہ آنے والے دنوں میں سابق وزیر اعظم ، ان کی صاحبزادی اور خاندان کے چند اور لوگ دس سال تک بیرون ملک جاسکتے ہیں۔
مذکورہ معاملے کو حال ہی میں سپہ سالار سے میڈیا سے وابستہ حضرات سے آف دی ریکارڈ سے بات چیت سے بھی جوڈ نے کی کوشش کی گی۔ اس پس منظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے آرمی چیف کی صحافیوں سے ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آنے والی ‘باجوہ ڈاکٹرائین’ کو صرف اور صرف سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جائے کیونکہ اس کا بنیادی مقصد پاکستان کو امن کی طرف لے جانا ہے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ‘کئی صحافیوں نے درخواست کی تھی کہ وہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملنا چاہتے ہیں جس کے بعد اس ملاقات کا انتظام کیا گیا اور یہ بات چیت نہایت خوشگوار ماحول میں تین، ساڑھے تین گھنٹے جاری رہی جو کہ آف دا ریکارڈ تھی۔ لیکن اس ملاقات کے بعد جو کچھ بھی میڈیا پر آیا ہے اسے پوری ملاقات کے سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہیے۔’
میجر جنرل آصف غفور کا موقف تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی ‘ڈاکٹرائین کا مقصد پاکستان کو ویسا بنانا ہے جیسا وہ 9/11 سے پہلے تھا یا جیسا وہ پہلی افغان جنگ سے قبل تھا۔ اس ڈاکٹرائین کو صرف سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔’ آرمی چیف کی پنجاب کے وزیر اعلی سے ہونے والی گفتگو کے تناظر میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں جنرل آصف غفور نے کہا کہ آرمی کا این آر او سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ‘یہ معمول کی گفتگو کی تھی اور شہباز شریف نے آرمی چیف کو فون کر کے انھیں پاک افغان سرحد پر لگائے جانے والی باڑ کے لیے مالی مدد کی پیشکش کی تھی۔’ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ فاٹا کا مسئلہ حل ہونا ضروری ہے اور اس کا جلد از جلد مرکزی دھارے میں شامل ہونا ملک کے لیے بہتر ہوگا’۔ اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں جنرل آصف غفور نے کہا کہ فوج نے کبھی اس ترمیم کو برا نہیں کہا۔میجر جنرل آصف غفور کے بعقول کہ 1973میں بنائے جانے والا آئین اگر مکمل ہوتا تو 18ویں ترمیم کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن ہمارے سیاستدانوں نے دیکھا کہ حالات کی بہتری کے لیے اس کو لانا ضروری ہے اور اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ان کا حق ملا ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے۔۔۔۔“
ملکی سیاسی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو ہمہ وقت یہ دہائی دیتے ہوئے نہیں تھکتی کہ فوج کو سیاست میں نہیں آنا چاہے جبکہ دوسرے جانب کسی نہ کسی طرح یہ کوشش کی جاتی ہے کہ انھیں فوجی قیادت کے قریب آنے کا موقعہ ملے تاکہ وہ اس کے نتیجے میں اپنے مخصوص سیاسی مفادات حاصل کرسکے۔ حالیہ دنوں میں مسلم لیگ ن جس صورت حال کا شکار ہے اس کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شریف برداران گاجر اور چھڑی کی پالیسی پر کاربند ہیں ۔ شریف خاندان ایک طرف اپنے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمات کو جھوٹ قراردیتا ہے تو دوسری جانب ان مقدمات سے جان چھڑانے کے لیے بھی ہاتھ پاوں مار رہا۔
یقینا میاں نوازشریف اور شبہاز شریف اپنے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے الگ الگ حکمت عملی پرکاربند ہیں یعنی میاں نوازشریف قومی اداروں کے خلاف بھرپور محاذآرائی کررہے تو دوسری جانب شہبازشریف خود کو قابل قبول بنانے کے لیے ہر کام کرنے پر تیار ہیں۔
ہوسکتا کہ یہ سچ یہی ہو کہ ماضی کی طرح اس بار دونوں بھائیوں کی حکمت عملی کامیاب نہ ہونے پائے۔ آج پاکستان کا ہر باشعور شہری سمجھتا ہے کہ قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق شریف خاندان کے مقدمات کا فیصلہ ہونا چاہے۔ میاں نوازشریف اور اور ان کے خاندان کو کھل کر بتانا چاہے کہ انھوں نے لندن فیلٹ سمیت دنیا بھر میں اپنی جائیدادیں کب اور کیسے بنائیں۔ مسلم لیگ ن کے کرتا دھرتا لوگوں کو سمجھ لینا چاہے کہ پاک فوج ہو یا عدلیہ کوئی بھی انھیں خلاف قانون حمایت دینے کو تیار نہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ شریف فیملی کا صاف اور شفاف طریقہ سے ٹرائل کیا جارہا۔ سوال یہ ہے کہ اگر میاں نوازشریف ،ان کے بچے یا شہبازشریف کے خاندان نے کوئی بدعنوانی نہیں کی تو انھیں کھلے دل ودماغ سے مقدمات کا سامنا کرنا چاہے۔ مقام شکر ہے کہ مسلح افواج ہوں یا عدلیہ ہر کسی نے اپنی پوزشین واضح کر چھوڈی۔ قومی سیاست کی تاریخ سے آگاہ حضرات باخوبی جانتے ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مشکل سے مشکل تر ہورہا کہ شریف خاندان کوئی حربہ استمال کرکے موجودہ قانونی کاروائی سے بچ جانے میں کامیاب ہوجائے۔

Scroll To Top