ڈپریشن کی ادویہ سے دل کی دھڑکن میں خرابی کا امکان، تحقیق

kڈپریشن کے مریض دل کی دھڑکن کی خرابی کے مرض میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔ فوٹو : فائل

نیو اور لینز: ڈپریشن کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویہ دل کی دھڑکنوں میں بے ترتیبی اور دل کے عضلات کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔

نیو اورلینز میں 20 سے 23 مارچ کے دوران منعقد ہونے والی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی کانفرنس میں پیش کیے گئے ایک مقالے میں بتایا گیا ہے کہ افسردگی کے باعث دل کے عضلات کی حرکات بے ترتیب ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے دل کی دھڑکن کی رفتار پر اثر پڑتا ہے اور دل معمول کی کارکردگی بہتر طریقے سے انجام نہیں دے پاتا۔ دل کی دھڑکن کی اس بے ترتیبی اور رفتار میں پیدا ہونے والی خرابی کو Atrial Fibrillation  کہا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا میں 6644 مریضوں پر ڈپریشن کے مرض اور اینٹی ڈپریسنٹ دواؤں کے دل کی دھڑکن سے تعلق کا 13 سال تک مطالعہ کیا گیا جس سے پتا چلا کہ ڈپریشن کے مرض میں مبتلا افراد اور ڈپریشن کی دوا استعمال کرنے والے مریضوں کے دل کی دھڑکنوں میں بے ترتیبی پیدا ہونے کے خطرات کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

تحقیقی مقالے میں انتباہ کیا گیا ہے کہ ڈپریشن کی دوائیں عضلات پر اثر انداز ہوتی ہیں اور بلا تفریق دل کے پٹھوں میں موجود عضلاتی ریشوں کو بھی متاثر کرتی ہیں جس کی وجہ سے دل کے عضلات بوجھل ہوکر معمول کی حرکت نہیں کرپاتے۔ بالخصوص دل کے اوپری چیمبرز (ایٹریم) کے عضلات پر اثر انداز ہوتے ہیں جس سے دل کی دھڑکن بے قابو ہو جاتی ہے۔ بے ترتیب اور بے قابو دل کی دھڑکن سے خون درست طریقے سے پمپ نہیں ہو پاتا۔

تحقیقی مقالے میں ڈپریشن کے مریضوں کے علاج کے دوران ماہرین نفسیات کو دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی پر نظر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے اور اگر کسی ذہنی مریض میں ادویہ کے استعمال سے دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی میں مبتلا ہوجائے تو ایسے شخص کو ماہر امراض قلب کو ریفر کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ اینٹی ڈپریسنٹ دواؤں کے بہت سے منفی اثرات پہلے بھی سامنے آچکے ہیں اور معلوم ہوچکا ہے کہ وہ لوگ جو ڈپریشن ختم کرنے والی دواؤں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں خودکشی کا رجحان بھی بڑھ جاتا ہے۔

Scroll To Top