پاکستانی بزرگ جوڑے کا شام کے علاقے غوطہ کا آنکھوں دیکھا حال

iپانی نہ ہونے کے باعث کئی کئی ماہ نہیں نہائے پتے کھا کر گزارا کیا، محمد فضل اکرم فوٹو: اے ایف پی

شام کے علاقے غوطہ سے زندہ بچ نکلنے والے پاکستانی جوڑے نے بتایا کہ انہوں نے وہاں موت کا راج اور بھوک کی ہولناکیاں دیکھیں جسے وہ اب تک بھول نہیں سکے۔

شامی فورسز نے طویل عرصے سے غوطہ کا محاصرہ کر رکھا ہے جس کے باعث وہاں بڑی تعداد میں لوگ خوراک اور پینے کے پانی کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کے متلاشی ہیں۔ محمد فضل اکرم 1974 میں شام جاکر بس گئے تھے۔ ان کی دو بیویاں تھیں، جن میں سے ایک ان کی پاکستانی کزن اور دوسری کا تعلق شام ہی سے تھا جو اب نہیں رہی۔

محمد فضل اکرم نے بتایا کہ انہوں نے غوطہ کے اسپتال میں ننھی بچی کو دیکھا جو اپنے اعضاء سے محروم ہوگئی تھی، پورے علاقے میں ہر طرف بری طرح زخمی لوگ دیکھے، کئی مقامات پر ملبے تلے انسانی لاشیں گلتی سڑتی نظر آئیں، اسپتال میں بازوؤں اور ٹانگوں کے بغیر پڑی اس بچی کو آج تک نہیں بھول سکا، میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ کبھی کسی کو یہ مناظر نہ دکھائے، کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کون قتل کر رہا ہے اور کون قاتل نہیں، آسمان سے بموں کی شکل میں مسلسل آگ برس رہی تھی، صرف اتنا پتہ تھا کہ ہمارا شہر لٹ رہا ہے اور برباد ہو رہا ہے۔

اکرم نے بتایا کہ ایک بیٹا 2013ء میں جنگ میں مارا گیا، پھر شہر میں غیر ملکی عسکریت پسند آ گئے تو ان کے دو بیٹے عسکریت پسند تنظیم میں شامل ہوگئے، میری شامی اہلیہ ربع جرد بیٹے کی موت کا دکھ برداشت نہ کر سکیں اور دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئیں، 2015ء میں جب میں نے غوطہ سے نکلنے کی کوشش کی تو مسلح گروپوں اور حکومتی فورسز نے ہم پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے ہم شہر سے نہ نکل سکے، رفتہ رفتہ غوطہ کی تمام آبادی ختم ہوتی گئی، کچھ لوگ ہجرت کرگئے تو کچھ مارے گئے، بڑھتی ہوئی محرومی کی وجہ سے آبادی میں بھی دوریاں بڑھ گئیں، کچرے سے کھانا اور جلانے کے لیے ایندھن چنتے تھے، پانی نہ ہونے کے باعث کئی کئی ماہ نہیں نہائے، وہاں نمک چینی پتی کچھ نہیں تھا، پتے کھا کر گزارا کیا۔

انہوں نے اپنے پیٹ پر اپنڈکس کا آپریشن کے دوران پڑنے والے زخم کا نشان دکھایا۔ انستھیسیا نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بے ہوش کیے بغیر ایسے کلینک میں آپریشن کیا گیا جہاں دوا تھا نہ ڈاکٹر۔ غوطہ میں کسی صحافی نے انہیں دیکھا تو پاکستانی سفارتخانے کو اطلاع کی جس کی کوششوں سے انہیں وہاں سے نکالا گیا۔ انخلا کے دوران جنگی جہاز ان کے سروں پر پرواز کرتے رہے اور پیچھے چھوڑے گئے ان کے گھر پر میزائل داغ کر اسے ملبے کا ڈھیر بنادیا۔

ان کی اہلیہ صغراں بی بی نے بتایا کہ ہمیں وہاں سے زندہ بچ نکلنے کا یقین نہ تھا، اتنی کمزوری تھی کہ چل نہیں سکتے تھے، امید دم توڑ چکی تھی، سفارت خانے میں پاکستانی حکام نے کھانا کھلایا تو نقاہت کی وجہ سے کھایا نہیں گیا، پھر آہستہ آہستہ جان میں جان آنا شروع ہوئی۔

اکرم روتے ہوئے بولے کہ میں بہت افسردہ ہوں، اپنی 40 سال کی محنت پیچھے چھوڑ آیا، گھر بار، پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں جو میری ٹانگوں سے لپٹ جاتے تھے، صغراں بی بی نے بتایا کہ ایک بار سفارتخانے میں ایک بچہ ان کی نواسی کی طرح ان کی ٹانگوں سے لپٹ گیا تو غم کے مارے یوں لگا جیسے دل کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی، ہم اپنے بچوں کو چھوڑ کر غوطہ سے نہیں نکلنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے منتیں کرکے اور خدا کے واسطے دے کر ہمیں جانے کو کہا تھا۔

غوطہ سے ہزاروں میل دور بھی جنگ کی ہولناکیاں آج بھی انہیں ڈراتی ہیں۔ موٹرسائیکل کا شور انہیں جنگی جہاز کی گھن گرج لگتا ہے، دروازہ زور سے بند ہو تو ڈر جاتے ہیں جیسے بم دھماکا ہو۔ بھتیجے محمد عرفان نے بتایا کہ یہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں۔

اے ایف پی کو انٹرویو سے تین روز قبل اکرم کسی طرح اپنے بچے سے فون پر رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئے تھےجس نے بتایا کہ حالات مزید خراب ہوگئے ہیں، شاید آئندہ ہماری بات نہ ہوسکے۔

Scroll To Top