ہمارے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ ہم ریاستِ مدینہ کے وارث ہیں۔۔۔

aaj-ki-baat-new” میں نہال ہاشمی کی جگہ ہوتا تو شرم سے ڈوب مرتا“

یہ الفاظ آج پوری قوم کے کانوں میں گونج رہے ہیں۔۔۔ ان الفاظ میں اس بدنصیب قوم کی داستان لکھی ہوئی ہے ۔۔۔ یہ الفاظ درحقیقت وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی یا ان کے پیش رو کو ادا کرنے چاہئیں تھے لیکن قوم کے اجتماعی ضمیر پر پڑے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے یہ الفاظ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے جج کو ادا کرنے پڑے ہیں۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ الفاظ ادا کرتے وقت وہ دراصل میاںنوازشریف سے مخاطب تھے اور اُن سے پوچھ رہے تھے۔۔۔ ” تم ہر روز یہ سوال کرتے ہو کہ مجھے کیوں نکالا۔۔۔ کیا اِس مکروہ شخص کی مکروہ زبان تمہارے سوال کا جواب نہیں۔۔۔؟ اگر اِس مکروہ شخص کی مکروہ زبان سے ادا ہونے والے مکروہ الفاظ سننے کے بعد تم شرم سے ڈوب مرے ہوتے تو یہ عدالت تمہاری عاقبت سنوارنے کے لئے تمہیں تمام پچھلے گناہوں سے بری الذمہ قرار دے دیتی۔۔۔ او ر تمہاری قبر پر یہ کتبہ نصب کراتی۔۔۔ یہاں اِس قوم کا وہ عظیم فرزند دفن ہے جو اپنے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لئے شرم سے ڈوب مرا تھا۔۔۔“
جناب چیف جسٹس صاحب۔۔۔ یہ پوری قوم آپ کی شکر گزار رہے کہ آپ نے اسے یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اگر کسی فرد یا کسی معاشرے میں اپنے گناہوں پر ندامت کا احساس پیدا ہوجائے تو اللہ کریم کی رحمانی اور رحیمی جوش میں آسکتی ہے۔۔۔
ہمارے پاس شرم سے ڈوب مرنے کے لئے بہت سارے اسباب موجود ہیں۔۔۔
قصور والی بدنصیب معصوم بچی زینب والا واقعہ بھی ڈوب مرنے کا احساس پیدا کرنے والا تھا۔۔۔ ڈاکٹر شاہد مسعود بچارے میںیہ احساس کچھ زیادہ شدت کے ساتھ پیدا ہوا جس کے نتائج کا آپ کو علم ہے۔۔۔
شرم سے ڈوب مرنے کے احساس کو جگانے کے لئے ظالموں نے نیا سامان پیدا کردیا ہے۔۔۔ جڑانوالہ میں بچوں کے ساتھ درندگی کا سلوک کرنے اور پھر حیوانیت کے مناظر کی وڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرنے اور ان کی تجارت کرنے والے انسان نما جانوروں نے اگر کسی کے دل میں شرم سے ڈوب مرنے کی طلب پیدا نہیں کی تو میں اسے بھی قوم کی بدنصیبی قرار دوں گا۔۔۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں علاج سے محروم رہ کر مرجانے والے بدنصیبوں کا ذکر کیوں نہیں کررہا۔۔۔؟ میں اُن کروڑوں ہم وطنوں کا تذکرہ کیوں نہیں کررہا جو گندا کثافت آمیز پانی پی کر شب وروز مہلک بیماریوں کو دعوت دیتے رہنے پر مجبور ہیں ؟ میں اُس شرمناک فرق کی بات کیوں نہیں کررہا جو جاتی عمرہ کے مکینوں اور گندگی کے ڈھیروں سے اپنی خوراک تلاش کرنے والے ” عوام “ کے معیارِ زندگی میں ہے۔۔۔؟“
آپ ٹھیک سوچ رہے ہیں۔۔۔ ہمارے حکمرانوں نے ہمارے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا سامان اتنی فراخدلی اور فراوانی سے پیدا کیا ہے کہ اگر ہم اب بھی زندگی کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ وہ بے حسی ہے جو ہمارے اندر اپنے ” ایمانی ورثے“ سے آنکھیں بند کرلینے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔۔۔
ہم بھول گئے ہیں کہ ہم اس مقدّس عہد کے وارث اور امین ہیں جو بابائے قوم نے کیا تھا۔۔۔ یہ عہد کوئی لمبا چوڑا نہیں تھا۔۔۔ ایک جملے میں مقّید تھا۔۔۔
” ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت کے قیام کی تجربہ گاہ بنائیں گے۔۔۔“
بابائے قوم کا یہ عہد دراصل اُس عظیم ” ایمانی ورثے“ کا عکاس تھا جس کی جڑیں صدیوں دور تک ساتویں صدی کے مدینہ میں جا پہنچتی ہیں ۔۔۔
بابائے قوم کی چشم تصور کے سامنے ” ریاستِ مدینہ “ تھی۔۔۔
ہمارے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ ہم ریاستِ مدینہ کے وارث ہیں۔۔۔

Scroll To Top