ایم کیوایم سرخرو ہوگی ؟

zaheer-babar-logoڈاکٹر فاروق ستار کا ایم کیوایم کا کنوینر نہ رہنا ایسا حیران کن بھی نہیں۔ایم کیوایم بہادر آباد گروپ کا موقف الیکشن کمیشن میں تسلیم کیا جاچکا جس کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار پارٹی کے کنوینر نہیں رہے۔ گذشتہ سال 22 اور 23 اگست کی شب جو کچھ ہوا اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات سے ایم کیوایم تاحال نہیں سنھل سکی۔ بعض باخبر حلقوں کا یہ دعوی سچ ثابت ہوا کہ اس پارٹی کو بانی جماعت نے ڈنڈے کے زور پر قائم رکھا گیا تھا چنانچہ جب وہ آمرانہ کردار ایم کیوایم سے رخصت ہوا تو پارٹی بھی باقی نہ رہی۔ بانی ایم کیوایم کا طرز سیاست جمہوریت سے کہیں بڑھ کر فسطائیت کے قریب تھا۔ برطانیہ شہریت پر فخر کرنے والے الطاف حسین نے پارٹی کو بدترین آمرانہ ہتکھنڈوں سے چلایا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے نمایاں نام بھی نہیں سمجھ پارہے کہ اب پارٹی چلانے کی زمہ داری ان کے سر آن پڑی۔ ایک خیال یہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی صفوں میںمذید انتشار پیدا ہونا خارج ازمکان نہیںمگر یہ بھی امید کی جارہی کہ سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ پارٹی جلد یا بدیر اس صورت حال پر قابوپا لے گی۔ ایم کیوایم کے قائدین باخوبی سمجھ رہے کہ اگر وہ اپنے ہاں پائے جانے والے اختلافات کو پرامن انداز میں حل کرنے میں کامیاب نہیں ہونگے تو ان کی سیاسی بقا ممکن نہیں۔ سیاسی بالغ نظری کا تقاضا ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں سیاسی طور پر متحد اور متحرک رہا جائے۔
گزرے ماہ سال پر نظر ڈالیں تو ٰاس سچائی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ایم کیو ایم نے کراچی، سندھ حتی کہ سب سے زیادہ نقصان اردو بولنے والی آبادی کو پہنچایا ۔ اعداد وشمار بتا رہے کہ ایم کیو ایم نے گذشتہ ساڑے تین دہائیوں کے دوران پشتونوں کے بعد سب سے زیادہ اردو بولنے والے اپنے مخالفیں کو ہی ملیا میٹ کیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح ہٹلر نے اپنے مخالف جرمن اور مسولینی نے اپنے مخالف اطالویوں کو سب سے زیادہ مروایا ۔ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران ایم کیو ایم نے اقتدارکے بے شمار مزے لوٹے ہیں اور کراچی میں دہشت کے ذریعے اپنی سیاست اور طاقت کو زندہ رکھا لیکن دیکھا جائے تو اس طرز سیاست نے اردو بولنے والے لوگوں کی نسلوں کو ایسی مہلک ضرب لگائی جس سے باہر آنے کے لیے کئی دہائیاں درکار ہوں گیں۔
مقام شکر ہے کہ اردو بولنے والوں کے سوچنے سمجھنے والے حلقے صورت حال کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ۔ مسقبل قریب میں یہ امید کرنا غلط نہ ہوگا کہ بہتر حکمت عملی سامنے آنا سکتی ہے جس کے نتیجے میں ایک طرف سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل حل ہوں تو دوسری جانب کراچی میں سیاسی عمل بھی جاری وساری رہے۔
یقینا آج اردو بولنے والی آبادی سمجھ رہی کہ ان کے مستقل جائز مفادات سندھ اور سندھیوں سے منسلک ہیں یعنی سندھ کی تقسیم کا خیال انہیں مزید تنہائی اور سیاسی بحران کی دلدل میں گرانے کا باعث بنے گا۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ سندھیوں کی اکثریت انہیں نہ صرف اپنانا چاہتی ہے بلکہ ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، شائد یہ سندھ کا روادارانہ اور صوفیانہ مزاج ہے کہ ایک ثقافتی اور لسانی اقلیت کو دوسروں سے الگ ہونے کا گمراہ کن راستہ دکھایا گیا ہے تو دوسری جانب اکثریت یعنی سندھی انہیں مستقل طور پر اپنانا چاہتے ہیں اور اس عملی طور پر ثبوت بھی پیش کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ موجودہ صدی نسلی، لسانی یا مخصوصی ثقافتی دائروں میں قید پر مبنی معاشروں کی صدی نہیں۔ جدید معاشرہ کثیر الجہت ہے ۔ یقینا یکسانیت پر مبنی معاشروں کا تصور زرعی اور جاگیردارانہ سوچ کا آئینہ دار ہے۔ کراچی ہی نہیں ملک بھر کے باسیوں کو جائز مستقل مفادات کے تحفظ کے لیے رواجی سوچوں کے دائروں سے باہر آنا چاہے لہذا ایم کیوایم اب جس شکل میں سامنے آئے غالب امکان ہے کہ وہ ماضی کے ان داغوں کو دھونے کی کوشش کریں گی جو اس پر لگے یا لگا دئیے گے۔
حال ہی میں کراچی میں پی ایس ایل کے فائنل میں شہریوں کاجوش وخروش بتارہا کہ وہ نفرت اور تعصب کی سیاست سے کس حد تک بیزار ہوچکے۔ کراچی آج حقیقت معنوں میں روشنیوں کا شہر بن رہا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بانی پاکستان سے منسوب اس شہر میں وہی سیاسی قوت اپنا حلقہ اثر برقرار یا بڑھا سکی گی جو لسانیت نہیں پاکستانیت کی بات کریں گی۔
ادھر ملک کی سب ہی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ نادر موقعہ ہے کہ وہ اہل کراچی کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے آگے بڑھے۔شہر میں آنے والی اس تبدیلی کو مثبت سمت اسی صورت دی جاسکتی ہے جب اس میں ماضی کی کسی بھی خرابی کا شائبہ تک موجود نہ ہو۔ کراچی کے ساتھ تین دہائیوں سے لے کر اب تک کیا ہوتا رہا اور کیوں ہوتا رہا اس پر غور وخوص کا سلسلہ جاری رہنا چاہے مگر مسقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کا کام بھی کسی صورت بند نہیں ہو۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ کراچی میں جاری تشدد میں جو سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ جانوں سے گے ان کا حساب کون لے گا۔ یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ کوئی بھی مہذب ریاست شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کی بنیادی زمہ داریوں سے پہلو تہی نہیں کرسکتی مگر افسوس کہ ماضی اور حال کی سندھ حکومت اپنے اس بنیادی فرض کی ادائیگی میں ناکام رہی۔

Scroll To Top